Thursday, November 4, 2010

Eeman Afroz Mazameen . Muhammad Shareef ,Nagpur







تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے







اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی معرفت کے لئے پیدا کیا ہے اور قرآن پاک اللہ کی معرفت کی کتاب ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے : وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ۔ ترجمہ : ’’ ہم نے نہیں پیدا کیا جن اور انسان کو مگر اپنی عبادت کے لئے ‘‘۔ اس کے بارے میں مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ لیعبدون کا مطلب لیعرفون ہے یعنی تاکہ معرفت حاصل کریں۔

انسان کا کام ہے کہ اللہ کی صفات میں غور کریں اور دیکھیں کہ وہ اپنی صفات میں کیسا ہے؟ مثلاً ایک صفت اللہ کی یہ ہے کہ وہ رب ہے۔ غور کریں کہ اس کا نظام ربوبیت کیسا عجیب وغریب ہے۔ اللہ کی ایک چھوٹی سی مخلوق اور انسان کے نزدیک اتنی حقیر ہے کہ اگر ہاتھ لگ جائے تو اسے مسل کر ختم کر ڈالے۔ اتنی چھوٹی جسامت کہ انسان اس کے تمام اعضاء کو اپنی برہنہ آنکھوں سے دیکھ بھی نہیں سکتا جب تک کہ خوردبین کا استعمال نہ کرے۔ وہ مچھر ہے ، لیکن دیکھئے کہ اللہ نے اس حقیر مخلوق کو ہزاروں انسانوں کی روزی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ مجھے نہ کاٹے اسی کے لئے کتنی انڈسٹریز چل رہی ہے۔ مچھر دانیاں بننے کے کارخانے ، مختلف قسم کی جلانے والی ایسی اگربتیاں کہ ان کے دھویں سے مچھر بھاگ جائے۔ ایسی ٹکیا جو بجلی سے گرم ہو کر مچھروں کو مارنے والا دھواں پیدا کریں۔ اور ایسے مائعات جن کے بخارات مچھروں کو ختم کردیں۔ یہ سب کارخانے مچھر کی وجہ سے چل رہے ہیں جن میں ہزاروں لوگ کام کرکے اپنی روزی حاصل کررہیں ہیں۔ یہ نظام ربوبیت ہے۔ اسی طرح اگر ی مچھر کاٹ ہی لے تو مختلف قسم کی بیماریاں جیسے ملیریا ، ڈینگو، چکن گنیا ظاہر ہوتی ہیں۔ جو کتنے ڈاکٹرس اور اسپتال میں کام کرنے والے اسٹاف کی روزی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ پھر ان بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی کتنی صنعتیں ، فیکٹریاں ہیں اور ان میں کام کرنے والے سیکڑوں ، ہزاروں لوگ ہیں جو اس حقیر مچھر کی وجہ سے روزی حاصل کرتے ہیں۔ اور انسان مچھر سے اپنی روزی حاصل کررہا ہے۔


اس سے آگے بڑھئے تو دوسری بیماریوں پر بھی غور فرمالیجئے۔کتنی ایسی بیماریاں ہیں جو مچھر سے بھی چھوٹی مخلوق ، جس کو انسان دیکھ بھی نہیں سکتا ، وائرس اور بیکٹریا سے پیداہوتی ہیں۔ وہ اپنی روزی حاصل کرتے ہیں اور انسان بیمار ہوکر کتنوں کی روزی کا ذریعہ بنتا ہے۔ تمام ڈاکٹرس ، اور اسپتالوں میں کام کرنے والے تمام لوگ اور دوائیوں کی فیکٹریوں اور عمل جراحی یا بیماریوں کی شناخت میں استعمال ہونے والے تمام آلات اور مشینوں کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے تمام لوگ بیماریوں ہی کے سبب سے اپنا رزق پاتے ہیں۔


یہی وہ اللہ ہے جس نے اپنا تعارف کرایا : ان اللہ ھوالرزاق ذوا لقوۃ المتین۔ ترجمہ : ’’ یقینا وہی اللہ ہے جو رزق پہنچانے والا ، بڑی زبردست قوت والا ہے ‘‘۔


ھو ربنا ورب کل شئی وہ ہمارا اور تمام چیزوں کا پالنہار ہے۔ اس کے سامنے اپنا سر جھکادو اور مسلمان ہوجاؤ۔ یعنی اللہ کے فرمانبردار ہوجاؤ کہ حقیقی مسلمان ہونا یہی ہے۔




پھر ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مصیبت میں ڈال کر دوسری مخلوق کو روزی پہنچائی۔ بلکہ بیماری میں انسان کو روحانی غذا ملتی ہے۔ آدمی جب بیمار ہوتا ہے تو وہ اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔ دعا اور استغفار کے ذریعہ اللہ کے قریب ہوجاتا ہے۔ بغیر توجہ کے بھی بیماری میں اللہ کی طرف سے گناہوں کی معافی کا وعدہ ہے۔ اگر وہ اپنی بیماری کی وجہ سے کچھ اعمال کو نہ کر سکے تو صحت کے زمانہ میں جو اعمال کیا کرتا تھا اس کا اجر بغیر کئے ہی اللہ تعالیٰ اس کو مرحمت فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے حضور ؐ سے بخار کی فضیلت سنی کہ بخار میں پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں تو انہوں نے اللہ سے دعا مانگ لی کہ اے اللہ مجھے ایسا بخار دے جو موت تک میرا پچھا نہ چھوڑے مگر اس طرح کہ بخار کی وجہ سے میرے کاموں میں حرج نہ ہو چنانچہ صحابہ کرام نے دیکھا کہ وہ صحابی زندگی بھر بخار میں رہے جب بھی انہیں کوئی ہاتھ لگاتا ان کا بدن بخار میں جلتا ہوا پاتا مگراس کی وجہ سے ان کا کوئی کام بھی نہ رکتا تھا۔ بیماری تو بیماری ہے مگر اللہ تعالیٰ ایساکریم ہے کہ بیمار کی بیمار پرسی کرنے والے کو بھی محروم نہیں کرتا۔ حدیث میں ہے کہ


جب کوئی شخص کسی بیمار مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو اگر صبح کو عیادت کرتا ہے تو شام تک ۷۰! ہزار فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کوعیادت کرتا ہے تو صبح تک ۷۰! ہزار فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔

پھر آیئے اللہ کی شان ربوبیت کی طرف۔ اللہ نے زمین کے تمام جانداروں کی رزق کی ذمہ داری اپنے اوپر لی ہے۔ فرمایا : وما من دآبۃٍ فی الارض الا علی اللہ رزقھا ۔ ’’ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کے رزق کی ذمہ داری اللہ پر نہ ہو ‘‘۔



دیکھئے اللہ رب العالمین کس شان سے اپنے بندوں کو روزی پہنچاتا ہے۔ ایک موچی (چمار) پر نظر ڈالئے اس کی چھوٹی سی دوکان جس میں چند پالش کی ڈبیاں، دوتین برش، چھٹاک دو چھٹاک کیلے، جوتوں کے لئے چند آلاتِ مرمت۔ مگر اسی مختصر سی دوکان سے اس کی ساری ضرورتیں پوری ہورہی ہے۔ اسی دوکان سے اس کے بیٹے ، بیٹیوں کی شادی ہورہی ہے ، اسی دوکان سے اس کا گھر بن رہا ہے، اسی دوکان سے زندگی کے تمام لوازمات پورے ہورہے ہیں۔ یہی اللہ ہے جو اس کی روزی کا انتظام فرمارہا ہے۔ بڑے بڑے کاروبار ، بڑے بڑے عہدے، منظم ذریعہ معاش یہ محض انسان کی ہوس ہے ورنہ اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتا ہے جہاں سے بندہ کو گمان بھی نہ ہو۔




ایک مرتبہ ایک صحابی رسول مقداد بن اسودؓ حاجت سے فراغت کے لئے مدینہ طیبہ سے باہر گئے ۔ قضاء حاجت کے لئے بیٹھے تھے کہ ایک چوھانمودار ہوا جس کے منھ میں چند اشرفیاں (سونے کے سکے) تھے وہ انہیں حضرت مقداد بن اسود کے سامنے لا کر ڈال گیا۔ پھر دوبارہ اور سہ بارہ اسی طرح کئی بار آکر اس نے اشرفیاں لا لا کر ڈالیں۔ آخر میں ایک خالی تھیلی بھی لاکر ڈال دی اور گویا اشارہ تھا کہ اب ختم ہے یا یہ اشارہ تھا کہ تھیلی میں ڈال کر لیجاؤ۔ انہوں نے گنا تو ۱۷! اشرفیاں تھیں۔ وہ انہیں وہیں چھوڑ کر حضور صلعم کے پاس گئے اور قصہ سنایا اور مسئلہ پوچھا تو حضور صلعم نے فرمایا کہ انہیں لے لو وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے۔




یہ ہے نظام ربوبیت اگر اللہ پر بندہ بھروسہ کرے تو گمان کے خلاف اللہ تعالیٰ روزی کا انتظام کرتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الرازقین
.


iiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii





للہیت اور نفسیات
vvvvvvvvvvvvvvvvvvvvvvvvv

آدمی کا ہر عمل یا تو للہیت کی بنیاد پر ہے یا نفسانیت کی بنیاد پر۔ ایک ہی عمل میں للہیت بھی ہو اور نفسانیت بھی ہو یہ ممکن نہیں ہے یہ گویا ضد ین کا اجتماع ہے جونا ممکن ہے۔ اور یہ بات بھی خوب ذہن میں رکھنے کی ہے کہ قابل قبول عمل وہی ہے جو صرف اللہ کے لئے کیا جائے۔ جو عمل نفسانیت پر مبنی ہو اس کی اللہ کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے یہ عمل اللہ کے نزدیک اتنا قبیح ہے کہ اپنی خواہش نفس پر چلنے کو اللہ تعالیٰ نے خواہش نفس کو معبود بنا لینا قراردیا ہے۔ قرآن پاک میں ہے : افر أیتم من التخذ الٰھہ ھواہ ۔کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش نفس کو بنا لیا ہے۔ اہل ایمان کے لئے یہ بڑی فکر کی بات ہے کہ وہ جو اعمال کررہے ہیں اس کی بنیاد کیا ہے۔ للہیت یا نفسانیت۔ آدمی اپنے اعمال میں جتنا جتنا للہیت میں ترقی کرتا ہے و ہ اپنے ایمان کے کمال میں ترقی کرتا ہے اور گویا اللہ کی معرفت اور اس کے قرب میں ترقی کرتا ہے۔ حدیث میں چار اعمال کو اللہ کے لئے کرنا ایمان کا تکملہ کہا گیا ہے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے من احب للہ والبغض للہ واعطی للہ و منع للہ فقد استکمل الایمان ۔ ترجمہ : جس نے اللہ کے لئے محبت کی اللہ ہی کے لئے بغض رکھا اللہ ہی کے لئے کچھ دیا اور اللہ ہی کے لئے دینے سے رکا ، بس اس نے ایمان کامل کرلیا۔


ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ کسی نے حضورؐ سے پوچھا کہ ایمان کیا ہے تو آپ نے فرمایا اخلاص، اس کے برعکس ریا اور دکھلاوا نفسانیت ہے۔ اس میں آدمی اللہ سے بے پرواہ ہو کر یہ چاہتا ہے کہ لوگ میرے عمل کو دیکھیں اس میں نفس کو خوشی محسوس ہوتی ہے۔مخلصین اللہ کو راضی رکھنے کی فکر میںایسے مگن ہوتے ہیں کہ انہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ تعریف کررہے ہیں یا مذمت کررہے ہیں۔ اپنے ہر عمل سے وہ صرف اللہ کی رضا مندی کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کی یہ صفت قرآن پاک میں بیان کی گئی ہے۔


یبتغون فضلاً من اللہ و رضوانا ۔ جب ان کا یہ معاملہ ہوتا ہے اللہ کے ساتھ تو اللہ کا معاملہ بھی ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہو کر ان کو بھی راضی کردیتا ہے یعنی ان کے لئے ایسے خوش کن اور خوشگوار حالات پیدا فرمادیتا ہے کہ وہ اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں، یہی وہ زندگی ہے جس کو قرآن پاک میں حیات طیبہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ من عمل صالحا من ذکر او انثی وھو مومن فلنحیینۃ حیوۃ طیبۃ ۔ جو کوئی نیک عمل کرے چاہے مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو، ہم اسے حیاۃ طیبہ ضرور عطا کرتے ہیں۔ یہاں مومن سے مراد مخلص ہی ہے۔ ورنہ ایمان کے بغیر کوئی عمل عمل صالح ہوتا ہی نہیں ہے۔ عمل صالح کے بعد مومن کا لفظ مخلص کے لئے ہے۔ اخلاص کے بغیر عمل صالح بے وزن اور بے قیمت ہے۔ اس اخلاص کے حاصل کرنے کے واسطے اپنے آپ کو کسی کے حوالہ کرنا پڑتا ہے ورنہ آدمی اپنی نفسانیت سے نہیں نکلتا۔




صحابہ سب کے سب حضورؐ کے تابع ہوگئے تھے اس لئے ان کی تربیت ہوگئی اور وہ سب کے سب مخلص بن گئے۔ اور قرآن پاک میں زبان نبوت سے اللہ کی رضا کا پروانہ حاصل کرلیا۔ یعنی رضی اللہ عنھم و رضو عنہ بن گئے۔ اور یہ ایسی سند ان کو مل گئی کہ قیامت تک کوئی اس کو بھلا نہیں سکتا۔ جب جب بھی قیامت تک ان میں سے کسی کا نام لیاجائیگا۔چاہے لکھنے میں لیا جائے یا پڑھنے میں ان کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ یا رضی اللہ عنھا یا رضی اللہ عنھما یا رضی اللہ عنھم یا رضی اللہ عنھن کہا جاتا رہینگا۔ بعد والے چاہے ظاہراً ان کے ساتھ رضی اللہ عنہ نہ لگے۔ اگر وہ نیکی اور اخلاص میں ان کے تابع ہین تو وہ بھی اس سند میں ان کے ساتھ شامل ہیں۔ اس سند کو حاصل کرنے کے لئے آدمی کو انتہائی کوشش کرنی چاہئے اور چاہے نفس کے خلاف ہو اپنے آپ کو کسی کے تابع کردے۔ اگر ایسا معتمد کوئی ایک آدمی نہ ملے جس کی دینداری اور اپنے بارے میں خیر خواہی محقق ہو تو اپنے آپ کو چند افراد کی ایک جماعت کے حوالہ کردے کہ ان کے مشورہ سے اپنے آپ کو چلائے ان کے خلاف نہ کرے۔ جب تک وہ کوئی امر خلاف شریعت نہ کرہے ان کی ہر بات کو مانا جائے ، چاہے اپنی سمجھ کے خلاف ہی ہو اور اپنی عقل سے اس میں نقصان ہی نظر آتا ہو۔ اسی سے نفس میں سے نفسانیت نکلتی ہے۔ نفس کی تربیت ہوتی ہے اور للہیت آتی ہے۔
سیرت صحابہ میں ایسے بہت سے مواقع نظر آتے ہیں کہ صحابہ نے اللہ کے رسول کے حکم کو اپنی عقلوں کے خلاف اور اپنے جذبات کے خلاف مانا ہے۔ صلح حدیبیہ کا واقع اس کا سب سے بین ثبوت ہے۔ صلح حدیبیہ میں حضورؐ نے اللہ کے حکم کی وجہ سے جس میں بڑی مصلحتیں تھین دب کر صلح کی تھی اور ان کی ایسی شرطوں کو منظور فرمایا تھا جو صحابہ کو بہت ناگوار تھیں۔ اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس وقت تو آپ واپس جائیں عمرہ نہ کریں۔ اس پر حضورؐ نے صحابہ کو اپنے سرمنڈھالینے یعنی حلق کرانے اور قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کاحکم دیا۔ یہ صحابہ پر اتنا شاق گذرا کہ ان کے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ آخر ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے مشورہ پر حضورؐ نے خود اونٹنی پر بیٹھ کر اپنا حلق کرایا۔ اب حضورؐ کی اتباء میں صحابہ نے بھی حلق کرایا مگر غم کا یہ حال تھا کہ بجائے بالوں کے ساتھ میں کھالیں بھی کھینچ رہے تھے اور لہولہان ہورہے تھے۔ مگر اتباء اور تعمیل حکم میں پیچھے نہیں ہٹے۔ اسی طرح کے واقعات انفرادی طور پر بھی ملتے ہیں۔ جن کی وجہ سے صحابہ کی ایسی تربیت ہوئی کہ وہ اپنی نفسانیت سے نکل گئے۔





یہی طریقہ آج کے مسلمانوں کے لئے بھی ہے مگر آج ہر ایک اپنی رائے پر چل رہا ہے خود رائی اور خود پسندی نے مسلمان کو آوارہ بنا دیا ہے۔ حالانکہ اسلا م میں مسلمانوں کو مشورہ کا پابند کیا گیا ہے۔ فرمایا و امر ھم شوریٰ بینھم ۔ ان کے کام آپس سے مشورہ سے ہوتے ہیں۔ حضورؐ کو بھی مشورہ کا عادی بناگیا۔ آپ سب سے زیادہ مشورہ فرمانے والے تھے حالانکہ آپ خود صاحب وحی ہیں اور جن سے مشورہ کررہے ہیں وہ سب چھوٹے ہیں یعنی امتی ہیں اور آپ نبی ہیں۔ آپ ؐ سے کہا گیا وشاور ھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ۔ ترجمہ : اور آپؐ ان سے مشورہ کیجئے اور جب کسی بات کا فیصلہ کرلیں تو پھر اللہ پر بھروسہ کیجئے۔ حالانکہ آپ کو مشورہ کی حاجت نہیں ہے حدیث میں ہے اللہ ورسولہ غنییان عن المشورہ ولکن جعلہ اللہ الرحمۃ ۔ اللہ اور اس کے رسول مشورہ کے محتاج نہیں ہیں لیکن اللہ نے اسے رحمت بنایا ہے۔ میاں بیوی کو بھی آپس میں مشورہ کا پابند کیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہ ماں اپنی رائے سے بچہ کا دودھ چھڑا دے بلکہ فرمایا و ان اراد رفصالاعن تراض منھما وتشاور فلا جناح علیھما ۔ ترجمہ : اگر وہ دونوں آپس کی رضامندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانے کا ارادہ کرلیں تو ان پر کوئی الزام نہیں ہے۔ جو مسئلہ جن سے متعلق ہے اور جس سطح کا ہے اسی سطح پر اس کا مشورہ ہونا چاہئے یہ نہیں کہ ذمہ دار خود ہی فیصلہ کرلے۔ اگر مسئلہ پورے ملک سے متعلق ہے تو اس کا مشورہ بھی ملکی سطح پر ہواگر صوبہ سے متعلق ہے تو صوبہ کی سطح پر اگر شہر سے متعلق ہو تو شہر کی سطح پر محلہ سے متعلق ہو تو محلہ کی سطح پرگھر سے متعلق ہو تو تمام گھر والوں سے مشورہ کریں۔ اس طریقہ پر آدمی اپنی نفسانیت سے نکل سکتا ہے۔ ذمہ دار بھی مشورہ کا پابند ہو۔
خلفاء راشدین اپنے متعلق بھی ساتھیوں سے مشورہ کرتے تھے۔ آج ہم نے اس سنت کو چھوڑ دیا۔ اگر کہیں ہوتا بھی ہے تو ہم نے اس کا نام میٹنگ یا پنچایت رکھ دیا جس میں مشورہ کے آداب کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا اس طرح وہ مجلس قیل و قال اور آپسی اختلاف و انتشار اور دلون کی کجی کے ساتھ ختم ہوتی ہے اور مسئلہ کا حل نہیں نکلتا۔ اس لئے کہ ہر ایک اپنی نفسانیت پر ہے اگر للہیت ہو تو آدمی اپنی رائے کے نہ مانی جانے پر ناراض نہیں ہوتا بلکہ خوش ہوتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اچھا ہوا۔ اگر میری رائے مانی جاتی اور اس سے کوئی شر نکلتا تو مجھ پر اس کا وبال آتا۔
للہیت ہو تو جس کی رائے مانی جاتی ہے وہ ڈرتا ہے کہ کہیں میری رائے سے کوئی نقصان نہ ہوجائے۔ یہ اخلاص والے ہدایت کا چراغ ہوتے ہیں۔ مخلص کی وجہ سے بڑے بڑے فتنے دب جاتے ہیں۔ ان مخلصین کی علامت یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو مخلص نہیں سمجھتے بلکہ ڈرتے رہتے ہیں۔ اور جو مخلص ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اکثر ریا کار اور نفاق کا مہلک مرض لئے ہوتے ہیں۔ نفاق سے بہت ڈرنا چاہئے۔ نفاق والوں پر جہنم میں سب سے سخت عذاب ہوگا۔ یہ کافروں سے بھی زیادہ شدید عذاب میں ہونگے۔ قرآن پاک میں ہے ان المنافقین فی الدرک الا سفل من النار۔ ترجمہ : یقینا منافق لوگ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ (درکہ) میں رہے گے۔ جہنم کے سات درکات (درجہ بلندی اور ترقی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور درکہ پستی کے لئے مستعمل ہے) ہیں۔قرآن پاک میں جہنم کے تذکرہ میں ہے۔ لھا سبعۃ ابواب ، من کل باب منھم جزء مقسوم ۔ اس کے سات دروازے ہیں۔ اور ہر دروازہ سے ایک مخصوص طبقہ جہنمیوں کا اپنے مخصوص درکہ میں داخل کیا جائیگا۔ اس کے سب سے نچلے درکہ میں منافقین اور سب سے اوپری درکہ میں گناہ گار مسلمان رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔ اس کی خوب فکر کی جائے کہ یہ نفسانیت کا مرض بڑھتے بڑھتے نفاق ہی کی طرف لیجاتا ہے۔ ان تمام گوشوں سے خصوصی نگرانی کی جائے ۔ جن سے یہ نفسانیت اور پھر نفاق کا مرض پیدا ہوتا ہے۔ صحابہ کرام سب کے سب مخلص تھے اور وہ سب کے سب ڈرتے رہتے تھے۔ ابن ابی ملیکہ ایک تابعی ہیں فرماتے ہیں کہ میں تقریباً تیس (۳۰) صحابہ سے ملاہوں ان میں سے ہر ایک اپنے بارے میں نفاق کا شک کررہا تھا۔ یہی للہیت کی کسوٹی ہے۔ اس کسوٹی پر اپنے آپ کو پرکھا جائے۔ اسی ترازو میں اپنے آپ کو تولا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


ناشکری کا انجام

انسان کے پاس جو کچھ ہے اللہ کادیا ہوا ہے چاہے وہ بدن کی صحت وحسن ہویا مال ودولت کی فراوانی ہو یا شہرت و وجاہت ہو۔ اگر اس میںانسان کی اپنی کوئی ذاتی صلاحیت یاقابلیت کا دخل نظر آتا ہے تو یہ صلاحیت وقابلیت بھی اللہ ہی کا عطیہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ما بکم من نعمۃ فمن اللہ ’’ تمہارے پاس جو کچھ نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے ‘‘۔ اس لئے اللہ تعالیٰ بندے کی نعمتوں پر شکر گذاری سے خوش ہوتا ہے او ر اس کی نعمتوں کو اور بڑھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لئن شکر تم لا زیدنکم وان کفر تم ان عذابی لشدید ۔ ’’ اگرتم شکر کروگے تو میں اور اضافہ کرونگا اور اگر تم ناشکری کروگے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے ‘‘۔ حضرت عمر ؓ کا ارشاد ہے کہ ’’ بندے سے اس کی نعمتوں کے چھن جانے میں سب سے بڑا دخل اس کی ناشکری کا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اس سنت کی تائید میں ایک قصہ تحریر کیاجارہا ہے جو اسرائیلی روایت ہونے کی وجہ سے مستند تو نہیں ہے لیکن ہماری عبرت کے لئے بہت مفید ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ سے ہم کلام ہوا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لئے طور پر تشریف لے جارہے تھے ، راستہ میں ایک شخص ملا۔ جو فقر وفاقہ اور تنگی کی وجہ سے نہایت بدحال تھا۔ بدن میں صرف کپڑا وہ بھی پھٹا پرانا لنگی کے طورپر بندھا ہواتھا،یہی اس کی کل کائنات تھی۔ موسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا کہ اے موسیٰ آپ اللہ سے میرے لئے درخواست کرو کہ مجھے کچھ تونگری نصیب ہوتاکہ میں بھی اس کی عبادت کرسکوں۔ مجھے اس بدحالی نے کہیں کا نہیں رکھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے وعدہ کرلیا۔ کچھ آگے بڑھے تو ایک اور شخص ملا۔ وہ بھی حضرت موسیٰ سے مخاطب ہوا اورعرض کیا کہ اے موسیٰ آپ میرے لئے اللہ سے درخواست کرو کہ اللہ میری نعمتوں کو کچھ کم کردے تاکہ مجھے اللہ کی عبادت کے لئے بھی کچھ وقت مل سکے۔ یہ مال کی فراوانی میرے لئے بڑی رکاوٹ ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے بھی وعدہ کرلیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اللہ سے ہم کلام ہوئے تو ان دونوں کی درخواست اللہ کے پاس پیش کردی۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ مالدار سے کہو کہ وہ میری ناشکری کرے اس کا مال خود بخود ہی کم ہوتا جائیگا۔ اور اس فقیر سے کہو کہ وہ ہمارا شکر کرے اس کی نعمتوں میں اضافہ ہوگا۔ واپسی میں حضرت موسیٰ کی ملاقات پہلے مالدارا سے ہوئی وہ اپنے سینکڑوں بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کے درمیان ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈالئے کھڑا ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ کو دیکھ کر ان کی طرف لپکا کہ اللہ تعالیٰ کا جواب معلوم ہو۔ پوچھنے پرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا جواب سنادیا اس پر وہ تعجب سے کہنے لگا کہ اے موسیٰ میں کیسے اللہ کی ناشکری کروں آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے مجھے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہ میرے جانور دیکھئے ، یہ باغات دیکھئے ، مجھے تو اس کا شکر ہی کرنا چاہئے۔ وہ یہ شکر گذاری کی باتیں کرہی رہا تھا کہ اس کے ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈا سونے کا ڈنڈا بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھے تو اس فقیر سے ملاقات ہوئی اس نے بھی اللہ تعالیٰ کا جواب پوچھا موسیٰ علیہ السلام کے اللہ کا جواب بتانے پر عرض کیا کہ موسیٰ میں کس بات پر شکر کروں میرے پاس ہے ہی کیا جس پر میں اللہ کا شکر اداکروں ۔ کیا تم میری خستہ حالی نہیں دیکھتے۔ وہ اسی قسم کی ناشکری کی باتیں کررہاتھا کہ ایک تیز آندھی چلی اور جو تہبند اس کو بندھا ہواتھا وہ بھی اڑگیا اور وہ خالی ہاتھ رہ گیا۔
یہ ہے وہ ناشکری کا انجام کہ اس سے نعمتوں میں زوال آتا ہے۔ اگر آدمی سوچے چاہے وہ کتنا ہی غریب اور فقیر یا مریض ہو لیکن اس کے پاس بھی ہزاروں دوسری نعمتیں موجود ہیں۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ ہروقت اللہ کا شکر گذار بنارہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی خبر دی وان تعدو نعمۃ اللہ لا تحسوھا ۔ کہ ’’ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہوتو نہیں شمار کرسکتے ‘‘۔ کچھ نعمتیں تو ایسی ہیں کہ ہر بندہ اس میں اپنے آپ کو منفرد سمجھتا ہے۔ اگر غور کرے تو ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی ایسی نعمت ہوتی ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں ہے۔ لیکن ہم اس پر دھیان بھی نہیں دیتے۔ اسی کی اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے کلام میں ایک شکایت کی ہے۔ فرمایا وقلیل من عبادی الشکور میرے بندوں میں شکر گذارا کم ہی ہیں۔ اور ایک جگہ فرمایا ان الانسان لربہٰ لکنود یعنی انسان اپنے رب کا بڑا ناشکراہے۔ مگر یادرکھیں کہ اللہ کی ناشکری سے ہم اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اللہ کی ذات تو سب سے بے نیاز ہے۔ ہماری ناشکری سے اس کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا۔ نقصان خود ناشکری کرنے والے کا ہی ہوتا ہے۔ دنیا میں اس کی نعمتیں زائل ہوتی ہے اور آخرت میں اللہ کی گرفت میں آتا ہے۔
اب شکر گذاری کا مطلب بھی ذہن میں رکھیں۔ شکر کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ہم زبان سے ہر نعمت پر الحمد للہ کہیں یا اے اللہ تیرا شکر ہے یا تیرا احسان ہے کہیں۔ اس سے بہتر اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہر موقع کی مسنون دعائیں یا اذکار مسنونہ منقول ہیں انہیں یادکرکے ہر موقع پر ان اذکار یا دعاؤں کے پڑھنے کا اہتمام کریں۔ اس کے ساتھ شکر کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ دل میں بھی اس کا استحضار ہو اور دل اندر سے اللہ کا احسان مانے۔ شکر کا سب سے اعلیٰ درجہ زبان اور دل کے شکر کے ساتھ ساتھ یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں جو نعمتیں دی ہیں ان کا استعمال ہم اللہ کی مرضی کے مطابق کریں۔ ان نعمتوں کو اللہ کی نافرمانی میں نہ لگائیں ۔ مثلاً اللہ نے کسی کو جسمانی صحت وقوت عطا فرمارکھی ہے یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے اس پر زبان اور دل سے شکر گذار ہونے کے ساتھ اپنی قوت کو اللہ کی نافرمانی میں لگانے سے بچائے۔ کسی پر بھی ظلم نہ کرے۔ کسی کو بے جا نہ دبائے۔ اپنے جسم کے کسی بھی عضوسے ناجائز اور حرام کام نہ کرے۔ مثلاً آنکھ اللہ کی نعمت ہے اس لئے آنکھ کا استعمال ان ہی چیزوں کو دیکھنے میں کریں جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں۔ ان چیزوں کو نہ دیکھیں جس اللہ نے منع کیا ہے۔ اگر اللہ نے مال دیا ہے تو زبان اور دل سے شکر کے ساتھ مال کے استعمال میں حرام سے بچے۔ اسراف نہ کریں۔ مال کی وجہ سے کسی پر ظلم نہ کرے۔ مال پر تکبر نہ کرے۔ مال سے کوئی ناجائز چیز نہ خریدے۔ بلکہ مال کو اللہ کی مرضیات پرلگائیں۔ محتاجوں پر خرچ کرے۔ دین کے تقاضوں پر لگائے۔ بخل نہ کرے۔ غرض یہ کہ ہر نعمت میں اللہ کا حقیقی شکر ادا کرنے کے لئے اس نعمت سے بجائے اپنی خواہشات پورا کرنے کے ، اللہ کے احکامات کو پورا کرے۔
حالات کا انحصار اعمال پر

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو دارالاسباب بنایا ہے۔ اس لئے جب بھی کوئی حال کسی فرد یا جماعت یا قوم یاملک پر آتا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی ظاہری سبب ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے عام انسانی نظر اپنے مشاہدہ کی بنا پر اسی سبب کو اس مخصوص حالت کے وقوع پذیر ہونے کا اصل ذریعہ سمجھتی ہے۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہے جس کے لئے بصارت نظر کی بجائے بصیرت قلب کی ضرورت ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق ہے اسی طرح تمام احوال و حالات کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ان حالات کا بندوں تک پہنچاتے والا بھی وہی ہے۔ دنیا میں آنے والا ہر حال اللہ کے ارادہ اور مشیت پر آتا ہے۔ اللہ کی کائنات میں یہ بات ناممکن ہے کہ وہ کچھ چاہے اور ہو کچھ اور جائے۔ یا وہ کسی کام کو کرنا چاہے اور وہ نہ ہوسکے یا وہ کسی کام کو نہ کرنا چاہے اور پھر بھی ہوجائے۔
ہمارا جس اللہ پر ایمان ہے وہ ایسی طاقت اور قوت والا ہے کہ اس کے ارادہ سے سب کچھ ہوجاتا ہے اس نے قرآن پاک میں خود اپنا تعارف کرایا ہے کہ وہ فعال لمایرید ہے یعنی جو چاہے اس کا کر ڈالنے والا اور یفعل مایشاء کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ لہٰذا دنیا میں آنے والے ہر حال کو اسی کی طرف منسوب کیاجائے یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ پھر یہ بھی ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے۔ اس کا ہر کام کسی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے اس کے ڈالے ہوئے حالات اندھا دھن اور atrandom نہیں ہوتے وہ اندھے کی لاٹھی نہیں ہے کہ کسی پر بھی پڑجائے بلکہ اس کے ڈالے ہوئے حالات کا ایک منظم نظام ہے اور وہ یہ ہے ظہر الفساد فی البر و البحر بما کسبت ایدی الناس یعنی خشکی اور تری میں جوبھی بگاڑ ظاہر ہوتا ہے وہ انسان کی ہاتھوں کی کمائی ہے۔ وہ حالات چاہے کسی آسمانی آفت کے سبب سے ہوں جیسے بارش کی قلت کے سبب سے قحط سالی یا بارش کی کثرت سے سیلاب، یا سمندری موجوں اور سونامی لہروں کا قہر یا کسی حکومت کا ظلم و تشدد یا کسی قوم کی طرف سے دوسری قوم پر قتل و غارت گری اور مظالم سب انسانوں خصوصاً مسلمانوں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔
حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ جب زمین پر باجوں کی کثرت اور زنا اور شراب عام ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ زمین کو حکم فرماتے ہیں کہ ان کو ہلاڈال تو زمین ھل جاتی ہے۔ چنانچہ زلزلہ کا ظہور ہوتا ہے۔ اسی طرح حضورؐ نے فرمایا کہ زکوٰۃ روک لی جاتی ہے تو اللہ کی طرف سے بارش روک لی جاتی ہے۔ احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ آنے والا ہر برا حال کسی نہ کسی بدعملی کا نتیجہ ہے۔ اگرکوئی آفت او رمصیبت کسی فرد پر آتی ہے تو وہ بھی آدمی کے کسی بُرے عمل ہی کی جزا ہوتی ہے۔ جس کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ ما اصاب من مصیبۃ فبما کست ایدیکم و یعف عن کثیر ترجمہ : ’’ تم پر جو کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے وہ تمہاری اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور بہت سے گناہ تو اللہ تعالیٰ ایسے ہی معاف کردیتا ہے ‘‘۔
غرض پورے قرآن و حدیث کا خلاصہ اور نچوڑ یہی ہے کہ بُرے حالات چاہے جس سطح پرہوں بُرے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ بُرے حالات چاہے عراق میں ہوں یا افغانستان میں ، صومالیہ میں ہوں یا ہندوستان میں، علاج یہ ہے کہ مسلمان اپنے اعمال کو ٹھیک کرلیں۔ امریکہ یا دوسرے ظالموں کو بُرا بھلا کہنا ان کے لئے بددعائیں کرنا حالات کو درست کرنے کا طریقہ نہیں۔ یہ ظالم لوگ تو اللہ تعالیٰ کی لاٹھی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں مسلمانوں کی بدعملی کی سزا دینے کے لئے مسلط کرتا ہے۔ ورنہ وہ ظالم لوگ اللہ کے قبضہ اور کنٹرول کے باہر نہیں ہیں۔ یہ ساری بڑی بڑی طاقتیں اللہ کی طاقت کے مقابلہ میں مکڑی کے جالے کی طرح ہیں یہ مثال اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں بیان فرمائی ہے۔ مثل الذین اتخذو من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت ، اتخذت بیتا ان اوھن البیوت لبیت العنکبوت ترجمہ : ’’ ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے علاوہ اوروں کو اپنا مددگار بنالیا ہے ، ایسی ہے جیسے مکڑی، جس نے اپنا گھر بنالیا۔ بے شک گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہے ‘‘۔
جب مسلمان اپنے اوطان کو اعمال سے ویران کردیتے ہیں تو وہاں مکڑیاں اپنے جالے بنالیتی ہیں ورنہ اللہ کی جھاڑو کا تنکا بھی ان کے لئے کافی ہے۔ آج مسلمانوں نے اپنے اعمال کو ایسا خراب کرلیا ہے کہ اپنے ایمان کی علامت بھی گم کردی ہے۔ ایمان کی علامت مسجدوں کو آباد کرنا ہے مگر غور کیجئے امت کا ۷۰!، ۸۰!اور بعض جگہ ۹۰! فیصد حصہ مسجدوں سے دور ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ترجمہ : ’’ مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر ‘‘۔ انما یعمر مساجد اللہ من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر ۔حضورؐ نے بھی مسجد اور مسلم کے رشتہ کو اتنا گہرا بتایا ہے کہ فرمایا المومن فی المسجد کاالسمک فی الماء ۔مومن مسجد میں یاایسا ہے جیسا مچھلی پانی میں ۔
یعنی جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مسلم مسجد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ اور اگر ہمیں وہ مسجد سے تعلق کے بغیر بھی زندہ نظر آرہا ہے تو یہ زندگی ایمانی اور اسلامی زندگی نہیں ہے۔ جب نماز جیسے فرض عین عمل کے بارے میں ہماری یہ حالت ہے تو باقی اسلامی اعمال کا کیا حال ہوگا ہم خود ہی سوچیں۔ یہ ہے ہماری بربادی کی اصل وجوہ کہ ہم نماز کو چھوڑ کر دین کے ڈھانے کے مجرم قرار دیئے جارہے ہیں۔ پھر ہمیں جو بھی سزا ملے بجا ہے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے : الصلوٰۃ عماد الدین من اقامھافقد اقام الدین ومن ترکھا فقد ھدم الدین ترجمہ : ’’ نماز دین کا ستون ہے جس نے نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا جس نے نماز کو ترک کیا اس نے دین کو ڈھادیا ‘‘۔
اس لئے تمام قارئین سے گذارش ہے کہ وہ تمام اعمال اسلام کا اہتمام کریں۔ اعمال کی بربادی ہی اصل ہماری بربادی ہے۔ اگر ہم نے اللہ کے اوامر کی حفاظت کی تو اللہ اپنی قدرت سے ہماری حفاظت کرے گا۔ اور اگر ہماری بدعملی کے سبب ہمیں چھوڑ دے ، ہماری مدد نہ کرے تو کون ہے جو ہماری مدد کرسکتا ہے۔ اللہ نے ہی یہ سوال ہم مسلمانوں سے کیا ہے۔ ان یخذلکم فمن ینصر کم من بعدہ ترجمہ : ’’ اگر اللہ تمہیں چھوڑ دے تو وہ کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ ‘‘
اس لئے آؤ ہم سب مل کر عہد کریں کہ آج سے ہم اللہ کے احکامات اور حضرت رسول کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کرینگے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


iiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii




نیک نیتی کے اثرات

خلفاء بنو عباس میں سے ایک بادشاہ تھا۔ ایک مرتبہ اس کا ارادہ اپنی مملکت کی سیر کا ہوا۔ ایک عام آدمی کے بھیس میں تھا، اس کی نظر ایک انار کے باغ پر پڑی ، جو تروتازہ پھلوں سے لدا ہوا تھا۔ باغ میں داخل ہوا اور باغبان سے کہا مجھے پیاس لگی ہے ، ایک پیالہ انار کا رس پلاؤ۔ باغبان نے ایک انار توڑ کر اس کو نچوڑا تو پیالہ بھر گیا اور پیا تو ذائقہ بھی بہت شیریں اور عمدہ خیال ہوا کہ یہ تو بہت آمدنی کا ہے اس پر ٹیکس بڑھانا چاہئے۔ پی کر فارغ ہوا تو اور ایک پیالہ کا سوال کیا۔ باغبان نے انار توڑ کر نچوڑا۔ بہت تھوڑا رس نکلا دوسرا اور تیسرا توڑ توڑ کر نچوڑتا رہا کئی انار نچوڑ نے پر وہ پیالہ بھرا۔ بادشاہ کو بڑا تعجب ہوا باغبان سے پوچھا یہ کیا بات ہے ، پہلے تو ایک ہی انار میں پیالہ بھر گیا تھا۔ باغبان اللہ والا آدمی تھا ، بادشاہ کو پہنچانا نہیں تھا کہنے لگا مجھے لگتا ہے ہمارے بادشاہ کی نیت بدل گئی۔ بادشاہ نے دل ہی دل میں توبہ کی اور تیسرے پیالہ کے لئے کہا کہ مجھے بہت بھوک اور پیاس لگی ہے۔ باغبان نے اب پھر ایک انار توڑ کر نچوڑا تو پھر پیالہ بھر گیا۔ باغبان نے اس آدمی کو پکڑ کر قسم دے کر کہا کہ مجھے سچ بتاؤ تم ہی بادشاہ ہو۔ اس نے اقرار کیا ۔
یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت ہے۔ نیت کے بہت اثرات پڑتے ہیں۔ نیت دل کے ارادہ کا نام ہے۔ اور دل پورے جسم کا بادشاہ ہے۔ طبی اور جسمانی اعتبار سے جو بھی اس کا function ہو لیکن روحانی اعتبار سے دل کا اثر تمام اعمال پر بلکہ آدمی کی حیثیت کے اعتبار سے نظام عالم پر پڑتا ہے۔ اسی لئے حضورؐ نے دل کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ان فی الجسد لمضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ و اذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب ترجمہ : ’’ جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے جب وہ سدھر جاتا ہے تو پورا بدن سدھر جاتا ہے اور جب وہ بگڑجاتا ہے تو پورا بدن بگڑ جاتا ہے خبردار ہوجاؤ کہ وہ دل ہے ‘‘۔
جسم کے سدھر نے اور بگڑنے سے مراد جسم سے نکلنے والے اعمال کا سدھرنا اور بگڑنا ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ اپنے دل کی نگرانی کرے ہر عمل میں اپنی نیت کو صحیح کرنے کی فکر رکھے۔ بخاری شریف کی سب سے پہلی حدیث میں ارشاد نبویؐ ہے انماالاعمال بالنیات وانما لکل المرء مانوی ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے ‘‘۔ اس لئے ہر شخص کو اپنی تصحیح نیت کی مشق کرنی چاہئے۔ ہر عمل کے وقت آدمی دیکھے کہ میرے اس عمل کی غرض کیا ہے۔ میں کیوں کر رہا ہوں۔ اس لئے کہ نتیجہ میں وہی چیز ملے گی جس کی نیت کی ہے۔ اگر کسی نیک عمل سے مقصود اپنی تعریف اور شہرت ہے تو وہ مل جائیگی جو ایک عارضی چیز ہے اور اگر اللہ کی رضا کی نیت کی ہے تو اللہ کی رضا ملے گی جو دائمی چیز ہے اور دوسری بے شمار نعمتوں کے حصول کا ذریعہ ہے۔اس لئے پوچھے کہ میں نے یہ کیوں کی۔ بعض مرتبہ عمل بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن نیت کی وجہ سے اثرات دور رس ہوتے ہیں اور کبھی عمل بہت بڑا ہو کر بھی بد نیتی کی وجہ سے آدمی خیر سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ وہ عمل پکڑ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسی لئے ایک حدیث میں رسول کریمؐ کا ارشاد ہے نیت المومن خیر من عملہ ’’ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ‘‘۔
ہم اپنے معاشرہ میں بدنیتی کے نتائج بھگت رہے ہیں مگر دلوں کی غفلت کی وجہ سے نظر ہی نہیں جاتی کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ مثال کے طور پر عام طور پر والدین اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں بڑے لاڈ پیار سے ان کو پالتے ہیں ان کے لئے بہت ہی مشقتیں برداشت کرتے ہیں۔ اپنی اپنی استعداد اور سمجھ کے مطابق انہیں پڑھاتے اور تعلیم دلاتے ہیں ۔ عموماً نیت یہ ہوتی ہے کہ یہ بچے بڑے ہو کر ہمارا سہارا بنینگے۔ ہمارے بڑھاپے میں یہ ہمارے کام آئینگے۔ یہ نیت کرنے والے والدین عام طور پر اپنی اولاد سے کبھی سکھ نہیں پاتے۔ بلکہ اپنی اولاد سے اتنے تنگ ہوجاتے ہیں کہ بعض مرتبہ خود کشی کی نوبت آجاتی ہے۔ اگر اسلام میں خودکشی کی اجازت ہوتی تو بہت سے والدین اپنی اولاد سے تنگ آکر مرجاتے۔ یہ سب بدنیتی کا وبال ہوتا ہے۔ والدین کی اپنی اولاد کی پرورش کے بارے میں نیت یہ ہونی چاہئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ان کی پرورش اور روحانی تربیت ہمارے ذمہ ہیں ورنہ اللہ کے یہاں ہماری پوچھ ہوگی۔ اگر ہم نے شریعت کے مطابق ان کے حقوق نہیں ادا کئے تو یہ اولاد ہماری پکڑ کا ذریعہ بن جائیگی۔ رہا ہمارے بڑھاپے کا مسئلہ تو جس طرح ہم اپنی اولاد کے رب نہیں ہے ہم ماں باپ ہیں ہم نہیں پالتے اللہ پالتا ہے۔ ان کی وجہ سے ہمیں روزی مل رہی ہے اسی طرح ہمارے بڑھاپے میں ہمارا رب بھی اللہ ہوگا وہی ہمارا سہارا ہوگا۔ ہمیں ان بچوں سے کچھ نہیں لینا ہے ہمیں تو صرف اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے۔ یہ تجربہ ہے کہ ایسے والدین کی اولاد بڑی ہو کر اپنے والدین کی خوب خدمت کرتی ہے۔ اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتی ہے۔ بوجھ نہیں سمجھتی۔ اور جو ماں باپ اپنی اولاد کی پرورش کرکے ان پر احسان جتاتے ہیں بڑے ہو کر وہ اولاد اپنے والدین کا احسان نہیں مانتی بلکہ یہ کہتی ہے کہ آپ نے ہمیں دیا ہی کیا ہے۔
یہ بات میں نے مثالاً عرض کی ہے ہم اپنے روز مرہ کے اعمال و فعال کا جائزہ لیں۔ ایک ایک عمل کا تجزیہ analysis کریں کہ یہ میں کیوں کر رہا ہوں۔ اچھی نیت کے ذریعہ ہم اپنے چھوٹے چھوٹے اعمال پر بھی بہت کچھ کمائی کرسکتے ہیں دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی۔
ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے اپنے ایک دشمن کو پچھاڑ دیا اور اس کے سینہ پر بیٹھ گئے اسے قتل کرنے ہی کو تھے کہ دشمن نے ان کے منھ پر تھوک دیا حضرت علیؓ ، اسے چھوڑ کر کھڑے ہوگئے۔ یعنی قتل نہیں کیا۔ پوچھنے پر حضرت علیؓ نے یہ توجیہہ پیش کی کہ میں اسے اللہ کا دشمن سمجھ کر قتل کر رہا تھا ، جب اس نے میرے منھ پر تھوکا تو مجھے غصہ آگیا ، مجھے فوراً خیال ہوا کہ یہ قتل کرنا اپنے نفس کے لئے نہ ہوجائے، اس لئے میں نے چھوڑ دیا۔ کتنا Quique decision لیا۔ کیسی اپنی نیت کی نگرانی کرنے والے تھے ، صحابہ کرام۔ اس دشمن کافر نے حضرت علیؓ کی یہ بات سنی تو اسلام لے آیا۔ یہ ہے نیک نیتی کا اثر۔ اللہ ہمیں اس کی فکر نصیب فرمائے۔ آمین۔

بعض اعمال کا بدلہ دنیا میں یقینی ہے

ایک مشہور حدیث ہے الدنیا مزرء الا خرۃ ۔دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے عام طور پر لوگوں کا یہ تصور ہوگیا ہے کہ دنیا کے تمام اعمال کا بدلہ آخرت ہی میں ملے گا۔ اس میں شک نہیں کہ اصل بدلہ تو آخرت ہی میں ملے گا مگر نیک اور بد اعمال کے اثرات دنیا کی زندگی میں بھی ظاہر ہوتے ہیں اس کو ہم اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اچھے اعمال پر نعمتوں کی بارش موصلادھار اگر آخرت میں ہوتی ہے تو بونداباندی دنیا میں بھی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اگر بدعملی پر مصیبتوں کا سیلاب آخرت میں آتا ہے جو کبھی نہ ختم ہوگا تو ہلکی سی باڑھ دنیا میں بھی آجاتی ہے۔ اس کو مختلف طرق سے متفرق مقامات پر قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے۔ اور احادیث میں بھی اس کی تصریح موجود ہے۔ مثلاً مااصاب من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعف عن کثیر ۔ ’’ تم پر جو کوئی مصیبت آتی ہے وہ تمہاری اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور بہت سے گناہوں کو تو اللہ معاف بھی کردیتا ہے ‘۔‘۔ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس ۔ ’’ خشکی اور تری پر جو بھی فساد واقع ہوتا ہے وہ انسانوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ‘‘۔ ایک جگہ ارشاد ہے من عمل صالحاً من ذکر او انثٰی وھو مومنٌ فلنحیینہ حیاۃ طیبۃ ۔ ’’ جو کوئی نیک عمل کرے ، چاہے مرد ہو یا عورت بشر طیکہ وہ مومن ہو، ہم اس کو خوشگوار اور پاکیزہ زندگی عطا کرینگے ‘‘
اس طرح قرآن و حدیث میں بکثرت دنیا میں اعمال کے ثمرات کا ملنا بیان کیا گیا ہے۔ مگر دنیا میں اعمال کے نتائج کا ملنا اللہ کی مشیت پر منحصر ہے۔ بعض مرتبہ اعمال کا بدلہ دنیا میں جلد مل جاتا ہے۔ جس کو ہر ایک محسوس کرلیتا ہے۔ کبھی بدلہ میں دیر ہوتی ہے یہ اللہ کی حکمت ہے اللہ ہی جانتا ہے۔ کب کس کے ساتھ کیا مناسب ہے۔ وہ حاکم بھی ہے اور حکیم بھی۔
تین بُرے اعمال ایسے ہیں جن کا دنیا ہی میں بدلہ ملتا ہے ، آخرت میں بھی ملے گا۔ کچھ حصہ دنیا میں بھی مل جاتا ہے۔ اللہ کے نزدیک وہ دنیا کا بدلہ آخرت کے مقابلہ میں بہت تھوڑا ہے۔ مگر بندوں کے لئے وہ تھوڑا بھی بہت ہے۔ آدمی کو موت نہیں آسکتی جب تک ان بداعمالیون کی سزا نہ بھگت لے۔ (۱) ظلم (۲) حرام کی کمائی (۳) قطع رحمی ۔
اسی کے برعکس ان اعمال کی ضد جو کہ نیک اعمال ہیں ان کا بھی معاملہ ایسا ہی ہے کہ دنیا میں اچھا بدلہ موت سے پہلے بھی ضرور ملتا ہے۔ وہ نیک اعمال (۱) عدل (۲) حلال کمائی (۳) صلہ رحمی ہیں۔ اب ان تینوں اعمال کی تھوڑی تھوڑی تشریح کی جاتی ہے۔
اس میں سب سے پہلی چیز ظلم ہے۔ جو اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اور خود اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے بھی ظلم کو حرام کر رکھا ہے چنانچہ ارشاد ہے : لایظلم مثقال ذرۃ ، کہ اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ اور ظلم کرنے والا چاہے مسلمان ہو اور مظلوم چاہے کافر ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ مظلوم کی حمایت فرماتا ہے۔ یہ ظلم چاہے اپنوں پر ہو ، غیروں پر انسانوں پر ہو یا جانوروں پر، جانداروں پر ہویا بے جان پر اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ اور اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اس کا بدلہ عطا فرماتا ہے۔ تاریخ اس قانون الٰہی کو بار بار دہراچکی ہے۔ ظلم کرنے والا چاہے کوئی فرد ہو یا قوم ہو اقلیت میں ہو یا اکثریت میں ، اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے بے نیاز ہے۔ فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم کیا دنیا نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ مسلمانوں نے اپنے زمانہ حکومت میں ظلم کیا تو اس کا بدلہ تاتاریوں کی شکل میں بھگت لیا۔ اگر بصیرت کی نظر ہو تو ہر زمانہ میں ظالم افراد بھی آپ کو دنیا میں اپنے ظلم کا بدلہ پاتے ہوئے ملے گے۔ اس کے برخلاف عدل خود اللہ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ہے اور سارے ایمان والوں کو اللہ نے عدل کا حکم دیا ہے۔ ان اللہ یامر کم بالعدل و الاحسان ۔ ’’ اللہ تمہیں حکم کرتا ہے یقینا عدل کا اور احسان کا ‘‘۔ ایک جگہ ارشاد ربی ہے۔ لا یجر منکم شنان قوم ان لا تعدلوا اعدلوا ھواقرب للتقویٰ ۔ ’’ کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹادے ‘‘۔ انصاف کرو یہی تقوے کے قریب ہے۔ صحابہ کرام نے سو فیصد اس پرعمل کر کے دکھادیا۔ بڑے بڑے نقصانات برداشت کئے لیکن انصاف کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آج ہم اتنے کم ظرف ہوگئے ہیں کہ کسی چھوٹے سے ادارہ کے ذمہ دار بھی بن جاتے ہیں تو اپنے ماتحتوں کو بے جا دبائے بغیر نہیں چھوڑتے۔ کتنے مرد ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے ظالم بنے ہوئے ہیں کتنے باپ ہیں جو اپنی اولاد کے لئے ظالم بنے ہوئے ہیں۔ کتنی عورتیں ہیں جو اپنی قوت کے زمانہ میں ساس بن کر بہو کو ستاتی ہیں اور کبھی بہو بن کر ساس پر ظلم کرتی ہیں۔ اور یہ تمام ظالم اپنے اپنے وقت پر ضرور اس کا بدلا پاتے ہیں اس لئے کہ اللہ کا قول جھوٹا نہیں ہوسکتا ، فرمایا : من یعمل سوء یجزیٰ بہ ولا یجد من دون الہ ولیا ولا نصیراً ۔ ’’ جو برائی کرے گا اس کا بدلا پائیگا اور اس کا بدلہ پانے میں اللہ کے علاوہ کسی کو اپنا مدد گار اور ہمدرد نہیں پائیگا ‘‘۔اس بات کو سنکر ہی ہر آدمی اپنے اندر ظلم کو تلاش کرے صرف دوسروں کے مظالم کا تجسس نہ کرے۔ اور ظلم کی چھوٹی سی تعریف یادرکھیں۔ جس کا جو حق ہے وہ اس کو نہ دینا یہ ظلم ہے۔
دوسری بد عملی جس کی سزا بھگتنا ضروری ہے وہ حرام کمائی ہے ۔ یہ بھی ظلم میں شامل ہے لیکن اس پر عام طور پر نظر نہیں جاتی اس لئے الگ سے بھی ذکر کیا جارہا ہے۔ حرام مال چاہے وہ رشوت کے راستہ سے آئے۔ یا دھوکہ دیکر ہاتھ لگے یا جھوٹ اس کا سبب بنے لیکن کسی کا حق دبانا اس کا ذریعہ ہو یا چیزون میں ملاوٹ کرکے بیچنا ہو یا ملازم اور مزدور کا کام چوری کر کے حق سے زیادہ مال لینا ہو یہ سب حرام کمائی میں داخل ہے اور یہ حرام مال مرنے سے پہلے پہلے ضرور آدمی کے ہاتھ سے چلا جاتا ہے اور بڑا رلا رلا کر جاتا ہے اس لئے آد می کو اس سے بہت پرہیز کرنا چاہئے۔ حرام اور ناجائز طریقہ سے کمایا ہوا مال مسلمان کے لئے ویسا ہی حرام ہے جیسے کہ سور کا گوشت حرام ہے۔ اس کے برعکس حلال میں بڑی برکت ہے چاہے وہ مقدار میں کم ہی ہو۔
تیسری بد عملی جس کی سز امرنے سے پہلے ضرور بھگتنی پڑتی ہے وہ قطع رحمی یعنی رشتہ ناتوں کو توڑنا ہے۔ رشتوں میں الاقرب فا القرب جو جتنا قریب کا رشتہ ہے اس کا توڑنا اتنا ہی زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں سب سے پہلے والدین ہیں۔ اس رشتہ کی اللہ تعالیٰ کے یہاں تک رعایت کی ہے کہ فرمایا ان کو یعنی والدین کو ’’ اف ‘‘ تک نہ کہو اور انہیں جھڑکومت۔ ولا تقل لھما اف ولا تنھر ھما ۔بے ادبی اور اس رشتہ کو کمزور کرنے کو اگر اس سے بھی چھوٹی کوئی بات ہوتی تو شاید اللہ تعالیٰ اسے بھی بیان کردیتا۔ صلہ حمی میں ہر وہ تدبیر داخل ہے جس سے رشتے قائم رہ سکیں اور مضبوط ہوتے چلے جائیں۔ اگر ایک طرف سے قطع رحمی ہو اور ظلم ہو توبھی دوسرا فریق تحمل سے کام لے اور حتی الامکان صلہ رحمی کو اختیار کرے۔ قطع رحمی کرنے والے پر قرآن پاک میں لعنت کی گئی ہے۔ اور حضورؐ نے ایک مرتبہ اپنی مجلس سے قطع رحمی کرنے والوں کو اٹھادیا۔ اس کے برعکس صلہ رحمی میں بڑی خیر و برکت ہے چاہے بظاہر کچھ ذلت محسوس ہورہی ہو۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ سچا ہے۔ صلہ رحمی کرنے والوں کی ہر چیز میں برکت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

صلوٰۃ و سلام کی حکمتیں

اَعُوذُ بِاللّٰہِ من الشیطان الرَّجیم بِاسْم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
ان اللّٰہَ وَ ملٰئِکَتِہِ یُصَلُّوْنَ عَلَی انَّبِیْ یَا اَیُّھَاالذَّیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ و سَلِّمُوْ تَسْلِیْمَا۔
’’ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود (رحمت) بھیجتے ہیں بنی کریم ﷺ پر، اے ایمان والو! تم ان پر درود و سلام بھیجا کرو ‘‘۔ درود شریف کی حکمتیں بتانے سے پہلے ایک ضروری بات یہ عرض کرنی ہے کہ ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ جب بھی کوئی خطیب یا امام اس آیت کی تلاوت کرتے ہیں تو سننے والے فوراً درود شریف پڑھتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک مستقل حکم ہے رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے رہنے کا، نہ کہ آیت سن کر پڑھ دیں پھر چھٹی۔ ہمارے ائمہ اور خطباء سے بھی یہ گذارش ہے کہ وہ درود شریف پڑھانے کے لئے اس آیت کو استعمال نہ کریں بلکہ جب بھی کسی مجلس میں درود شریف پڑھوانا ہو تو کہہ دیں کہ درود شریف پڑھیں۔ باقی یہ مستقل حکم ہے۔ جتنی کثرت درود شریف کی کی جائے اتنی ہی بہتر ہے۔ کم ازکم جب بھی حضورؐ کا نام مبارک کانوں میں پڑھے فوراً درود شریف پڑھیں۔حدیث میں اس کی ترغیب بھی ہے کہ اس سے بڑھ کر کون بخیل ہوگا جو میرا نام سن کربھی مجھ پر درود شریف نہ پڑھے۔ اور پھر یہ مستقل اجر و ثواب کا ذریعہ ہے۔ کم از کم ایک درود شریف پڑھنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ دس گناہ معاف ہوتے ہیں، دس درجات جنت میں بلند ہوتے ہیں، اور دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ مخصوص درود شریف پر مخصوص فضائل بھی وارد ہوئے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ خود اپنے حبیب پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی جو معصوم ہیں وہ بھی اللہ کے حبیبؐ پر درود بھیجتے ہیں تو پھر ہمارے درود کی کیا حاجت باقی رہتی ہے۔ رحمتوں کے خزانے تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور وہ لامحدود ہیں۔ اس کے باوجود جب اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے تو ضرور کچھ مصلحتیں ہونگی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ جس طرح حاکم ہے اسی طرح حکیم بھی ہے۔ اللہ کا کوئی حکم حکمت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ جب اللہ کی کوئی تخلیق عبث اور بے کار نہیں ہے۔ مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَا طِلَا ۔ تو اس کا امر بے فائدہ کیسے ہوسکتا ہے۔ لیکن اللہ کی حکمتیں جو اس کے اوامر میں مخفی ہیں اللہ ہی کو حقیقی علم ہے کہ وہی علیم بھی ہے۔ پھر بھی بندہ کی سمجھ میں جو حکمتیں آسکتی ہیں وہ تحریر کی جارہی ہیں۔۔
سب سے پہلی چیز تو اللہ کے وعدے روفعنا لک ذکرک کا ظہور ہے۔ جب اللہ نے اپنے حبیب ﷺ سے فرمایا کہ ہم نے آپ کے لئے آپ کے ذکر کو بلند کیا ہے تو اللہ نے اس کا انتظام فرمایا۔ اگر صرف اذان اور نماز پر اکتفا کیا جاتا تو شاید اس وعدہ کی تکمیل نہ ہوتی ، کیونکہ ہر اذان میں صرف دو مرتبہ اشھد ان محمد رسول اللّٰہ کی صدا بلند کی جاتی ہے۔اور ہر نماز کے ہر قعدہ میں السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ ، پڑھنا واجب ہے کیونکہ التحیات کا جزو ہے اس کے علاوہ درود شریف صرف آخری قعدہ میں پڑھا جاتا ہے جو فرض اور واجب بھی نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ تمام مومنین کو درود شریف کا حکم دیا اور اس کے مستقل فضائل بیان فرمائے تاکہ افراد امت نہایت ذوق و شوق کے ساتھ کبھی جہراً اور کبھی سراً آپ ﷺ پر درود شریف پڑھیں۔ اس سے ایک طرف تو پڑھنے والوں کے لئے آخرت کا سامان ہوا دوسری طرف آپ کے ذکر میں رفعت ہوئی۔ دوسری چیز رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام پڑھوا کر، پڑھنے والوں کے دلوں میں رسول کریم ﷺ کی محبت کا پیدا کرنا ہے، کہ حضور کی محبت ایمان کا جزو ہے۔ اور یہ مطالبہ برائے اطاعت ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے جس کا آدمی بار بار ذکر کرتا ہے نام لیتا ہے اس کی تعریف و توصیف کرتا ہے اس کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اگر درود شریف کو دعا کے معنی میں لیا جائے تو بھی یہ نسخہ محبت ہے جو خود حضور نے فرمایا کہ جن کی محبت اپنے دل میں پیدا کرنا ہو ان کے لئے دعا کرو۔
بہر حال کثرت درود، حضور سے محبت و عشق بڑھانے کے لئے ہے۔ عشق اور محبت کا دعویٰ الگ چیز ہے جو ہر ایک کرسکتا ہے۔ جیسا کہ ہمارا دستور ہے لیکن اللہ کے یہاں حضور کی وہ محبت مطلوب ہے جو مدلل ہو۔ اور محبت کی دلیل کیاہے۔ خود حضور کی زبانی سنئے۔ من احب سنتی فقد احبنی و من احبنی کان معی فی الجنۃ ۔ ترجمہ : ’’ جس نے میری سنت سے محبت کی، پس اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا ‘‘۔ گویا حضور ﷺ سے محبت کی دلیل اتباء سنت ہے ورنہ صرف دعوئے محبت ہے جس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ اس لئے عاشقان رسول سے گزارش ہے کہ وہ اپنے آپ کو حضور کی دی ہوئی کسوٹی پر پرکھیں اور حضور کے پیمانہ سے اپنی محبت کی پیمائش کریں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن ہاتھ ملتے رہ جانا پڑے۔ کیونکہ حضور ﷺ کی محبت ایمان کے لئے لازم ہے۔ آدمی کا ایمان کامل نہیں ہے جب تک کہ اللہ کے رسول کی محبت اپنی جان، مال، اہل و عیال اور ہر چیز سے زیادہ نہ ہوجائے۔
تیسری حکمت ، جواسلام کے دین حق ہونے کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کی تکمیل ہے کہ ہم نے ہی اس دین کو اتار ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ انا نحن نزلنا الذکر و انالہ لحافظون ۔ وہ حکمت امت محمدیہ کی شرک سے حفاظت ہے پچھلی قوموں میں یہ حادثہ ہوچکا ہے کہ نبی کے پردہ فرمانے کے بعد لوگوں نے نبی کو اپنا معبودبنالیا۔ ان سے محبت اور عقیدت کی وجہ سے ان کی شان میں ان کی تعلیمات اور معجزات سے متاثر ہو کر اتنا غلو کیا کہ نبی کی ہی پرستش شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک جگہ بنی اسرائیل سے خطاب فرمایا کہ یا اھل الکتاب الا تغلو ا فی دینکم یعنی اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو مت کرو۔ اب درود شریف پر غور فرمایئے کہ اس میں ہم خود رسول اللہ کے لئے دعا کررہے ہیں کہ اے اللہ محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر درود نازل فرما۔ اللّٰھم صلی علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد و بارک و سلم ، درود نازل فرما محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر اور برکت اور سلام۔گویا اللہ کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی احتیاج کا اظہار ہے۔ کیونکہ آپ بندے ہیں۔ اب توجہ حضور سے مانگنے کی طرف نہیں جاسکتی۔ آپ خود بھی اللہ سے مانگ رہے ہیں اور امت کو بھی اللہ سے مانگنے کی تلقین فرمارہے ہیں۔
چوتھی حکمت حضور ﷺ کی طرف سے درود شریف کی تعلیم میں اپنی شان عبدیت کا اظہار ہے۔ عبدیت سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ حضور ﷺ نے جو درود ہمیں سکھایا اس میں کسی تواضع ٹپکتی ہے۔ غور فرمایئے۔ اللّٰھم صلی علی محمد و علی ال محمدٍ کما صلیت علی ابراھیم و علیٰ ال ابراہیم انک حمیداً مجید، اللّٰھُم بارک علی محمد وعلی ال محمد کما بارکت علی ابراہیم و اعلیٰ ال ابراہیم انک حمید مجید۔ ’’ اے اللہ درود نازل فرما محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی اٰل پر جیسا کہ تو نے درود نازل فرمایا ابراہیم ؑ پر اور ان کی اٰل پر ،بے شک تو بڑا قابل حمد اور بزرگی والا ہے ، اے اللہ برکتیں نازل فرما محمدؐ پر اور محمدؐ کی آل پر جیسا کہ تونے برکتیں نازل فرمائی ابرہیم ؑ پر اور ابراہیم ؑ کی آل پر ‘‘۔
اسی طرح حضور ﷺ نے اذان کے بعد پڑھنے کے لئے دعا تعلیم فرمائی اللّٰھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلوٰۃ القائمۃ اٰت محمدً نِ الْوَسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاماً محمودًا نِذالَذی وعدتہ انک لا تخلف المیعاد ۔ حالانکہ مقام محمود جنت کا سب سے اعلیٰ مقام ہے اور وہ صرف ایک ہی کو ملے گااور حضور سے زیادہ اس کا کوئی مستحق ہوہی نہیں سکتا۔ وہ حضور کے لئے ہی طے ہے مگر حضور کی کیا شان عبدیت ہے کہ پوری امت کو اس کے مانگنے میں لگادیا کہ میرے لئے اللہ سے مقام محمود کی دعا کیا کرو۔ غور کرنے پر اور بھی مصالح ذہن میں آسکتے ہیں۔

شب برأت اور اسلامی عقیدہ

نصف شعبان یعنی شعبان کی پندرھویں رات شبِ برأت کہلاتی ہے جس میں تمام اہل اسلام میں رات بھرجاگنے اورعبادت کرنے کا اہتمام ایک معروف عمل ہے اور ہمشیہ سے رہا ہے۔شب برأت سے متعلق یہ بھی معروف بات ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو آئندہ سال بھر کے احکامات نافذ کئے جاتے ہیں جو اللہ کے علم میں اور لوح محفوظ میں پہلے ہی سے موجود ہیں۔ زیر نظر مضمون میں دو باتوں کی طرف نشاندہی کی جارہی ہے ان میں اصلاح ضروری ہے۔ اور یہ دونوں غلطیاں خصوصاً ہندوستان ہی میں زیادہ پائی جارہی ہیں۔ ایک تو عملی غلو ہے اور دوسرے عقیدہ کی خرابی ہے جس کی ضد ایمان پر پڑتی ہے اور جو نصوص کے خلاف ہے۔ پہلی چیز جس پر تو جہ ضروری ہے وہ مسلمانوں کا خصوصاً بڑے شہروں میں شب برأت میں قبرستان جانے کا عمل ہے۔ یہ عمل مستحب ہے اور ۱۵! شعبان کو حضورؐ سے زندگی میں صرف ایک بار قبرستان جانا ثابت ہے لیکن اس وقت اس عمل کا بہت زیادہ اہتمام کیا جارہا ہے۔ اور یہ عمل اس طریقہ سے کیا جارہا ہے کہ قبرستان جانے کا مقصد ہی فوت ہوگیا ۔ شب برأت کو قبرستان تفریح گاہ بن جاتا ہے جس میں آخرت کا یاد کرنا اور اپنی قبر کا استحضار مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔ قبرستان جانے کی ترغیب جو شریعت میں موجود ہے وہ اپنے اندر آخرت کی فکر پیدا کرنے کے لئے ہے۔ صرف قبرستان والوں کو ثواب پہنچانے کے لئے نہیں ہے۔ ایصال ثواب کا عمل تو اسلام میں اتنا آسان ہے کہ ہم جب بھی جو بھی عمل اور جہاں بھی کریں جن کے لئے بھی اموات میں سے نیت کرلیں اس کا اجرو ثواب پہنچ جاتا ہے۔ عبادت بدنی ہو یا عبادت مالی فوراً اس کا ثواب اللہ کی طرف سے مرنے والوں کو پہنچادیا جاتا ہے۔ لوگ قبرستان جارہے ہیں لیکن مقصد سامنے نہیں ہے اور نہ ہی قبرستان جانے کے طریقہ سے واقف ہیں۔ علماء اور ائمہ اس معاملہ میںعوام کی رہبری کریں۔ جمعہ اور شب برأت کے بیانات میں اسی قسم کی اصلاحی باتیں عوام کے سامنے لائی جائیں تو سب کی اصلاح کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ قبرستان میں جانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے قبرستان میں داخل ہو کر سلام کریں۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ السلام علیکم یا اہل القبور یغفرللہ لناولکم انتم سلفنا ونحن الوارثون ۔ جس قبر والے کو ثواب پہنچانا مقصود ہو وہاں قریب کھڑے ہو کر بغیر ہاتھ اٹھائے جو کچھ قرآن پاک پڑھ سکتے ہوں پڑھیں اور بہتر ہے کہ بغیر ہاتھ اٹھائے ہی دعا کریں کہ یا اللہ اس کا ثواب فلاں کو اور ان تمام مردوں کو پہنچادیں۔ اور پوری امت کے لئے بشمول رسول اللہؓ کے نیت کرلیں تو اور افضل ہے۔ جب تک قبرستان میں رہیں اس استحضار کے ساتھ رہیں کہ مجھے بھی ایک دن یہیں آنا ہے۔ یہی میری آخری منزل ہے۔ اپنے اعمال پر نظر کر کے اس بات کو سوچیں کہ اگر میں قبر میں پہنچ گیا تو میرا کیا ہوگا۔ کیامیرے اعمال اس قابل ہیں کہ میں عذاب قبر سے نجات پاجاؤں۔ اگر عذاب میں پکڑا گیا تو کیا ہوگا۔ اس قسم کی سوچ دل کی نرمی کا سبب بنتی ہے۔ آخرت کی تیاری میں معین ہوتی ہے۔ آدمی کی زندگی پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ اگر قبرستان پہنچ کر بھی ادھر ادھر کی باتوں میں ہنسی مذاق میں لگے رہے تو ہماری اصلاح کیسے ہوگی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ میں تمہارے لئے دو واعظ چھوڑ کر جارہا ہوں ایک بولتا ہوا دوسرا خاموش۔ بولتا ہوا تو قرآن شریف ہے اور خاموش موت کی یاد ہے۔
دوسری قابل اصلاح بات یہ ہے کہ بعض جامل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شب برأت میں مردے اپنے رشتہ داروں کے ہاں آتے ہیں اسی وجہ سے بعض لوگ شب برأت کو بڑے بڈھوں کی عیدبھی کہتے ہیں۔ یہ خالص ہندوانہ اور غیر اسلامی عقیدہ ہے۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ جو لوگ دنیا سے جاچکے ہیں وہ ایک الگ عالم میں ہیں جس کو قرآن کی زبان میں عالم برزخ کہتے ہیں۔ وہاں تمام انسانوں کو قیامت کے دن دوبارہ اٹھنے تک رہنا ہے۔ عالم برزخ میں ہر ایک کو اپنے اپنے عمل کے مطابق عذاب یا انعام دیا جاتا ہے۔ ان کے لئے اس کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں آئیں۔ اگر وہ عذاب میں ہیں تب تو وہ قیدی ہیں ان کے بس میں ہی نہیں کہ وہ اپنے کو اس عذاب سے چھڑالیں۔ اور اگر وہ نعمتوں میں ہیں تو آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر اس سڑی ہوئی دنیا میں آنا کیوں پسند کرینگے۔ اگر اہل کشف کوئی بات اس کے علاوہ بتاتے ہیں تو وہ ایک الگ بات ہے جو اذھان عوام سے بالاتر ہے۔ ہمیں تو اسلامی عقائد اور اسلامی اعمال ہی کا پابندرہنا ہے اسی میں ہماری کامیابی ہے۔
اگر خلاف معمول کوئی بات پیش آئے تو علماء اور اہل اللہ سے رجوع کریں تاکہ ہمارے عقیدہ اور عمل میں کوئی خرابی نہ پیدا ہوجائے۔ ہمارے ساتھ جو کچھ پیش آئیگا وہ ہمارے عقیدہ اور ہمارے عمل کے مطابق ہوگا۔ ولا تذروازرۃ وزرا اخریٰ ۔ ترجمہ : ’’ قیامت کے دن کوئی دوسرا کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا ‘‘
ایک مرتبہ ایک صاحب اپنی کار سے بہت تیزی کے ساتھ شہر سے دور خاموش روڈ پر چلے جارہے تھے اچانک ایک آدمی نے دور سے ہاتھ بتا کر روکا انہوں نے فوراً بریک مار کر گاڑی روکی تو وہ ہاتھ بتانے والے صاحب غائب تھے۔انہوںنے پھر اپنی گاڑی اسٹارٹ کی اور چل پڑے چند ہی سیکنڈ کے بعد ایک ایسا موقع روڈ پر تھا کہ اگر گاڑی اسی پچھلی رفتار میں ہوتی تو ضرور accident ہوجاتا۔ اب ان کا ذہن اس طرف گیا کہ وہ آدمی جس نے ہاتھ بتایا اور غائب ہوگیا اسی نے مجھے بچایا اور وہ فلاں بزرگ تھے۔ ان صاحب نے ان بزرگ کو فوٹو میں کبھی دیکھا تھا۔ بچایا اللہ نے اور انہوں نے اس بزرگ کی طرف منسوب کردیا۔ یہی شرک ہے۔ یہ ہاتھ بتانے والا یا تو اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا فرشتہ تھا جس نے ان کی رفتار کم کرنے کا سامان کردیا یا وہ شیطان تھا جو ان کے عقیدہ کو خراب کرنے کے درپے تھا۔ باقی ان کا accident میں مبتلا نہ ہونا یہ تو تقدیری فیصلہ تھا۔ تقدیر پر ایمان لانا اسی کا نام ہے کہ جو نہیں ہوا اس کے بارے میں پکا یقین ہو کہ یہ ہر گز ہونے والا نہیں تھا۔ اور جو ہوگیا اس کے بارے میں بھی پکا یقین ہو کہ یہ ہرگز ٹلنے والا نہیں تھا۔ چاہے ساری دنیا کے اسباب اکھٹے ہوجائیں اور ساری دنیا کی طاقتیں اور قوتیں متحد ہوجائیں ہوتا وہی ہے جو اللہ نے فیصلہ کر دیااور وہ پہلے سے طے شدہ ہے۔ تقدیر پر ایمان لانا بھی ایمان والوں کے ایمان کا ایک جزو ہے۔ کسی گذری ہوئی بات کے بارے میں یوں کہنا کہ فلاں نے کر دیا اور فلاں وجہ سے ایسا ہوگیا یہ ایمان کے خلاف ہے۔ اگر وہ یوں نہ کرتا تو یوں نہ ہوتا یہ بھی تقدیر پر ایمان کے منافی ہے۔ اسباب تو محض آزمائش اور متحان کے لئے ہیں۔ کرنے والی ذات صرف اور صرف اللہ کی ہے ۔ آزمائش ہی کے لئے اللہ نے یہ اسباب کا نظام چلایا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کسی بھی کام کے لئے اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اسباب کے بغیر بھی کرسکتا ہے اور اسباب کے خلاف بھی کرسکتا ہے۔ یفعل مایشاء اپنی مشیت پرکرنے والا اس کی شان ہے۔ فعال لمایرید جس بات کا ارادہ کرے اس کا کر ڈالنے والا اس کی قدرت ہے۔ جس اللہ کو ہم نے معبود بنایا ہے وہ ایسی زبردست قوت والا ہے کہ بے بسی اور مجبوی کا اس کے ہاں کوئی گذرہی نہیں ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ اسے فرشتوں کی بھی کوئی حاجت نہیں ہے۔ فرشتوں کے ذریعہ نظام کائنات کا چلانا یہ بھی محض حکمت اور مصلحت پرمبنی ہے۔ ورنہ اللہ کاکوئی کام فرشتوں کی وجہ سے بھی نہیں رکتا۔ وہ چاہے تو سارے ہی فرشتوں کوفنا کردے۔ اس کا کچھ نہیں بگڑتا ۔ وہ چاہے تو تم سارے ہی موجودہ کو معدوم بنادے۔ ایک جگہ قرآن پاک میں اللہ نے ہم کو دھمکی بھی دی ، فرمایا : ان یشا یذھبکم ویاتی بخلق جدید ۔ یعنی وہ چاہے تو تم سب کو چلتا کردے اور ایک نئی مخلوق لے آئے ۔ کوئی کام اس کی قدرت کے باہر نہیں ہے۔
اس لئے شب برأت ہو یا شب قدر اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک موقع ہے ہم اس کا فائدہ اٹھائیں۔ صرف وقت گذاری نہ کریں۔ رات بھر جاگ کر گذاردی اور صبح کی نماز قضا کردی تو یہ کیا تعلق پیدا ہوا۔ ہزاروں شب برأت فجر کی دو رکعت فرض کے برابر نہیں ہوسکتیں۔ اس رات میں اللہ نے اپنے لئے دین کا فہم بھی مانگیں۔ اللہ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

اصلاح نفس کے طریقے

مقاصد نبوت میں سے ایک مقصد لوگوں کا تزکیہ کرنا یعنی نفسوس کی اصلاح کرنا ہے۔ ایک جگہ قرآن پاک میں ارشاد ہے : ھوالذین بعث فی الامیین رسولاً منھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ ۔ ترجمہ : ’’ اللہ وہ ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ان ہی میں کا رسول جو پڑھتا ہے ان پر اس کی آیتیں اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ‘‘ اس طرح اور مقامات پر بھی اللہ نے تزکیہ نفسوس کو کارنبوت میں شمار کیا ہے۔ اس لئے کہ ہر ایک کے لئے اصلاح نفس فرض ہے۔ اللہ نے فرمایا بامراد ہوگیا وہ شخص جس نے اپنا تزکیہ کرلیا۔ یہ تزکیہ اصلاح نفس ہی کا دوسرا نام ہے۔ اب ذات نبوت تو ہمارے درمیان نہیں ہے لیکن کارنبوت تا قیامت باقی رہنگا اس لئے کہ نبی کی نبوت قیامت تک کے لئے ہے۔ اب ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود اپنے نفس کی اصلاح کی فکر کرے اور اس کے لئے اعمال نبوت کو استعمال کرے۔ موت تک ہر آدمی اپنے آپ کو اصلاح کا محتاج سمجھے ، کسی بھی مقام پر پہنچ کر اگر نفس میں یہ بات آگئی کہ میں تو بن گیا تو سمجھ لیں کہ یہ بگڑ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ اپنے نفس کو پاکیزہ اور اصلاح شدہ مت سمجھ ، فرمایا : فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن التقیٰ ۔ ’’ اپنی پاکیزگی بیان مت کرو وہ خوب جانتا ہے کہ کون کتنا متقی ہے ‘‘۔ لہٰذا ہر آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح کی فکر کرے۔ اصلاح نفس کے درج ذیل چار طریقہ ہوسکتے ہیں یہ سب یا ان میں سے جب جو طریقہ میسر ہو استعمال کرے اور ترقی کرتا جائے۔
سب سے پہلا طریقہ جو صدیوں سے آزمایا جارہا ہے جس کے ذریعہ ہزار ہا بندگانِ خدا واصل الی اللہ ہوچکے ہیں اور نفسوس مطمٔنہ اور عبادالرحمن میں داخل ہوچکے ہیں یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو کسی شیخ کے حوالہ کردے۔ اپنی ذات میں اپنی مرضی سے کوئی تصرف نہ کرے۔ اسی کے مشورہ سے اپنا ہر کام کرے۔ اپنے شیخ کی رضا ہی میں اللہ کی رضا سمجھے۔ وہ جو حکم کرے اس کی تعمیل کرے۔ تصوف کی اصطلاح میں اس کو بیعت ہونایا کسی شیخ کا مرید ہونا کہتے ہیں۔ اس طریقہ سے آدمی اپنی نفسانیت سے نکل جاتا ہے۔ اور اس میں للہیت پیدا ہوجاتی ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں لفظ تصوف سے ہی چڑھ ہے یہ وہ لوگ ہے جو تصوف سے ایسے ہی ناواقف ہیں جیسے بچہ بلوغ کی لذتوں سے ناواقف ہوتا ہے۔ یہ طریقہ لیکن اسی وقت کار گر ہوتا ہے جبکہ شیخ کامل یعنی متبع سنت اور تعلق مع اللہ والا شیخ مل جائے۔ اس لئے ایسے شیخ کی تلاش کرناچاہئے نہ کہ کسی کے بھی دھوکہ میں آجائے۔ آجکل ایسے ڈھونگی پیروں کی بھی بہتات ہے جو خود بھی گمراہ ہیں اور اوروں کو بھی گمراہ کررہے ہیں۔ اگر ایسا کوئی شخص نہ ملے تو پھر اس کا بدل مشورہ ہے کہ اپنا ہر چھوٹا بڑا کام ایک یا چند معتمد شخصوں کے مشورہ سے کرے۔ اپنی رائے پر ان کی رائے کو ترجیح دے لیکن ان کو اس معاملہ میں جانچ لیں کہ وہ واقعی میرے خیر خواہ ہیں۔ پھر اگر کبھی کوئی ظاہری نقصان بھی نظر آئے تو پرواہ نہ کرے بلکہ اس کو مقدر کی بات سمجھے کہ اسی میں میرے لئے خیر ہے جس کو میں نہیں جانتا۔
اصلاح نفس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے لئے اپنے دوستوں میں سے کوئی نگراں مقرر کرے جو ہر بات کی نگرانی کرے جہاں بھی جب بھی کوئی بات خلاف سنت خلاف شریعت بلکہ خلاف اولیٰ دیکھیں اس پر ٹوک دے۔ ان کے ٹوکنے کا برانہ مانے بلکہ اپنے عمل کو صحیح کرلیں۔ اور ٹوکنے والے کا شکر گذار رہے۔
اصلاح نفس کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے معترضین یا دشمنوں کی باتوں کو غور سے سنے۔ ان کی باتوں کا جواب نہ دے بلکہ ان کے اعتراضات اور تنقید کا اپنے نفس میں بغور جائزہ لیں۔ ان کی جو باتیں صحیح معلوم ہو ان کو قبول کرکے اپنی اصلاح کرے اور ان کو اپنا محسن سمجھے نہ کہ دشمن۔ اور جو باتیں ان کی طرف سے صحیح نہ ہو محض اعتراض یا الزام ہو تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرے کہ یہ بات میرے اندر نہیں ہے۔ دشمن کے اعتراضات کو دشمن سمجھ کر نظر انداز نہ کرے بلکہ اس کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ اپنا اصل دشمن تو صرف شیطان ہی کو سمجھے باقی ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے۔ سب عارضی دشمن ہیں اگر ان کی برائی کا بدلہ بھلائی سے دیا جائے تو یہ سب دلی دوست بن سکتے ہیں۔ وہاں شیطان کی دشمنی بالکل محقق ہے۔ ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدوا ۔ ’’ بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے پس تم بھی اس کو اپنا دشمن ہی سمجھو ‘‘
اصلاح نفس کا چوتھا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ رات میں سوتے وقت تھوڑی دیر بیٹھ کر اپنے چوبیس گھنٹے کے اعمال کا محاسبہ کرے کہ میں نے کون کونسے کام ان چوبیس گھنٹون میں خلاف سنت کئے۔ خلاف شریعت کئے کتنی باتیں میں نے غیر ضروری کی۔ کتنی باتیں خلاف اولیٰ کیں
اصلاح کے ان تما م طریقون کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ایسے ماحول میں رہنے کا پابند کرے جس میں دینداری ہو۔ ایسے لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرے جہاں غفلت اور جہالت کا غلبہ ہو۔ جہاں سے بھی دین کی باتیں سننے کا موقع ملے اس کو نہ چھوڑے۔ خود بھی جہاں موقع پائے لوگوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہے۔ لیکن حکمت کے ساتھ، نرمی شفقت اور محبت سے ہر ایک کو دین پر چلنے کے نفع سمجھائے۔ اگر کسی شیخ سے بیعت نہ ہوا ہو تو روزانہ چند اذکار مسنونہ کی پابندی کرے۔ صبح اور شام ۱۰۰! مرتبہ سوم کلمہ، سو مرتبہ درود شریف، سو مرتبہ استغفار کی پابندی کرے۔ روزانہ کم از کم ایک پارہ قرآن پاک کی تلاوت کرے۔ اگر قرآن پڑھا ہوا نہ ہو تو اس کو سیکھنے کے لئے روزانہ اہتمام سے کم سے کم آدھا گھنٹہ فارغ کرے۔ روزانہ کے معمولات اور ضرورت کے ہرعمل میں سنتوں اور مسنون دعاؤں کا اہتمام کرے۔ حضورؐ نے اپنی امت کو ہر موقع کی کوئی دعا یا ذکر کی تعلیم دی ہے اس سے نفع اٹھائے۔ ان اذکار مسنونہ کو یاد کرے اور عمل کی مشق کرے۔ خلاف سنت ہوجانے پر اس عمل کا اعادہ کرے۔ رات کے محاسبہ کے وقت جو بھی غلطیاں سامنے آئیں اس پر توبہ و استغفار کرے۔ اگر توبہ اور استغفار سے بھی وہ غلطی درست نہ ہورہی ہو تو اپنے نفس کے لئے کوئی سزا مقرر کرے۔ مثلاً اگر فلاں کام خلاف سنت ہوا تو ۱۰! رکعت نفل پڑھونگا۔ فلاں عمل چھوٹ گیا تو ۱۰! روپئے صدقہ کرونگا وغیرہ۔ اس سے نفس دھیرے دھیرے قابو میں آتا جائیگا۔ سب سے پہلے نفس امارہ جس کی عادت ہی برائی پر ڈالنا ہے جیسا کہ قرآن میں بیان کیا گیا : ان انفس لامارۃ باالسو ء ۔ اس سے پیچھا چھوٹے کا پھر وہ نفس حاصل ہوگا جس کو نفس لوامہ کہاجاتا ہے جو اتنا sensitive ہوتا ہے کہ ہر خلاف اولیٰ بات پر وہ ملامت کرتا ہے جس پر مداومت ہوتی ہے تو پھر یہ نفس نفسِ مطمٔنہ بن جاتا ہے۔ جو اللہ کی رضا پر ہی اطمینان پاتا ہے۔ اللہ کی مرضی ہی اس کی مرضی بن جاتی ہے۔ اللہ کی مرضی کے خلاف کسی بات یا کسی کام کو اس کی طبیعت قبول ہی نہیں کرتی۔ ایسے ہی نفس کے لئے اللہ کی طرف سے موت کے وقت استعمال ہوتا ہے۔ یا ایتھاالنفس المطٔنۃ الرجعی الیٰ ربک راضیۃً مرضیۃً فادخلی فی عبادی واخلی جنتی ۔ ترجمہ ’’ اے نفس مطمٔنہ لوٹ چل اپنے رب بببببببببکی طرف اس حال میں کہ وہ تجھ سے راضی ہوگیا اور اب تجھے بھی راضی کردے گا، چل میرے بندوں میں داخل ہوجا میری جنت میں داخل ہوجا ‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفس مطمٔنہ عطا فرمائے۔ آمین۔

ولی بننے کا آسان طریقہ

یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبین ہیں۔ نبوت کا دروازہ قیامت تک کے لئے بند کردیاگیا ہے۔ اس لئے کسی کے لئے اب نبی بننا ممکن نہیں ہے۔ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ کذاب ہے۔ جب نبی بننا ممکن نہیں تو صحابی بننا بھی ممکن نہیں ہے اس لئے کہ صحابی تو وہی ہوتا ہے جس نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے۔ لیکن ولایت کا راستہ قیامت تک کے لئے کھلا ہوا ہے۔ ولایت کے لئے اللہ کی طرف سے ہاتھ بڑھاہوا ہے۔ بس ہمیں ہاتھ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ ولی الذین اٰمنوا یخرجھم من الظلمات الی النور ۔ ’’ اللہ ولی ہے ایمان والوں کا ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے نور کی طرف ‘‘۔ اللہ کی طرف سے دوستی کا یہ اعلان عام ہے سارے ایمان والوں کے لئے۔ اب ہمیں قدم اٹھانا چاہئے تاکہ ہم خوف اور غم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات پاجائیں۔ اللہ کے ولیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی کاارشاد ہے الا ان اولیا ء اللہ لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون ۔ ’’ باخبر ہوجاؤ کہ بلاشبہ اللہ کے ولیوں کے لئے نہ تو خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہونگے ‘‘۔ اللہ کی ولایت کا اتنا عظیم منصب حاصل کرنے کے لئے کرنا کیا ہے؟ اسی آیت کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ الذین اٰمنوا وکانو یتقون ۔ ’’ یہ اولیاء وہ لوگ ہیں جو ایمان لائیں اور تقویٰ اختیار کریں ‘‘۔ یہ صفت تقویٰ ایمان پر منحصر ہے جتنا ایمان قوی ہوتا ہے اتنا ہی تقویٰ قوی ہوتا ہے۔ تقویٰ میں ضعف ایمان میں ضعف کا نتیجہ ہوتا ہے۔ تقویٰ تمام نیک اعمال کا سرمایہ ہے۔ حدیث میں ان التقویٰ ملاک لحسنات یعنی تقویٰ نیکیوں کا خزانہ ہے۔ اب یہ تقویٰ کہا ملے گا۔ اس کے لئے اللہ ہی کا بتایا ہوا نسخہ یہ ہے کہ ہم اپنے برے ماحول کو چھوڑیں اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔ قرآن پاک میں جہاں تقویٰ کی تلقین کی گئی ہے اسی کے ساتھ اس کے حصول کا راستہ بھی بتادیا گیا ہے۔ فرمایا : یاایھا الذین اٰمنوا تقو اللہ وکونو مع الصادقین ۔ ’’ اے ایمان والو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کے لئے سچوں کے ساتھ رہو ‘‘ یہ صحبت اور ماحول سے آدمی تقویٰ میں یعنی نیک اعمال میں ترقی کرتا رہتا ہے۔ جس سے ایمان پر استقامت حاصل ہوتی ہے۔ اور ایمان لا کر اس پر جمنا ہی ولی ہونے کا دوسرا نام ہے۔ جو آدمی ایمان لانے کے بعد کبھی تو اطاعت کرے اور کبھی نافرمانی یہ اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔ اللہ کے اولیاء کو اللہ کی کامل اطاعت حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ کے مطیع اور فرماں بردار بنے رہتے ہیں۔ زمانہ کے تغیرات اور حوادث ان کو دین سے اور اللہ کی اطاعت سے نہیں ہٹا سکتے۔ یہ ایمان پر جمے ہوئے لوگ ہی اللہ کے ولی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقاموا فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ۔ ’’ بلاشبہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے ان کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہونگے ‘‘
اولیاء اللہ کی ایک پہنچان یہ ہے کہ یہ اللہ سے بہت شدید محبت رکھتے ہیں۔ اور اس محبت میں اللہ کے حکم سے وہ حضورٔ کی سنتوں کا اتباء کرتے ہیں۔ کوئی شخص حضورؐ کی پیروی کئے بغیر اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔ اتباء سنت ہی ولایت کی کسوٹی ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے : قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم واللہ غفور الرحیم ۔ خود رسول اللہ ﷺ ہی سے کہلوایا ، ’’ آپؐ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباء کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہون کو معاف کردے گا، اور اللہ بڑا معاف فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے ‘‘۔
حضورؐ سے محبت کی کسوٹی بھی حضورؐ کا اتباء ہے۔ فرمایا آپؐ نے من احب سنتی فقد احبنی ومن احبنی کان معی فی الجنۃ ۔ ’’ جس نے میری سنت سے محبت کی پس اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرا ساتھی ہے ‘‘۔ غرض قرآن حدیث کی روشنی میں اللہ کی ولایت کا پیمانہ حضورؐ کے طریقوں کی پیروی ہے۔ جو اللہ کا ولی بننا چاہتا ہو وہ حضورؐ کی سنتوں کو اپنائے۔ اپنے ہر ہر عمل میں حضورؐ کی سنت کو اہتمام سے داخل کرنے کی کوشش کرے۔ عبادات کی سنتوں کو بھی اپنائے۔ عادت کی سنتوں کو بھی اپنائے۔ صحابہ کرام جو حضورؐ کے عاشق تھے اگر ان کی سیرت پاک پر نظر ڈالی جائے تو وہ ہر قدم پر حضورؐ کا اتباء کرنے والے تھے۔ ہم سنت کو سنت سمجھ کر چھوڑتے ہیں اور صحابہ سنت کو سنت سمجھ کر مضبوطی سے پکڑا کرتے تھے۔ ہم خود اپنی ذات کے لئے بھی اس پیمانہ کواستعمال کریں اور دوسروں کے لئے بھی۔ آج ہمارے اس زمانہ میں ولایت کا معیار اتنا گھٹ چکا ہے کہ ہم پاگلوں کو اللہ کا ولی سمجھ بیٹھے ہیں۔ مجذوب ولایت کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے کہ جب آدمی کمزور دل ہوتا ہے اللہ کی محبت کی تاب نہیں لاسکتا یا اللہ کی تجلیات کو دیکھ کر ہوش وحواس کھودیتا ہے وہ مجذوب کہلاتا ہے۔ لیکن ولی کامل وہ ہوتا ہے جو اللہ کے تعلق کو جھیل جاتا ہے۔ صحابہ سب کے سب اللہ کے بڑے اولیاء تھے بلکہ ان میں سے دانیٰ درجہ رکھنے والا بھی اس درجہ کا تھا کہ ساری دنیا کے بعد والے اولیاء اللہ مل کر اس کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتے۔ مگر سیرت صحابہ میں دیکھئے کہ وہ عام انسانوں کی طرح رہتے تھے۔ ان کے ہاتھوں پر بڑی بڑی کرامات کا ظہور ہوا۔ مگر وہ ان کرامات کو بھی ہضم کرجاتے تھے۔ ہماری حالت یہ ہے کہ کسی سے اتفاقاً بھی کوئی بات خلاف معمول صادر ہوجائے تو اس کو اللہ کا ولی سمجھنے لگتے ہیں۔ چاہے وہ کتنا ہی خلاف سنت اور خلاف شریعت زندگی گذار رہا ہو۔ یادر کھئے کہ خلاف سنت اور خلاف شریعت زندگی گذارنے والا کبھی اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔
ایک مرتبہ حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ (بڑے پیر صاحب) کے سامنے ایک ولی کا ذکر کیا گیا کہ وہ ہوا میں اڑتا ہے۔ زمین پر اتر کر نماز پڑھ کر پھر اڑجاتا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ مجھے اس کی نماز پڑھنے کی جگہ دکھاؤ۔ دیکھا تو زمین پر اس کے سجدے کے نشان تھے۔ حالتِ سجدہ میں انگلیوں کے کھلا ہونے کی نشانی دیکھ کر آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا ولی نہیں بلکہ شیطان ہے۔ حضورؐ کی سنت تو سجدہ میں انگلیوں کو ملا کر رکھنا ہے۔ اولیاء صادقین کی سیرت کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کامل طور پر متبع سنت تھے کہ کرامات کا ظہور دلیل ولایت نہیں ہے اس لئے کہ جو شخص بھی خلاف نفس امور کا اہتمام کرے گا اس سے خلاف معمول احوال کا ظہور ہوگا۔ کرامات کے ظہور کے لئے آدمی کا مومن ہونا بھی شرط نہیں ہے بہت سے ہندو جوگی، سنیاسی ایسے گذرے ہیں جنہوں نے اپنے نفس کو مار کر اس قسم کی چیزیں حاصل کر لی ہیں۔ جو حقیقی اولیاء اللہ ہوتے ہیں وہ اپنی کرامات کو بھی چھپاتے ہیں اور اپنے ولی ہونے کو بھی مخفی رکھتے ہیں۔ یہ دنیا دار اور بناؤٹی ولی ہوتے ہیں جو محض لوگوں سے دنیا حاصل کرنے کے لئے اپنے کو باکرامت ظاہر کرتے ہیں۔حالانکہ دین سے جاہل ہوتے ہیں۔ ہوش و حواس میں ہو کر بھی نماز نہیں پڑھتے۔ جب امام الانبیاء سید المرسلین ﷺ کے لئے نماز معاف نہیں ہوئی اور صحابہ میں سے کسی کے لئے نماز معاف نہیں ہوئی ، صحابہ کرام سب کے سب اور تابعین اور تبع تابعین اور ہر زمانہ کے اولیاء صادقین حضورؐ کے اتباء میں نماز باجماعت کا اہتمام عام مسلمانوں کے ساتھ کرتے آئے ہیںاور آج کا ولی اپنے آپ کو شریعت کے اتباء سے بالا تر سمجھ کر نماز کا تارک ہوتا ہے یہ ہرگزولی نہیں ہے۔ ہاں اولیاء اللہ کی بجائے اولیاء الشیطان میں سے ہوسکتا ہے۔ ایسے پیر جو سنت کی پیروی نہیں کرتے پیر بنانے کے تو درکنار نظر التفات کے بھی قابل نہیں ہے۔ یہ کذاب، دغاباز بلکہ حرام خور ہیں جو ولایت کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں سے نذرانے وصول کرتے ہیں۔ اعزاز واکرام کے مستحق بن جاتے ہیں۔ یہ عوام کی جہالت ہے کہ انہوں نے ولایت کا مقام ہی نہیں سمجھا۔ اگر ولایت ان کے نزدیک واضح ہوتی تو وہ خود بھی اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ لیکن افسوس کہ وہ جھوٹے اولیاء کے فریب میں وہ اپنی دنیا اور آخرت کو برباد کررہے ہیں۔ اللہ ہی ہماری جہالت کو دور فرمائے۔ آمین۔

روٹی کپڑا اور مکان

عام انسانوں کاخیال یہ ہے کہ روٹی کپڑا اور مکان انسان کی تین بنیادی ضرورتیں ہیں۔ اس کی وجہ سے مسلمان بھی یہی سمجھنے لگے ہیں کہ واقعی یہی ہماری تین بنیادی ضرورتیں ہیں۔ یہ تینوں ضرورتیں اگر اچھی طرح پوری ہوجائیں تو ہم کامیاب ہیں۔ اگر ان ضرورتوں کے پورا کرنے میں ہم پیچھے رہ گئے اور معیاری طریقہ پر یہ پوری نہ ہوئیں تو ہم ناکام ہیں جبکہ اسلامی نقطہ نظر سے یہ ہماری بنیادی ضرورتیں نہیں ہیں۔ ان سے بڑی ضرورت ہماری دین ہے۔ ہر انسان کی کامیابی کا انحصار دین پرہے۔ دین پر چلے بغیر کوئی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ اچھا کھاتا پیتا آدمی جس کے پاس مکان ہیں بہت وسیع عمدہ ہے اور لباس بھی بہت اعلیٰ قسم کا پہنتا ہے لیکن بے دین ہے اللہ کا نافرمان ہے تو یہ ناکام ہے۔ اس کے کھانوں ، لباس اور مکان کی عمدگی اسے دنیا و آخرت کی تباہی سے نہیں بچاسکتی۔ تو بنیادی ضرورت تو دین ہے۔ دین داری کے ساتھ ایک آدمی جھونپڑی میں رہتا ہے ، پھٹا پرانا لباس پہنتا ہے ، سیدھا سادہ کھاتا ہے تو یہ آدمی کامیاب ہے۔ ان ضرورتوں کا پورا نہ ہونا آدمی کی ناکامی نہیں ہے۔
فرض کیجئے کہ ایک شخص اتنا محتاج ہے کہ اس کے پاس کھانا نہیں ہے۔ کھانے نہ ملنے کی صورت میں اسے تکلیف ہوگی۔ اور یہ تکلیف بڑھتے بڑھتے انتہا یہ ہوگی کہ یہ آدمی مرجائے گا۔ تو مرنا ناکامی نہیں ہے۔ خوب پیٹ بھر کر عمد ہ عمدہ غذائیں کھانے والا بھی مرے گا۔ مرنا کوئی ناکامی نہیں ہے۔ مرنا تو ہر ایک کو ہے کل نفس ذایقہ الموت ۔ ہر جاندار کو مرنا ہی ہے۔ لیکن جو دینداری کے ساتھ مرا وہ تو اب آخرت میں اس کے لئے وہ سب کچھ ہے جس کو اس کا جی چاہے۔ جو شخص دین پر نہ چلتے ہوئے مرا وہ ناکام مرا۔ اب آخرت میں اس کی پٹائی ہوگی۔ قبر اس کو دبائیگی۔ قیامت تک اس کے لئے برزخ کا عذاب ہے۔ کھانے پانی کا نہ ملنا کوئی ناکامی نہیں ہے۔ نہ یہ بنیادی ضرورتیں ہیں۔ سب سے پہلے دین ہے۔ اگر کسی کو پانی نہ ملا تو اس کو تکلیف ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ وہ پیاس کی شدت سے مرجائے۔ تو مرنا توویسے بھی ہے مگر جو پیارس کی وجہ سے مرا وہ ناکام نہیں ہے اگر دیندار ہے تو کل قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک سے آبِ کوثر پلایا جائے گا۔ اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ پھر جنت میں جانے کے بعد جوپیئے گا وہ سب لذت کے لئے ہوگا۔ پیاس کی تکلیف ہمیشہ کے لئے ختم ۔ وہاں پینے کے لئے جو مشروبات ملے گے وہ quality کے لحاظ سے اتنے کہ پانی، دودھ شہد اور پاکیزہ شراب کی نہریں جاری ہوگی۔
چارقسم کی نہروں کا قرآن پاک میں ذکر ہے انہار من ماء غیر آسن ۔ ایسے پانی کی نہریں جو سڑے نہیں۔ دنیا میں تو پانی کا ماخذ اور منبع مٹی ہے اور وہاں جنت میں اللہ کے امر کن سے بناہوا پانی ہے جو ٹھنڈا اور لذیذ ہے ۔اور مقدار پر روک ٹوک نہیں ہے جتنا جی چاہے پیو۔ نہ پیٹ دکھے گا نہ پیشاب آئیگا۔ دوسری قسم کی نہریں ، فرمایا : انہار من لبن لم یتغیر طعمہ ۔ ایسے دودھ کی نہریں جس کا مزا نہیں بگڑ ینگا۔ یہ دنیا ہے جہاں دودھ کا ماخذ گائے ، بھنس جیسے جانور ہیں اور جنت میں اللہ کے امر سے بغیر سبب کے بنا ہوا دودھ ہوگا۔ دنیا کا دودھ تھوڑی سی دیر میں خراب ہونے لگتا ہے۔ جنت کا دودھ کبھی خراب نہیں ہوگا۔ اور جتنا چاہے پیو کوئی دست نہیں لگیں گے۔ تیسری قسم کی نہریں ، فرمایا : انہار من عسل مصفی ۔ صاف ستھرے شہد کی نہریں۔ دنیا میں شہد کا ماخذ مکھیوں کا پیٹ ہے اور وہ بھی اکثر اصلی نہیں ملتا یا مشکل سے ملتا ہے اور جنت میں یہ اصلی شہد نہروں سے ملے گا ایسا صاف شفاف کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ چوتھی قسم کی نہر یں ، فرمایا : انہار من خمر لذۃ للشاربین ۔ شراب کی نہریں جس میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے۔ دنیا میں جو شراب ہے وہ حرام کردی گئی اس لئے کہ اس کے پینے سے عقل میں فتور آجاتا ہے لیکن جنت کی شراب ایسی پاکیزہ ہوگی کہ اس کی وجہ سے عقل خراب نہیں ہوگی۔ ایک جگہ اس شراب کو پلانے کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے۔ وسقا ھم ربھم شرابا طہورا۔ اور ان کو (جنتیوں کو ) ان کا رب پاکیزہ شراب پلائیگا۔ اور کبھی ان مشروبات کو جنت کے خدام لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہینگے جنہیں غلمان کہا گیا ہے، پلائینگے جن کے پاس بہترین قسم کے پیالے اور آبخورے ہوگے۔ تو اصل ہماری بنیادی ضرورت تو دین ہے۔
اگر دین ہے تو آخرت میں یہ سارا اعزاز و اکرام ہے۔ اگر دین نہیں ہے تو وقتی طور پر کھانے پینے ، لباس اور مکان کی ضرورت پوری ہوگئی مگر آخرت میں کیا ہوگا۔ نہ کھانا ہے نہ پانی نہ مکان۔ جہنم میں بھوک کی وہ شدت ہوگی کہ جہنمی زقوم جیسے درخت کا کانٹے دار پھل کھاجائیگا جو اس کی حلق میں اٹک جائیگا۔ اور پیاس کی وہ شدت ہوگی کہ آدمی جہنمیوں کا خون اور پیپ پی لے گا۔ اس لئے آدمی کھانے پینے کپڑے اور مکان ہی کو اپنی ضرورت نہ سمجھے بلکہ اصل ضرورت یعنی دین کی فکر کرے۔
اگر دین نہیں ملا تو تھوڑے دن کی لذتیں ہیں اور ہمیشہ کی ناکامی ہے۔ اگر آدمی دیندار ہے لیکن اچھا مکان نہیں ملا۔ زندگی کچے مکان میں گذ گئی یا جھونپڑی میں گذر گئی یا فٹ پاتھ پر گذر گئی تو یہ کوئی نقصان کی بات نہیں ہے کہ مرنے کے بعد جنت میں ایسے مکانات ملینگے جس کا دنیا میں کوئی خواب میں بھی تصور نہیں کرسکتا۔ ایسے محلات جن میں ۷۰! ہزار کمرے اور ایک ایک کمرے میں ۷۰! ہزار دروازے ، مکانات کی دیواریں سونے او چاندی کی اینٹوں کی۔ گارامشک اور زعفران کا، عجیب و غریب قسم کے دبیز ریشم کے استروالے بسترے۔ پھر یہ مکانات باغات کے سائے میں ہیں۔ باغات ایسے کہ صدابہار درختوں سے لدے ہوئے جن میں پھل اور میوے ہر وقت موجود ہیں اور وہ پھل اور میوے بھی جنتیوں کے تابع۔ ان پھلوں کو توڑنے کی اور حاصل کرنے کی کوشش میں کوئی دقت اور مشقت نہیں ہونگی۔ بلکہ پھلوں کے خوشے اور ٹہنیاں جنتی کی چاہت پر حرکت میں آئیگی۔ دل چاہنگا تو ٹہنیاں خود منھ کے قریب آجائیگی۔ چاہے تو منھ لگا کر کھالے چاہے ہاتھ سے توڑ کر کھالے۔
ساری خوشخبریاں ان لوگوں کے لئے ہیں جو دین کو اپنی بنیادی ضرورت سمجھیں ، غیروں کی طرح روٹی کپڑا اور مکان ہی کو بنیادی ضرورت سمجھنے والے دین کی پرواہ کیوں کرینگے۔ پیٹ بھر گیا تو دین سے آزاد ، عیش و آرام کا سارا ساز و سامان موجود ہے۔ اب دین کی کیا ضرورت۔ آج ہمارے افکار و خیالات ہی بدل گئے۔ نظریات اور سوچنے کے انداز ہی بدل گئے ۔ بغیر ایمان والوں کی طرح سے ہم بھی ان ہی لوگوں کو کامیاب سمجھ رہے ہیں جن کے پاس دنیا کا ساز و سامان اور مال و دولت ہے۔ جبکہ دنیا کا سارا مال و متاع آزمائش کاسامان ہے۔ اس سے کامیابی اور ناکامی کا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ اگر دنیا کی چیزوں کا نہ ہونا کوئی ناکامی کی بات ہوتی تو العیاذ باللہ ہمیں یہ ماننا پڑینگا کہ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ ناکام ہیں۔ اس لئے کہ آپؐ کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے مکانات جن میں کوئی سامان نہیں ہے۔ بستر بھی برابر نہیں ہے۔ کسی گھر میں کپڑوں کا کوئی جوڑا تہہ کر کے نہیں رکھا گیا ۔ جو بدن پر ہے وہی آپ کا کل لباس ہے۔
ایسا کئی بار ہوا کہ آپ کو مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے آنے میں دیر لگی۔ معلوم ہوا کہ کپڑے دھو کر سکھائے گئے تھے اس میں دیر ہوگئی۔ دوسرا جوڑا نہیں تھا کہ اسے پہن لیتے۔ کھانے کی یہ حالت کہ کئی کئی دن گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ بس کھجور اور پانی پی کر دن بسر ہورہے ہیں لیکن کیا اس کو کوئی مسلمان ناکامی تصور کرسکتا ہے۔ آپ حبیب رب العالمین ہیں۔ آپ کو کبھی اس کا خیال بھی نہیں آتا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میری یہ حالت کیوں ہے۔ آپ کی نظر میں دنیا کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ اس کا ہونا نہ ہونا سب برابر ہے۔ گذارہ کے قابل دنیا کی چیزیں مل جائے کافی ہے۔ کوئی آدمی پانی کا گھڑا پنے اوپر لاد کر گھر سے نہیں نکلتا ۔ جانتا ہے کہ جہاں پیاس لگے گی پانی مل جائیگا۔ ایک دو گلاس پانی کے لئے پورا گھڑا لیکر کیوں پھروں جبکہ ہر وقت اس کے پھوٹ جانے کا بھی خطرہ ہے اور مشقت کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔ گھڑے کی قیمت بھی ضائع ہوگی۔ یہی حال پورے اسباب زندگی کا ہے۔ زیادہ سامان اپنی ملک میں رکھنا ایک بوجھ ہے جس کا قیامت کے دن حساب دینا پڑینگا۔ اسی لئے صحابہ کرام بقدر ضرورت ہی سامان اپنے پاس رکھتے تھے۔ ضرورت سے زائد کواللہ کی راہ میں خرچ کر کے آخرت کے لئے ذخیرہ کردیتے تھے۔بڑے سمجھدار لوگ تھے۔ ان کے متبعین کو بھی ان ہی کی پیروی کرنی چاہئے۔ ہر زمانہ میں صلحاء اور اولیاء اللہ ان ہی کے نقش قدم پر چلے ہیں بلکہ ان ہی کی راہ پر چل کر اللہ کے ولی بنے ہیں۔ ہم تقلید کررہے ہیں غیروں کی اور انتظار کررہے ہیں اللہ کی مددوں کا ۔ یہ کیسے ممکن ہے۔
اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے خیالات و افکار کو بدلنا ہوگا۔ ہم وہی سوچین وہی سمجھیں جو حضور نے سمجھایا ، جب ہم مسلمان ہیں تو ہمارے نظریات بھی وہی ہونے چاہئے جو حضورؐ کے تھے۔ زمانہ جو سوچ رہا ہے ہم وہ نہیں سوچنگے و ہ نہیں بولینگے جو زمانہ بول رہاہے۔ بلکہ وہی بولینگے جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ تو ہم یہ کہنا شروع کریں کہ ہماری سب سے بڑی ضرورت دین ہے۔ روٹی کپڑا مکان تو اللہ کے ذمہ ہیں وہ خود ہمیں مہیا کرے گا۔ دین کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اس کے لئے ہمیں خود محنت کر کے حاصل کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

آنکھ والو! عبرت حاصل کرو

دنیا میں کوئی واقعہ اور حادثہ یونہی اچانک وقوع پذیر نہیں ہوتا بلکہ مہینوں اور برسوں پہلے سے اس کا انتظام ہوتا ہے اس کے اسباب وعلل جمع ہوتے رہتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ اچانک ہوگیا۔ جو بھی واقعہ یا حادثہ واقع ہوتا ہے اگر بصیرت ہو تو اس کی وجہ بھی سمجھ میں آسکتی ہے۔ لیکن ظاہربیں نگاہیں تو صرف اس کے ظاہری اسباب ہی کو دیکھتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ آنکھ والوں کو دعوت دے رہا ہے کہ ہر واقعہ اور حادثہ سے عبرت حاصل کرو فاعتبرو یا اولی الابصار یعنی اے آنکھ والو عبرت حاصل کرو۔ یہ دنیا عبرت کی جگہ ہے صرف تماشا دیکھنے کے لئے نہیں ہے۔ عبرت کے طور پر دو چشم دیدواقعات لکھے جارہے ہیں۔
ایک یہ کہ ناگپور سے تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا گاؤن ہے ، جہاں میرے بھی کچھ قریبی رشتہ دار رہتے ہیں۔ گاؤں اتنا چھوٹا ہے کہ صرف دو مسجدیں ہیں۔ چند سال پہلے ایک چھوٹی سی بات پر ہندو مسلم فساد ہوگیا۔ جو معمولی مارپیٹ پر بہت جلد ختم ہوگیا۔ نہ کوئی جانی نقصان ہوا نہ مال کا سوائے ایک گھر کے۔ میرے بہت قریبی رشتہ دار جو بہت مالدار تھے۔ کرانہ کی ہول سیل دوکان تھی اطراف کے بہت سے گاؤں دیہاتوں میں وہاں سے مال جاتا تھا۔ لاکھوں رپیوں کا کاروبار تھا، ٹرکوں سے مال اترتا تھا اور بیل گاڑیوں سے جایا کرتا تھا اور تو کچھ نہیں ہوا، وہ پوری دوکان اور گودام جس میں مال کا ذخیرہ ہوا کرتا ہے۔ اور دوکان میں موجود ساری نقد رقم سب جلادی گئی۔ جانی نقصان کچھ نہیں ہوا۔ ان کے تین بیٹے ہیں اب تینوں دوسروں کی کرانہ کی دوکان پر ملازمت کررہے ہیں۔ برسوں تک جو خود سیٹھ بنے بیٹھے تھے کئی کئی نوکر جن کے ماتحت تھے اب خود کسی اور کی ماتحتی میں کام کررہے ہیں۔ بعض مرتبہ جھڑکیاں بھی سننا پڑتا ہے۔ یہ کیوں ہوا؟ جس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مال اور شان و شوکت سے نوازاتھا ، کبھی زکوٰۃ نہیں دی۔ نماز روزہ کا کوئی نام ہی نہ تھا۔ رمضان ، غیر رمضان سب برابر، جمعہ سنیچر میں کوئی فرق نہیں۔ اب اللہ نے آنکھیں کھول دی تو پانچوں وقت مسجد میں حاضری دے رہے ہیں۔ دوسروں کے لئے یہ واقعہ عبرت کا ہے ہم پہلے ہی سے اللہ کے اوامر کے پابند رہے تاکہ اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی کو بھی خوش گوار بنائے ورنہ چندروزہ چمک دمک میں آدمی دھوکہ کھاجاتا ہے اور غفلت میں زندگی گذرتی ہے اور اچانک پکڑ ہوجاتی ہے سارا عیش مکدر ہوجاتاہے۔ اگر ایمان والے نیک اعمال کی پابندی کریں تو اللہ کا وعدہ ہے کہ دنیا ہی میں حیات طیبہ عطا کی جائیگی۔ فرمایا من عمل صالحا من ذکر اوانثی وھو مومن فلنجیینہ حیوۃ طیبۃ ۔ترجمہ : ’’ جو کوئی نیک عمل کرے چاہے مرد ہو یا عورت بشرط یہ کہ مومن ہو ہم اسے پاکیزہ اور خوش گوار زندگی عطا کرینگے ‘‘۔
دوسرا واقعہ شہر کے ایک صاحب کا ہے جن کا ظاہری حلیہ تو سنت کے خلاف ہے مگر نمازی ہیں حاجی بھی ہیں۔ اور اللہ نے خوب مال سے نوازا ہے۔ کئی بلڈنگوں اور دوکانوں کے مالک ہیں بہت بڑا کاروبار ہے ایک بیٹا بھی باہر کسی ملک میں ملازم ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہیں ہوتی ، ان کے ایک داماد ہیں جو کھانے پیتے معمولی حیثیت کے جوان ہیں۔ وہ اپنے خسر ہی کے ایک مکان میں کرایہ سے رہتے ہیں۔ میں نے ان صاحب سے کہا کہ آپ یہ مکان اپنے داماد ہی کو دیجئے ، اگر ویسے دینا ناگوارا ہو تو کرایہ کی بجائے ان سے ماہانہ قسط وار قیمت لیجئے ۔ جب قسطیں پوری ہوجائیں مکان ان کے نام پر کردینا۔ غریب کا خود کا گھر ہوجائیگا۔ حاجی صاحب خاموش رہے۔ یہی بات میں نے داماد سے بھی کی کہ تم اپنے خسر سے ایسی بات کرو کب تک کرایہ کے مکان میں رہوگے۔ مگر حاجی صاحب پر کوئی اثر نہیں نہ ہوا۔
اب چند سال بعد ان ہی کا ایک واقعہ میرے سامنے آیا ان کا بیچ شہر میں بہت موقع کی جگہ میں ایک بہت بڑا پلاٹ تھا اس پر انہوں نے کئی فلیٹ والی ایک کثیر منزلہ عمارت بنانا طے کیا اور ٹھیکے دار سے اس بات پر سودا ہوا کہ وہ بنائیگا اور اس بلڈنگ میں گراؤنڈ فلور پر ایک flat اس کا ہوگا۔ کام شروع ہوا بلڈنگ تعمیر ہوگئی اس ٹھیکیدار نے ایسی چال چلی کہ وہ پوری بلڈنگ پر اسی کا قبضہ ہوگیا۔ اب کورٹ میں کیس چل رہا ہے پتہ نہیں فیصلہ حاجی صاحب کی زندگی میں ہوگا یا موت کے بعد۔ ایک چھوٹے سے سیدھے سادھے مکان میں بخل کیا اور لاکھوں کی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایسی عبرت کے واقعات آپ کو بہت ملے گے۔ آدمی مال کی محبت میں بخل کرتا ہے اور دوسری جگہ اپنے محبوب مال کو ضائع کرکے پچھتاتا رہتا ہے۔ اگر وہ مکان اپنے غریب داماد کو دے دیتے تو آخرت کے لئے بھی ذخیرہ ہوتا اور دنیا میں بھی ان کی جائیداد میں برکت ہوتی۔ مگر آدمی سمجھتا نہیں ہے۔ آدمی کی غفلت اور اللہ سے دوری اسے نقصان پہنچاتی ہے۔ جب آدمی اللہ کو بھلا دیتا ہے تو پھر اللہ بھی ایسے لوگوں کو اپنے نفع نقصان سے بھلا دیتا ہے۔
قرآن پاک میں للہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ولا تکونوا کالذین نسواللہ فانساھم انفسھم اولائک ھم الفاسقون ترجمہ : ’’ ایمان والوں سے خطاب ہے کہ تم ویسے نہ بنو کہ جن لوگوں نے اللہ کو بھلا دیا اور پھر اللہ نے انہیں اپنی جانوں سے بھلا دیا ‘‘۔ اس کے آگے ارشاد خداوندی ہے لا یستوی اصحاب النار واصحاب الجنۃ اصحاب الجنۃ ھم لفائزون ۔ یعنی دوزخ والے جنت والے برابر نہیں ہوسکتے، جنت والے ہی حقیقی کامیاب ہیں۔ یہ اصحاب الجنۃ کون لوگ ہیں یہ وہی ہیں جنہوںنے اپنی آخرت کی زندگی کو سامنے رکھا اور دنیا میں اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کی مشغولی میں زندگی گذار رہے ہیں۔ اور جہنم والے کون لوگ ہیں جنہوں نے اپنی آخرت کو بھلا دیا اور دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے۔ مال کے جمع کرنے میں مصروف ہیں اللہ کی رضا یا ناراضی کی پرواہ نہیں کرتے۔ دنیا ہی کو بنانے کی فکر میں لگے ہیں۔ یہ لوگ اپنی دنیا کو بھی خراب کررہے ہیں اور آخرت کو بھی۔ چند روز کے لئے دنیا کی چمک دمک میں پھنس گئے۔ اور اسی سے اپنی امیدیں لگا بیٹھے۔ یہی لوگ ہیں کہ جب ان کی موت آجاتی ہے تو اللہ سے مہلت مانگنے اور دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی تمنائیں کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں کا اللہ نے اپنے کلام میں ذکر فرمایا ، حتیٰ اذا جاء احدھم الموت قال رب الرجعون لعلی اعمل صالحا فی ما ترکت کلا انھا کلمۃ ھوقائلھا ومن ورائھم برزخ الی یوم یبعثون ۔ترجمہ : ’’ ان میں سے جب کسی کی موت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں لوٹا دے تاکہ جن اعمال کو ترک کیا انہیں کرلیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہرگز نہیں، یہ تمہاری بکواس ہے یعنی اگر کچھ کرنا تھا تو پہلے کرلیتے اور پھر قیامت تک ان کے لئے برزخ کا عذاب ہے ‘‘۔ اس کے بعد جب قیامت کے میدان میں جمع ہوگے تو اس وقت بھی یہی خواہش کرینگے کہ یا اللہ ایک بار لوٹا دے حالانکہ اس وقت یہ زمین وآسمان کا سارا نظام ختم ہوچکا ہوگا۔ لوٹنے کی کوئی جگہ ہی باقی نہیں رہے گی مگر کہے گے ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون ’’ اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا، سن لیا ، اب ہمیں لوٹا دے تاکہ نیک عمل کرلیں اب ہمیں یقین آگیا ‘‘۔ مگر اس وقت تو لوٹنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوگی۔ ایسے لوگ جہنم میں پہنچنے کے بعد بھی اپنی واپسی کی تمنا کرنا نہیں چھوڑ ینگے۔ قرآن پاک میں ان کا بھی ذکر ہے کہے گے ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فانا ظالمون قال الخسوا فھا ولا تکلمون یعنی اے ہمارے رب ایک باراس جہنم سے نکال لے اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو بے شک ہم ظالم ہونگے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کی طرف توجہ ہی نہیں فرمائیگا۔ پھر بڑے طویل عرصہ کے بعد پتہ نہیں کتنے ہزار سال چلاتے ہوئے گذرجائینگے ، پھر جب اللہ چاہے گا تو ان کی طرف توجہ فرمائیگا اور یہ حکم دے گا کہ تم اسی جہنم میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات بھی مت کرو۔ کہتے ہیں کہ جب اللہ ان سے فرمادے گا کہ بات بھی مت کرو تو ان کی بات کرنے کی قوت ہی سلب ہوجائیگی اس کے بعد وہ صرف جانوروں کی طرح بھوک سکینگے۔ بات انسانوں کی طرح کر ہی نہیں سکینگے۔
اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آخرت کا مسئلہ بہت کٹھن ہے۔ اور ہم اس سے غافل ہیں۔ آخرت کے ان احوال پر بڑی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہیں۔ یہ اللہ کا کلام ہے جس کے غلط ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ اور اس صادق و مصدوق کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور رسول اللہ ﷺ پر اس فرشہ کے ذریعہ پہنچا ہے جس کو خود رب الملائکہ امانت دار کہہ رہا ہے۔ وہ خیانت نہیں کرسکتا۔ اور اللہ تعالیٰ خود اپنے بندون سے جھوٹ کیوں کہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کا سامنا ہر انسان کو کرنا ہے۔ بس کامیاب ہے وہ شخص جو دنیا میں اپنی آخرت کی زندگی کو یاد رکھے۔ اور اس دنیا کے دھوکہ میں نہ پڑے۔ اللہ نے جو اس دنیا کا خالق ہے خود ہی اس دنیا کی زندگی کو دھوکہ کا سامان کہا ہے۔ وما الحیوۃ الدنیا الا متاء الغرور یعنی دنیاکی زندگی کچھ نہیں ہے سوائے دھوکہ کے سامان کے۔ یعنی آدمی اس دنیا میں دھو کہ میں پڑھ جاتا ہے اور آخرت کو بھول جاتا ہے ۔اللہ ہمیں اپنے فضل سے سمجھنے کی فوفیق عطا فرمائے۔ اور آخرت کا استحصار نصیب فرمائے۔ آمین۔

فقراء و مسلمین کے نام

یہاں فقراء سے مراد بھکاری نہیں بلکہ وہ غریب اور نادار مسلمان ہیں جن کو مفلسی نے ستار کھا ہے۔ انہیں سب سے پہلے مژدہ سناتا ہوں کہ رسول اللہ صلعم نے یہ بشارت سنائی ہے کہ میری امت کے فقراء ومساکین میری امت کے اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہونگے۔ اور ایک حدیث میں آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے مفلس بندوں سے ایسی معذرت کرے گا جیسے دنیا میں آدمی آدمی سے کرتا ہے اور فرمائیگا کے اے میرے بندہ میں نے دنیا میں تجھے دنیا سے اس لئے نہیں محروم رکھا تھا کہ تو میرے نزدیک ذلیل تھا بلکہ اس لئے کہ آج تجھے نوازوں۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے اتنا دے گا کہ وہ راضی ہو جائیگا۔
اس لئے غریب اور مسکین مسلمانوں! اطمینان رکھو اور اللہ کی تقسیم پر راضی رہو۔ تمہاری اس غربت اور تنگی میں نہ تمہاری کاہلی کا اثر ہے اور نہ ہی تمہاری کم عقلی کا دخل ہے یہ تو اللہ کی تقسیم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یبسط الرزق ملن یشاء ویقدر ترجمہ : ’’ اللہ تعالیٰ جن کے لئے چاہتا ہے رزق کو تنگ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے ‘‘۔ یہ دنیا کی زندگی امتحان کی جگہ ہے اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے مال دیکر آزماتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے غریب اور مسکین رکھ کر آزماتا ہے۔ اس میں آدمی کا فعل کا دخل نہیں ہے بلکہ تقدیری فیصلہ ہے جس کے لئے مال داری طے کردی جاتی ہے اس کے لئے ویسے اسباب بھی مہیا کردیئے جاتے ہیںاور جس کے لئے تنگی اور فقر فاقہ میں امتحان لینا مقصود ہوتا ہے اس کے لئے اس کی محنت کو بے اثر کردیا جاتا ہے اور اس کی اسکیمیں فیل ہوجاتی ہیں۔ بندہ کی مقبولیت اس میں ہے کہ وہ رضا بالقضا کا پابند ہو۔ غربت اور تنگ دستی کی وجہ سے اپنے کو حقیر اور ذلیل نہ سمجھے۔ نہ ہی مالداروں کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے۔ نہ ہی کسی کے سامنے دست سوال دراز کرے۔ جب کوئی ضرورت پیش آئے اللہ کا دربار کھلا ہوا ہے۔ حضورصلعم نے ہمیں نماز کے ذریعہ اللہ سے لینے کا راستہ بتایا ہے، فرمایا کہ جب بھی تمہیں کوئی ضرورت پیش آئے ، چاہے اس کا تعلق مال سے ہو یا بادشاہ سے یا کسی اور مخلوق سے دور رکعت نماز ، صلوٰۃ الحاجات کی نیت سے پڑھو نماز کے بعد ایک دعا بتائی گئی ہے وہ پڑھ کر جو اپنی حاجت ہے اللہ کے سامنے رکھو انشاء اللہ آپ کی حاجت ضرور پوری ہوگی۔دعا یہ ہے۔ لا اِلٰہ اِلا اللّٰہُ الحلیم الکریم۔ سبحان اللّٰہ رب العرش العظیم ۔ والحمدِللّٰہ رب العالمین۔ اسئلک موجبات رحمتک و عز ائم مغفرتک والغنیمۃ مِن کل بر والسلامۃ من کل اثم لا تدالی ذنباً الا غفرتہ ولا ھما الا فرجتہ ولا حاجۃ ھی لک رضاً الا قضیتھا یا ارحم الراحمین۔ یہ دعا کسی بھی مسنون دعاؤں کی کتاب سے یاد کی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی کا محتاج نہیں بنایا بلکہ سب کو اپنے سے مانگنے کی دعوت دی ہے اور قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ہے۔ فقال ربکم الدعونی استجب لکم : ترجمہ : ’’ تمہارے رب نے کہا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو قبول کرتا ہوں ‘‘۔ جو سارے خزانوں کا مالک ہے وہی ہمیں خود اپنے سے مانگنے کے لئے بلا رہا ہے تو ہمیں ادھر اُدھر بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے خود رسول اکرم صلعم پر دنیا کو پیش فرمایا اور پوچھا اگر آپ چاہیں تو آپ کو بادشاہت والی نبوت دی جائے اور آپ چاہیں تو آپ کو فقیری والی نبوت دی جائے۔ اللہ کے رسول صلعم نے اللہ کی مرضی کے عین مطابقت فقیری والی نبوت قبول فرمائی۔ اور یہ ارشاد فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھر کر کھاؤں تاکہ اللہ کا شکر ادا کروں اور دوسرے دن بھوکا رہوں تاکہ صبر کروں اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی : اللھم احینی مسکینا امتنی مسکینا واحشرنی فی زمرۃ المساکین : ’’ اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی ہی کی حالت میں موت دے اور قیامت کے دن بھی میرا حشر مساکین کے ساتھ فرما۔
جس حالت کو اللہ کے رسول صلعم نے اپنے لئے پسند فرمایا وہی بہتر حالت ہے ہمیں اس سے بھاگنا نہیں چاہئے۔ تونگری والا امتحان فقیری والے امتحان سے زیادہ سخت ہے۔ مال کا نہ ہونا یا کم ہونا یہ کوئی ناکامی کی بات نہیں ہے ورنہ ہمیں یہ کہنا پڑینگا کہ العیاذ بااللہ حضورؐ سب سے زیادہ ناکام ہیں کیونکہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ کئی کئی دن فاقہ سے گذارنا، پیٹ پر پتھر باندھنا یہ آپ کی سیرت مبارکہ میں مشہور بات ہے۔ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے ، آپؓ فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں بعض مرتبہ تین تین چاند (یعنی دو مہینے مکمل) ایسے گذر جاتے تھے کہ گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا کسی نے پوچھا پھر آپ کا گذارا کیسے ہوتا تھا تو عائشہؓ نے جواب دیا دو چیزوں پر کھجور اور پانی۔ آپ کی حیات طیبہ میں کئی بار ایسا ہوا کہ مسجد نبوی میں لوگ منتظر ہیں اور آپ کو نماز میں آنے میں دیر ہوئی وجہ معلوم کی تو یہ پتہ چلا کہ آپ کے کپڑے دھو کر سکھانے میں دیر لگ گئی۔ یعنی بدن کے کپڑوں کے علاوہ آپ کے پاس کوئی دوسرا جوڑا نہیں تھا جس کو آپ زیب تن فرماتے۔ یہ تو آپ کی ظاہری زندگی ہے لیکن آپ کا مقام کیا ہے کہ آپ محبوب رب العالمین ہیں۔ اور آپ اس بلند مرتبہ پر فائز ہے کہ جہاں کسی اور کی رسائی نہ کبھی ہوئی نہ ہوسکتی ہے۔ مخلوقات میں آپ سب سے بڑے ہیں ۔ اللہ کے بعد اگر کسی کا کوئی مقام ہے تو آپ ہی کا ہے۔
اس لئے اے نادار اور غریب مسلمانوں اللہ کا شکر کرو کہ اللہ نے تمہیں غیر اختیاری طور پر حضورصلعم کی اور تمام اہل اللہ اور متقیوں کی مشابہت نصیب فرمائی۔ اور اپنی اسی غربت میں بھی دین پر جمے رہو۔ ناجائز طریقہ سے مال آئے تو اسے ٹھوکر مارو اور یہ سمجھو کہ تمہیں آزمایا جارہا ہے۔ حلال کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔ حلال میں برکت ہے اگر حرام اور ناجائز طریقہ سے کسی نے دنیا میں مال حاصل کربھی لیا تو اس وقت تک موت نہیں آسکتی جب تک کہ دنیا ہی میں اس کا بدلہ نہ پالے۔ اس لئے غلط طریقہ سے مال حاصل کرکے اپنے آپ کو مصیبت میں مت ڈالو۔ کم روزی پر قناعت کر کے اللہ کے یہاں باعزت بنے رہو، اور لوگوں کے نزدیک بھی۔ لوگوں سے استغنا میں تمہاری عزت ہے۔ حضورصلعم نے فرمایا: بئس الفقیر علی باب الا میر ونعم الامیر علی باب الفقیر : بدترین فقیر وہ ہے جو امیر کے دروازہ پر جائے، اوربہترین امیر وہ ہے جو فقیر کے دروازہ پر جائے۔ اگر آپ لوگوں سے استغنا کے ساتھ رہونگے تو اللہ تعالیٰ مالداروں کو خود تمہارے دروازوں پر بھیجے گا۔ عزت کے ساتھ کم روزی ، ذلت کی حالت میں زیادہ روزی سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
شیاطین کا تحقق

یہ اللہ علیم و حکیم کا نظا م ہے کہ اس نے ایک طرف تو انسانوں کی ہدایت کے لئے انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام کا سلسلہ جاری فرمایا تو دوسری طرف انسانوں کی آزمائش کے لئے شیاطین کو وجود بخشا۔ اگر شیطان نہ ہوتا تو ہدایت میں کوئی رکاوٹ ہی نہ ہوتی اور آزمائش کا کوئی موقع ہی نہ ہوتا۔ اس شیطانیت کا اصل بانی ابلیس ہے جس کا متعدد جگہ قرآن پاک میں ذکر ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے۔ اذ قلنا للملآ ئکۃ السجدو لاٰ دم فسجدود الا ابلیس وکان من الجن ، ففسق عن امرربہ ، افتتخذو نہ و ذریتہ اولیاء من دونی وھم لکم عدو ۔ ترجمہ ’’ جب ہم نے فرشتون سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے یہ جنات میں سے تھا وہ اللہ کے حکم سے نکلا، کیا پھر بھی تم مجھے چوڑ کر شیطان اور اس کی اولاد کو دوست بناؤگے جبکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں ‘‘۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اصل شیطان ابلیس ہے اور پھر اس کی اولاد ہیں۔ لیکن اس کی اولاد میں سے جو لوگ یعنی جو جنات ایمان لاچکے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ نصوص سے یہ ثابت ہے کہ جنات میں بھی مومنین ہیں۔ اورجنات میں حضورؐ کے صحابہ بھی ہیں۔ ان شیاطین کی انسانوں سے دشمنی کی بنیاد پر شیاطین کا اصل کام انسانوں کو گمراہ کرنا تاکہ وہ کفرشرک اور نافرمانی کی وجہ سے اللہ کے دائمی عذاب یعنی جہنم کے مستحق ہوجائیں اس لئے کہ انسان ہی شیطان کے مردود ہونے کا ذریعہ بناہے۔ اس ابلیس نے اللہ سے قیامت تک کے لئے مہلت مانگی ہے اور وہ مہلت اس کو دے دی گئی ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ بات کہہ دی کہ لا قعدن لھم صراطک المستقیم ۔ ’’ میں ان کے لئے تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھونگا ‘‘۔ اب وہ انسانوں کے لئے کفر، شرک، بدعات، بدعملی کو مزین کرتا رہتا ہے۔ جو انسان اس کے مکر وفریب میں آکر کفر و شرک اختیار کرلیتے ہیں یہ انسان بھی شیطان کے گروہ میں داخل ہوکر شیطان کا کام یعنی دوسروں کو گمراہ کرنا کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے : وکذالک جعلنا لکل نبی عدواً شیاطین الجن والانس یوحی بعضھم الیٰ بعض زخرف القول غرورا ، ولوشاء ربک مافعلوہ فذرھم وما یفترون ۔ ’’ اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے دشمن پیدا کئے ہیں شیاطین جن اور انس میں سے جو ایک دوسرے کو وحی کرتے رہتے ہیں یعنی پھسلا کر دھوکہ دیتے رہتے ہیں ، اگر تمہارا رب نہ چاہتا تو یہ ہر گز ایسا نہ کرتے پس اے نبی آپ ان کو چھوڑ دیجئے، اور ان کی افتراپردازیوں کو بھی چھوڑدیجئے ‘‘ یعنی ان کی پرواہ مت کیجئے بلکہ اپنے کام میں یکسوئی سے لگے رہیے۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین جن و انس کا یہ تصرف انسانوں پر اللہ ہی کی مشیت سے ہے ۔ یہ بات اللہ کی اس کائنات میں کسی مخلوق سے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ کر سکے۔ یہ بات نہیں ہے کہ شیاطین اللہ کے قبضہ سے نکل گئے کہ جو چاہیں وہ کریں۔ اللہ ہی نے ان کو موقع دیا ہے لیکن جس کی چاہتا ہے اللہ اس کی ان شیاطین سے حفاظت بھی فرماتا ہے۔ اور خود اللہ نے ہمیں سکھایا کہ تم اللہ سے شیطان کے بارے میں پناہ مانگا کرو۔ قل اعوذ برب الناس ملک الناس الہ الناس من شر الوسواس الخناس الذین یوسوس فی صدورلناس من الجنۃ والناس ۔ ترجمہ : ’’ آپ کہہ دیجئے کہ میں پناہ لیتا ہوں لوگوں کے رب کی لوگون کے بادشاہ کی لوگوں کے معبود کی، شیطان کے وساوس کے شر سے جو وساوس ڈالتا ہے لوگو ں کے سینہ میں ، یہ شیاطین جن میں سے بھی اور انسانون میں سے بھی ‘‘
ایک جگہ اللہ نے حضورؐ سے اور آپ کے واسطہ سے گویا پوری امت سے فرمایا کہ جب بھی آپ قرآن پڑھا کریں تو شیطان ملعون کے شر سے پناہ مانگ لیا کیجئے۔ فاذا قرأت القرآن فاستعذباللہ من الشیطان الرحیم ۔ اللہ تعالیٰ نے شیطانون کے بارے میں یہ بھی واضح فرمادیا کہ شیطان سے تمہیں زیادہ گھبرانے کی بات نہیں ہے تم اللہ سے پناہ لے لیا کرو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس کا مکر بہت کمزور ہے۔ ان کید الشیطان کان ضعیفا ۔بلا شبہ شیطان کا مکر بہت کمزور ہے۔اگر ہمارے پاس حقیقی ایمان کی قوت ہے تو اس کا کوئی زور نہیں چل سکتا ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لیس لہ سلطان علی الذین اٰمنوا علی ربھم یتوکلون ۔ ’’ شیطان کا زور ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان والے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرنے والے ہیں۔ جب ایمان میں کمزوری آتی ہے تو اخلاص بھی کم ہوجاتا ہے ایسی صورت میں شیطان کا تسلط بڑھ جاتا ہے۔
بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا ۔ ایک مرتبہ اس نے دیکھا کہ لوگ درخت کی پوجا کررہے ہے اس کو غصہ آیا گھر آکر کلہاڑی لی اور اس درخت کو کاٹنے چلا کہ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی عبادت ہورہی ہے۔ راستہ میں اسے شیطان ملا۔ ماجرا پوچھا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں درخت کو کاٹنے جارہا ہوں شیطان نے کہا تو اس کو نہیں کاٹ سکتا۔ عابد نے کہا میں اس کو ضرور ہی کاٹوں گا۔ دونوں میں ہاتھاپائی ہونے لگی عابد نے شیطان کو پچھاڑ دیا اور اس کے سینہ پر بیٹھ گیا۔ شیطان نے ایک دوسری چال چلی اور کہا کہ دیکھ تو اللہ کا نیک بندہ ہے اللہ اللہ کر ان لوگون کو چھوڑ دے۔ اگر تو اس درخت کو نہ کاٹے تو میں تجھے روزانہ اتنی اتنی اشرفیاں دونگا جو تیرے سرہانے آجایا کرینگی۔ تو ان کو نیک کاموں میں محتاجوں پر خرچ کیا کر ، تیرے درجات اور بلند ہونگے۔ اس کی سمجھ میں آگئی۔ اور وہ عابد گھرلوٹ گیا۔ تین دن تک روزانہ حسب وعدہ اس کے تکیہ کے نیچے اشرفیوں کی متعینہ مقدار آتی رہی وہ بہت خوش ہوا اور نیک کاموں میں خرچ کرنے لگا۔ چھوتھے دن وہ اشرفیاں ندارد۔ اس کو پھر غصہ آیا اس نے کلہاڑی اٹھائی اور پھر درخت کو کاٹنے کے ارادہ سے چل دیا راستہ میں پھر شیطان ملا۔ اور کہا کہ اب تو اسے نہیں کاٹ سکتا۔ عابد نے کہا میں ضرور کاٹونگا ، دونوں میں ہاتھاپائی ہوئی شیطان نے عابد کو پچھاڑ دیا اور اس کے سینہ پر چڑھ گیا۔ شیطان کو یہ غلبہ اس لئے ملا کہ اب کی بار وہ اشرفیوں کے نہ ملنے کی وجہ سے درخت کو کاٹنے جارہا ہے۔ اخلاص کی کمی نے اسے شیطان سے مغلوب کردیا۔
اسلئے ہمین اپنی قوت ایمانی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایمان جتنا قوی ہوگا اخلاص بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اور مخلصین پر شیطان کا اثر نہیں ہوتا بلکہ شیاطین مخلصین سے ڈرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ جس راستہ سے گذرتے تھے شیطان اس راستہ کو چھوڑ دیتا تھا۔ اس راستہ سے نہیں گذرتا تھا۔ شیطان ایمان والوں پر دنیا کو مزین کرتا ہے پھر ان کے اندر حب جاہ اور حب مال کے جذبہ کو ابھار کر اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کرتا ہے پھر آدمی ترقی کرتے کرتے شرک تک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ منافقین وہی لوگ تھے جن کو دنیا کی محبت نے حقیقت اسلام سے محروم رکھا۔ اور خود انہیں کو شیاطین کے لشکر میں شامل کرادیا۔ منافقین کے بارے میں قرآن پاک میں ہے۔ اولائک حزب الشیطان ، الا ان حزب الشیطان ھم الخاسرون ۔ترجمہ : ’’ یہ شیطان کا لشکر ہیں، خبردار کہ شیطان کا لشکر ہی برباد ہونے والا ہے ‘‘۔ یہ منافقین کا طبقہ جوحضورؐ کے زمانہ میں تھا قیامت تک رہنگا لیکن اب وحی کا سلسلہ بند ہوچکا ہے ہم کسی پر انگلی نہیں اٹھاسکتے کہ یہ منافق ہے۔ جو ظاہر میں کلمہ گو ہے وہ ہمارے نزدیک مسلمان ہے لیکن ہم ان مسلمانوں سے چوکنا رہیں جولوگوں کو دین سے ہٹاتے ہیں اور لوگوں کی گمراہی کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سب شیطان کا لشکر ہیں۔ کبھی کبھی مسلمان کا appointment شیطان کے لشکر میں عارضی طور پر بھی ہوسکتا ہے کہ کسی خاص مسئلہ میں شیطان نے ان کو گمراہ کر کے آلہ کار بنالیا ہو اور وہ دوسروں کی گمراہی کا سبب بن رہا ہو۔ اس لئے ہر آدمی کواپنے بارے میں ڈرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں وہ شیطان کا لشکری تو نہیں بن رہا ہے۔ کبھی کبھی تو آدمی کے لئے اس کے بیوی ، بچے بھی شیطان کا گرہ بن جاتے ہیں جبکہ وہ اسے دین سے ہٹانے کا یا دین میں کمزور کرنے کاذریعہ بنیں۔ اسی لئے قرآن میں ایک جگہ بیوی بچوں کو آدمی کا دشمن بتایا ہے۔ ارشاد ہے : ان من ازواجکم واولادکم عدوالکم فاحذروھم ۔ ’’ بلا شبہ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہاری دشمن ہے پس تم ان سے بچو ‘‘
ہر وہ شخص جو دوسرون کے لئے گمراہی کا، نافرمانی کا، خلاف سنت و شریعت کا عمل اختیار کرنے کا ذریعہ بنے وہ شیطان کا آلہ کار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی شیطان کا لشکری بننے سے حفاظت فرمائے۔ آمین۔ کیونکہ شیطان کے لئے دائمی عذاب یقینی ہے۔

ضلالت براہ جِنَّات

جنات شیطان کا گروہ ہے۔ بلکہ شیطان خود اصلاً جن ہی ہے۔ جنات میں مسلمان بھی ہوتے ہیں اور کافر بھی۔ جنات کا مسلمان ہونا حضورؐ پر ایمان لانا قرآن حدیث سے ثابت ہے۔ جو جنات کافر ہیں وہ شیطان کا لشکر ہیں اور شیطان کا کام انسانوں کو گمراہ کرنا ہے تاکہ انسان کفر شرک میں پڑ کر اور اللہ کی نافرمانی کرکے دائمی عذاب کا مستحق ہوجائے اور اس طرح شیطان اپنے دشمن سے انتقام لینے میں کامیاب ہوجائے۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے جس کی خبر خود اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دی ہے۔ہم اس کی دشمنی کو جان نہیں سکتے تھے یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے آگاہ کردیا۔ اور قرآن پاک میں بار بار متنبہ کردیا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ ایک جگہ فرمایا : ان الشیطان لکم عدو فاتحذوہ عدوا ۔ ’’ شیطان تمہارا دشمن ہے پس تم بھی اس کو دشمن ہی سمجھو ‘‘۔شیاطین کا انسانوں سے اپنی دشمنی نکالنے کا عمومی طریقہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کے دلوں میں وساوس ڈال کر انسان کو اللہ کی نافرمانی ، شرک اور کفر اور بدعات کی طرف آمادہ کرتے ہیں تاکہ اللہ کی ناراضی کے سبب یہ انسان اللہ کی سنت کے مطابق اللہ کے عذاب کا مستحق ہوجائے۔ وساوس ڈالنے کی یہ خبر بھی قرآن پاک میں دی گئی ہے۔ الذی یوسوس فی صدور الناس ۔ ’’ جو وسوسے ڈالتا ہے انسان کے سینہ میں ‘‘۔ وساوس ڈالنے میں شیطان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے روبرو نہیںآتا بلکہ انسان کی نفس پر تصرف کرکے نفس کو معاصی اور شرک پر ابھارتا ہے۔ اور ایمان والوں کو اطاعت سے باز رکھتا ہے۔ اور نفس میں کسل اور کاہلی پیدا کرتا ہے۔ کبھی تو وہ بہت بڑے عمل کو چھوٹا کر کے دکھا تا ہے کبھی چھوٹے سے عمل کو خوب بڑا کر کے دکھاتا ہے۔ غرض شیطان ذہنِ انسانی کے پردہ پر اپنا آرٹ بناتا ہے۔ اس کی مختلف صورتین اختیار کرتا ہے۔ مثلاً نمازی آدمی ہے جماعت کا وقت قریب کسی ایسے کام میں مشغول کردیتاہے کہ جماعت چھوٹ جائے۔ کسی ایسے گناہ میں لگانا جس کو آدمی جانتا ہے کہ یہ گناہ ہے لیکن گناہ کی لذت سے نفس واقف ہے اس لئے شیطان کہتا ہے کہ اللہ غفور الرحیم ہے۔ بعد میں توبہ کرلینا۔ یہ شیطان کاوساوس ڈال کر گمراہ کرنے کا یعنی اللہ کی اطاعت سے ہٹانے کا عمومی انداز ہے۔ جس سے وہ اہل ایمان یعنی مسلمانو ںکو دین سے ہٹاتا رہتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی تو wholesale کام کرتاہے۔ چھوٹی چھوٹی بدعملیوں کی بجائے سیدھا شرک میں ہی مبتلا کردیتا ہے۔ اللہ سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ کسی مرد یا عورت پر جن سوار ہوجاتا ہے۔ لوگ اس حالت میں پہلے کسی عامل کے پاس جاتے ہیں جو دعا تعویز کے ذریعہ جن اس پر سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لائن میں بہت سے ایسے عامل بھی ہوگئے ہیں جو محض fraud کرتے ہیں اور انہیں اس لائن کی کوئی معلومات نہیں ہوتی اور مریض کے اولیاء عامل بدل بدل کر علاج کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ خرچ بھی خوب برداشت کرتے ہیں لیکن جب کہیں بھی افاقہ نہیں ہوتا تو لوگوں کی طرف سے یہ مشورے ملتے ہیں کہ فلاں بزرگ کی مزار پر لیجاؤ وہاں ٹھیک ہوجائیگا۔ اس قسم کے مشورے دینے والے بھی حقیقت میں شیاطین انس ہیں بہر حال جب یہ مریض کسی مزار پر لیجایا جاتا ہے چاہے وہ مزار حقیقی نہ بھی ہو تو وہ مریض اگر واقعی اس پر جن سوار ہوتا ہے تو وہ اچھا ہوجاتا ہے۔ اور یہ جن اس مریض کو چھوڑنے سے پہلے عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے مثلاً ایسے چلاتا ہے جیسے اسے کوئی ماررہا ہے اور کہتا ہے مجھے مت مارو میں چلاجاتا ہوں اب نہیں آؤنگا۔ کبھی وہ مریض بار بار زمین پر گرتا ہے اور چلاتا ہے کہ مجھے چھوڑدو میں اب نہیں آؤنگا۔اور ان تمام حرکتوں سے دیکھنے والے کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اسے یہ باوا مارہے ہیں اور اس کے بعد وہ مریض بالکل اچھا ہوجاتا ہے اوروہ جن اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ سب کا یہ عقید بن جاتا ہے کہ باوا نے اچھا کیا۔ اس طرح وہ مریض اور اس کے تمام اولیاء شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور شیطان کا مقصد پور ا ہوجاتا ہے۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے۔تو اب وہ کسی کو ستا کر خود کیوں اپنی قوت برباد کرے۔ بعض مرتبہ اس سے بھی شدید شرک میں مبتلا کردیتے ہیں وہ اس طرح کہ کسی بزرگ کے مزار پر بھی انہیں جب فائدہ نہیں ہوتا تو شیاطین کے agent کی طرف سے یہ مشورہ ملتا ہے کہ فلان مندر پر لیجاؤ وہاں اس قسم کے مریض اچھے ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا مرتا کیا نہ کرتا، کا مصداق بن کر مریض کے اولیاء مندرپر بھی پہنچ جاتے ہیں۔ اور وہاں مریض اچھا ہوجاتا ہے اور دیکھنے والوں کا یہ عقیدہ بن جاتا ہے کہ اس دیوی یادیوتا نے جس کی طرف وہ مندر منسوب ہے مریض کو اچھا کردیا۔
یہ بڑا سخت امتحان ہے۔ جب کسی پر اس قسم کا کوئی جن سوار ہوتو ہمیں صبر کرنا چاہئے۔ جہاں تک ممکن ہو کسی دیندار عامل سے علاج کرائیں اگر نفع نہ ہوتو صبر کریں اور خود ہی معوذتین اور آیت الکرسی پڑھ کر مریض پر دم کرتے رہیں۔ اور دم کیاہواپانی پلاتے رہیں۔ جب اللہ چاہے گا شفادے دے گا۔ اور اس سے پہلے کہ ہمیں کسی پر جن سوار ہونے کا امکان نظر آئے کسی دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر Psychetrist کودکھانا چاہئے۔ اکثر یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ ہم دماغ کی خرابی کو جن کا سوار ہونا سمجھ لیتے ہیں اور اس سے بھی پہلے کا اقدام یہ ہے کہ ہم خود اور ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں اس کا اہتمام کریں کہ شیاطین وخبائث کے شر سے محفوظ رہیں اس کا علاج یہ ہے کہ سب سے پہلے تو ہم پاک صاف رہیں۔ مسنون دعاؤں اور عملی سنتوں کا اہتمام رکھیں۔ حضورؐ کی سنتیں خود بہت مضبوط قلعہ ہیں جن کہ سامنے بڑے بڑے سرکش شیاطین بھی عاجز ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ نہیں کرسکتے۔ فرائض کی پابندی کرکے اور سنتوں کو اپنا کر ہم اپنے آپ کو اپنے مال کو اپنے اہل وعیال کو محفوظ کرلیں۔ جب کوئی حصار نبوی سے نکلتا ہے تب ہی وہ خبیث جنات کا شکار ہوتا ہے۔ ناپاکی کی حالت میں رات نہ گذاریں۔ اگر کوئی مجبوری ہو تو کم از کم وضو یا تیمم ہی کرلیں۔ بیت الخلاء جاتے وقت بھی سنت کا لحاظ رکھیں توانشاء اللہ کبھی ایسا حادثہ پیش نہ آئیگا۔ پھر بھی کچھ تکلیف ہوجائے تو اس کو مقدر کی بات سمجھ کر صبر کریں اور اللہ سے دعائیں کریں۔ اصل مسئلہ تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے کوئی جن یاکوئی مخلوق اللہ کے قبضہ اور کنٹرول کے باہر نہیں ہے۔ اللہ کے ارادہ کے بغیر کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور اگر اللہ ہی کسی کو نقصان اور تکلیف پہنچانا چاہے تو اسے کوئی ہٹا نہیں سکتا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو، وان یمسسک بخیر فلا راد لفضلہ ۔ ’’ اگر اللہ تمہیں کوئی مضرت پہنچائے تو اللہ کے سوا اس کا کوئی ہٹانے والا نہیں ہے اور اگر اللہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچائے تو اس کے فضل کو بھی کوئی روکنے والا نہیں ہے ‘‘۔ اس لئے اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور ہر معاملہ میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ یہی صراطِ مستقیم ہے۔


عقل کی پیمائش

عقل وہ عظیم شئی ہے کہ اسی کی وجہ سے انسان تمام مخلوقات میں اشرف قرار دیا گیا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے اور اسی کی وجہ سے پوری کائنات اس انسان کے لئے مسخر کردیگئی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کا فضل ہے انسان پر کہ ہر ایک اپنے کو عقل مند اور دوسرون سے زیادہ سمجھدار سمجھتا ہے چاہے وہ کتان ہی بے وقوف ہو۔ حتی کہ پاگل بھی اپنے کو دوسروں سے زیادہ سمجھدار اور دوسرون کو پاگل سمجھتا ہے۔ اگر انسان کسی دوسرے سے دب بھی جاتا ہے تو وہ اپنی دوسری کمزوریوں کی وجہ سے نہ کہ عقل کی وجہ سے۔ اس میں وہ یہی خیال کرتا ہے کہ میں جو سمجھتا ہوں وہ یہ نہیں سمجھتے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کم عقلوں کو اپنی کم عقلی کا احساس ہی جینا دشوار کردیتا۔ یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہر ایک کو اپنے سب سے زیادہ عقلمند ہونے کا احساس دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس عقل کا پیمانہ کیاہے۔ یہ پیمانہ تسلیم کرنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑینگا کہ تما مانسانوں میں انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام سب سے زیادہ عقلمند لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا ہے ۔ عبادہ الذین الصطفٰی ۔ جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ ہیں ان ہی کے ذریعہ اللہ کے اوامر اور احکامات بندوں تک پہنچتے ہیں۔ ان تمام انبیاء علیھم السلام میں سب کے امام اور سب سے افضل اور سب کے سردار حضرت محمد ﷺ ہیں اس پر ہمارا ایمان ہے اسی وجہ سے ہم آپؐ کو امام الانبیاء ، سید المرسلین اور حبیب رب العالمین کہتے ہیں۔
آپؐ کی ذات اقدس وہ شخصیت ہے کہ نہ صرف آپ پر ایمان لانے والے بلکہ دیگر اقوام بھی آپ کی مقتدائیت کا لوہا مان چکی ہے۔ آپؐ کو ایک انگریز مصنف نے اپنی کتاب The Hundred میں ایک نمبر پر رکھا ہے۔ اس نے اپنی اس کتاب میں دنیا کو متاثر کرنے والی اور دنیا میں انقلاب لانے والی دنیا کو نفع پہچانے والی سو شخصیتوں کا انتخاب کیا ہے جس میں نیوٹن، آئنس ٹائن جیسے بڑے بڑے سائنسداں، شیکسپیئر اور ارسطو جیسے مفکر اور عالمگیر شہرت کے مالک بادشاہ بھی شامل ہیں ان سب میں سب سے آگے حضرت رسول پاک ﷺ ہیں۔ لہٰذا آپ کا قول ہی پیمانہ ہے عقل کا جس کو آپ عقلمند کہیں وہ عقلمند ہے اور جس کو آپ بے وقوف کہیں وہ بیوقوف ہے۔ اس لئے تمام اہل ایمان اپنی عقل کی پیمائش رسول اللہؐ کے ارشاد سے کریں نہ کہ اپنے مال و اسباب سے۔ آج کا مروجہ پیمانہ یہ ہے کہ جس کے پاس جتنا زیادہ مال ہے و ہ اتنا ہی زیادہ عقلمند سمجھا جاتا ہے اور جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہے وہ بھی اسی کی بقدر عقلمند سمجھا جاتا ہے۔ یہ پیمانہ حضورؐ کے پیمانہ سے بالکل الگ ہے۔
اب سنت رسول اللہ ﷺ کا پیمانہ عقل کیا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے : الکیس من دان نفسہ و عمل لمابعد الموت و العاجز من التبع ھواہ و تمنی علی اللہ الامانی ۔ ترجمہ : عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرتا رہے ، اور بے وقوف وہ ہے جو اپنی خواہشات کا اتباء کرے اور اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرتا رہے۔ یہ ہے پیمانہ جس سے ہر مسلمان کو اپنے آپ کو ناپنا چاہئے کہ آیا وہ اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہوئے موت کو سامنے رکھ کر چل رہا ہے یا اپنی خواہشات کی پیروی کررہا ہے۔ موت کو سامنے رکھ کر چلنے میں بھی نمونہ صحیح سامنے رکھنا ضروری ہے اور وہ صحابہ کرام کی مقدس ہستیاں ہیں کہ ان کا ہر قدم آخرت کو سامنے رکھ کر اٹھتا تھا۔ ان کی ہر حرکت اور ہر سکون ہر قول و فعل آخرت ہی کے لئے ہوتا تھا وہ بظاہر اگر دنیا کا بھی کوئی کام کرتے تو اس میں یہی دیکھتے تھے کہ اس میں ہماری آخرت کا نفع ہے یا نقصان۔
اس کے برعکس ہمارا یہ معاملہ ہے کہ ہم دینی اعمال میں بھی یہ دیکھتے ہیں کہ اس میں ہماری دنیا کا کیا ہوگا۔ ہم ان ہی نیک اعمال کو اختیار کرتے ہیں جس میں ہماری دنیا بنتی ہے یا کم از کم دنیا نہیں بگڑتی۔ چاہے آخرت کا کچھ ہی ہو۔ یہی کم عقلی آدمی کو جہنم میں پہنچاتی ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے و اما من طغی و اٰثر الحیاۃ الدنیا فان الجحیم ھی الماوی ۔جس نے سرکشی کی اور دنیا کو ترجیح دی پس اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ یہ سرکشی وہی خواہشات کا اتباء ہے اور خواہشات کے اتباء ہی سے آدمی آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ اور اپنے آپ کو خواہشات کی اتباء سے روکنااور اللہ کے ڈر اور خوف کو اختیار کرنا آدمی کے جنت میں جانے کا سبب ہے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے : و اما من خاف مقام ربہ و نھی الفنس عن الھوی فان الجنۃ ھی الماوی ۔
لیکن اس وقت کم عقلی کا بازار ایسا گرم ہے کہ عقلمندوں کو بے وقوف سمجھا جارہا ہے اور بے وقوفوں کو سمجھدار اور عقلمند بتایا جارہا ہے۔ اور یہ واقعہ ہے کہ پچھلے زمانوں میں بھی ایسا ہوچکا ہے۔ فرعون جیسا فسادی اور بے دین آدمی جو اتنا بگڑا ہوا کہ خود ہی کو لوگوں کا رب کہہ رہا ہے انا ربکم الا علیٰ میں ہی تمہارا سب سے بڑا رب ہوں، کہہ رہا ہے معاملہ کتنا متضاد ہے کہ بنی اسرائیل پر ظلم کررہا ہے۔ ان کے لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کررہا ہے اور اپنے آپ کو رب بھی کہہ رہا ہے جبکہ رب توظالم نہیں ہوسکتا ہے۔ اور نبی موسیٰ علیہ السلام جو زمین پر قوم کے لئے مصلح بن کر آئے ہوئے ہیں، فرعون ان کو فسادی اور بے دین بتارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی کم عقلی اور نفس کی پیروی کے اظہار کے لئے اس کی بات کو قرآن پاک میں بھی نقل کیاہے۔ فرعون کہتا ہے : ذرو نی اقتل موسی انی اخاف ان یبدل دینکم او ان یظہر فی الارض الفساد ۔ مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں مجھے خوف ہے کہ وہ تمہارا دین نہ بدل دے اور زمین میں فساد نہ پھیل جائے۔ آج کے فراعنہ بھی یہی کررہے ہیں ،مصلحین کو terorrist آنتک واد اور دہشت گرد نام دیا جارہا ہے۔ اس کے اعوان و انصار وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہو کر بھی اپنے دین پر نہیں چل رہے ہیں بلکہ دینداروں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اور بزبان حال دین کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے اندر دین کی اور دینداروں کی عظمت ہو۔ دینداروں کو قدامت پرست اور دقیانوسی نہ بتائیں بلکہ ان کا احترام کریں اگر اپنی کمزوری سے دین پر نہیں چل سک رہے ہیں تو اپنے آپ کو قصور وار سمجھیں نہ کہ اپنے بچاؤ کے لئے دینداروں پر ہی اعتراض اور تنقید کرنے لگیں۔ ورنہ نیکی برباد اور گناہ لازم کا مصداق ہونگے۔ نہیں ماننے والوں کی یہی حرکتیں ہوتی ہیں کہ جب انہیں نہیں ماننا ہوتا ہے تو وہ داعی میں ہی عیب جوئی کرتے ہیں بے جا الزامات لگاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جب تک دعوت الی اللہ شروع نہیں کی تھی سب آپ کو صادق اور امین کہتے تھے نہ صرف کہتے تھے بلکہ اپنی امانتیں آپؐ کے پاس رکھتے تھے۔ آپ کی ہر بات کو سچ مانتے تھے۔ جس وقت آپ نے دعوت کا کام شروع کیا، سب سے پہلے کوہ صفا پر آپ نے بنو ہاشم کو جمع کیا اور پوچھا اگر میں یہ کہوں کہ (اس پہاڑی کے پیچھے جہاں تم نہیں دیکھ رہے ہو) کہ تم پر دشمن حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم اس کی تصدیق کروگے سب نے کہا بے شک۔ کیونکہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس کے بعد جب آپ نے ان کو توحید کی دعوت پیش کی تو چونکہ یہ دعوت ان کی عقلوں کے خلاف تھی اور ان کی نفسانی خواہشات کے لئے کاری ضرب تھی اس لئے فوراً انکار کردیا اور بُرا بھلا کہتے ہوئے منتشر ہوگئے۔ پھر جیسے جیسے آپ کی دعوت تیز ہوتی گئی مشرکین مکہ کی طرف سے مخالفت اور عداوت بھی تیز ہوتی گئی پھر اللہ کے کلام کو شاعروں کا کلام اور کاہنوں کا کلام کہنے لگے۔ جس کی تردید اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں فرمائی۔ وما ھو بقول کاہن ، وما ھو بقول شاعر ۔ یعنی یہ کاہن کا کلام نہیں ہے۔ یہ شاعروں کا کلام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ حضورؐ کے تمام مخالفین کو بے وقوف کہا ہے۔ حالانکہ وہ بڑے قابل اور دنیاوی اعتبار سے فہیم لوگ تھے لیکن اس پیمانہ میں ان کی عقل صفر ہوگئی۔ کبھی ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لھم قلوب لا یفقھون بھا ۔ ان کو دل ہے مگر سمجھتے نہیں ہیں۔ کبھی ان کو لا تعقلون ، یعنی سمجھتے نہیں ہیں فرمایا کبھی ان کو سفھا ء یعنی بے وقوف کہا ہے جیسے دوسرے پارہ کی پہلی آیت سیقول السفھاء ما ولیٰ عن قبلتھم التی کانو علیھا ۔یعنی بے وقوف کہنگے کہ ان کو یعنی مسلمانوں کو ان کے پچھلے قبلہ یعنی بیت المقدس سے مسجد حرام کی طرف کس نے پھردیا۔ کہ یہ ابھی تک بیت المقدس کی طرف منھ کر کے نماز پڑھتے تھے۔
اللہ پر اللہ کے رسول پر اور شریعت کے احکام پر اعتراض کرنے والے اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں بے وقوف ہیں چاہے وہ کتنی ہی بڑی بڑی ڈگریان رکھتے ہوں۔ اس لئے ہم اہل اللہ پر اعتراض سے بچیں۔ ان کے اقوال اور افعال اگر ہماری سمجھ کے خلاف ہیں تو یہ ان کی کم عقلی نہیں بلکہ ہماری ہے۔ وہ تو شریعت اور سنت کے پابند ہیں وہ کم عقل کیسے ہوسکتے ہیں۔ دیندارون کو اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہونے کی اور عقلمند ہونے کی سند ملی ہوئی ہے۔ انہیں اولائک الذین ھد اھم اللہ و اولا ئک ھم اولو الالباب ۔ کہاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقل سلیم عطا فرمائیں۔ آمین

قوت ارادی ہی عمل کی محرک ہے

کسی بھی عمل کا ارادہ اور نیت دل کافعل ہے۔ پہلے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے پھر اس پر عمل وجود میں آتا ہے ارادہ نیک عمل کا ہوتا ہے تو نیک عمل وجود میں آتا ہے اور ارادہ بد عمل کا ہوتا ہے تو بد عمل وجود میں آتا ہے یعنی اصل قوت ارادی ہے اسی سے عمل کی تحریک ہوتی ہے۔ اس لئے جسم انسانی میں دل کی بہت اہمیت ہے۔ دل سارے جسم کا بادشاہ ہے۔ حدیث میں بھی دل کی بہت اہمیت بتائی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے : الا ان فی الجسد لمضغۃ اذا صلحت صلحت جسد کلہ و اذا فسدت فسدت جسد کلہ الا وھی القلب ترجمہ : ’’ خبردار ہوجاؤ کہ جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب وہ سدھر جاتا ہے تو پورا جسم سدھر جاتا ہے اور جب وہ بگڑتا ہے تو پورا جسم بگڑجاتا ہے، جان لو کہ وہ دل ہے ‘‘۔ ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے انمالا عمال بالنیات یقینا اعمال نیت سے ہیں۔ و انما لکل مرء مانوی اور بے شک آدمی کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔ کیونکہ آدمی وہی کرتا ہے جس کا ارادہ یانیت کرتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک آدمی نے ناگپور سے دہلی جانے کا ارادہ کیا یہ ارادہ اس کو عمل پر ڈالینگا وہ دہلی کی ٹکٹ حاصل کریگا پھر دہلی جانے والی اسی گاڑی میں سوار ہوگا جس کا ٹکٹ لیا ہے اور جس میں اپنی سیٹ ریزرو کرائی ہے۔ چنانچہ دہلی پہنچ جائیگا۔ اسی طرح آدمی اگر دہلی کی بجائے بمبئی کا ارادہ کرے تو اسی لائن کی کوشش بھی کرے گا اور اب بمبئی پہنچ جائیگا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ارادہ دہلی کا کرے اور بمبئی پہنچ جائے۔ قرآن پاک میں بھی ارادہ ہی کو عمل میں دخیل بتایا گیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد باری ہے : من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشاء یعنی جو شخص جلدی ملنے والی یعنی دنیا کا ارادہ کرتا ہے تو دنیا کو حاصل کرنے کی محنت بھی کرتا ہے۔ مگر یہ دنیا کا ملنا آدمی کی محنت پر نہیں بلکہ اللہ کی مشیت پر ہوتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی جتنی محنت کرے اتنی مل ہی جائے۔ اور یہ تجربہ اور اور مشاہدہ کی بات ہے کہ لوگوں کو دنیا ان کی محنت اور مشقت کی بقدر نہیں ملتی بلکہ اللہ کی مرضی سے ملتی ہے اور مقدر سے ملتی ہے اگر یہ دنیا کا ملنا لوگوں کی محنت پر ہوتا تو ہر ایک کروڑپتی ہی بن جاتا کوئی غریب رہنا کیوں پسند کرتا۔ پھر مزدور کہاں سے ملتے دنیا کانظام ہی خراب ہوجاتا۔ مگر جس لائن کی کوشش کرتا ہے آدمی کو اسی لائن سے دنیا ملتی ہے۔
ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا : لیس للا نسان الا ماسعٰی انسان کے لئے نہیں ہے مگر وہی جس کی وہ کوشش کرے۔ اور کوشش تو انسان اسی کی کرے گا جس کا ارادہ کرے۔ ایک دوسری آیت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے فرمایا : ومن اراد الاخرۃ وسعٰی لھا سعیھا وھو مومن فاولائک کان سعیھم مشکورا ترجمہ : ’’ جو شخص آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے لئے کوشش کرے جیسا کہ اس کا حق ہے بشرطیکہ وہ مومن ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی کوشش قبول کی جائیگی۔یعنی آخرت کے ارادہ سے یعنی اللہ کے لئے انسان جو کوشش کرے گا وہ ضرور نتیجہ لائیگی۔ وہ محنت کبھی بے اثر نہیں ہوگی۔ آدمی اللہ کے لئے اور اپنی آخرت کے لئے ارادہ کرکے عمل کرے یہ دل کے بناؤ پر منحصر ہے۔ بگڑا ہوا دل تو دنیا ہی کا ارادہ کرے گا اور دنیا ہی کے لئے کوشش کرے گا۔ دل میں دنیا کا ہونا ایسا مرض ہے جو دوسرے تمام امراض کو جنم دیتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں فرمایا گیا ہے۔ حب الدنیا راس کل خطیئہ دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ ہے۔ دل میں دنیا کی عظمت اس کی بڑائی، اس کی محبت کا ہونا دلوں کا شر ہے۔ ایسے شخص کا عمل بھی شر سے خالی نہیں ہوگا اور اس کا نتیجہ بھی شرور و آفات ہی نکلے گا۔ ہمیں خیر اور بھلائی ملے اس کے لئے دلوں کو محنت کا میدان بنا کر اس میں خیر لانا پڑیگا۔ جب دلوں میں خیر اور بھلائی پیدا ہوگی تو اللہ کا وعدہ ہے اللہ بھلائی عطا کرے گا۔ قرآن پاک میں ہے ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیراً یوتیکم خیرا ترجمہ : ’’ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں بھلائی کو دیکھ لیگا تو تمہیں بھلائی عطا کرے گا ‘‘۔ اور یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ بھلائی پوری کی پوری اللہ کے قبضہ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ بیدہ الخیر یوتیہ من یشاء اور ایک جگہ فرمایا بیدہ الخیر وھو علی کل شئی ء قدیر اسی کے ہاتھ میں ہر بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں پر محنت کر کے دلوں میں بھلے جذبے اور نیک ارادے پیدا کریں باقی اللہ اپنی قدرت کاملہ سے سب کچھ کرے گا۔ اسباب ہوں نہ ہوں اگر ارادے نیک ہونگے تو مسبب الا سباب خود انتظام کردے گا۔ اور اگر فرض کیجئے اسباب نہ بھی پیدا ہوئے تو نیک نیتی کی وجہ سے اجر تو مل ہی جائیگا۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ قحط سالی کے زمانہ میں ایک شخص نے پہاڑ کو دیکھا اور یہ سوچا کاش میرے پاس اتنے اناج کے ڈھیر ہوتے میں اسے اللہ کے راستہ میں صدقہ کردیتا۔ وہ اناج کے پہاڑوں جیسے ڈھیر تو جمع نہیں کرسکا لیکن نبی کے ذریعہ خبر دی گئی کہ تجھے اتنا اناج صدقہ کرنے کا ثواب مل گیا اور جہاں اللہ کی مصلحت ہوتی ہے اس کے اسباب بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔
کوئی آدمی یہ نیت کرے کہ میں اپنی اولاد کو حافظ اور عالم بناؤنگا تواللہ تعالیٰ اس کے لئے اسباب پیدا کردیتے ہیں کوئی یہ ارادہ کرے کہ میں اپنی اولاد کو ایسی تربیت دونگا کہ وہ سا ری دنیا میں دین کی محنت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے بھی اسباب پیدا فرماتے ہیں۔ اور جب کوئی شخص یہ ارادہ کرتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بناؤنگا تو وہ اس کے لئے بھی بچپن ہی سے وہ راہ اختیار کرتا ہے۔ اس کی انگریزی تعلیم پر زور دیتا ہے شروع ہی سے بچہ کو پڑھائی میں آگے رکھنے کی کوشش کرتا ہے اس کی تربیت کرتا ہے بچہ کے دل میں بھی بار بار تکرار کے ذریعہ یہ بات بٹھادی جاتی ہے کہ مجھے ڈاکٹر بننا ہے۔ اگر مقدر میں ہوتا ہے تو وہ ڈاکٹر بن جاتا ہے لیکن جب زندگی وفا نہیں کرتی تو وہ لڑکا ڈاکٹر بننے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اور اسے کوئی اس نیت کی وجہ سے ثواب بھی نہیں ملتا۔ اس لئے دلوں میں اچھے جذبات اور نیک ارادے پیدا کرنا ضروری ہے اس کے لئے ذریعہ یہ ہے کہ آدمی ایسے ماحول میں رہے جہاں اللہ اور اس کے رسول کی باتیں بار بار سامنے آتی ہوں لوگ آخرت کے لئے عمل کرنے ولاے ہوں۔ لوگ مخلص ہوں اور آخرت کو سامنے رکھ کر چلنے والے ہوں تو اس ماحول کی برکت سے خود ہی نیک ارادے دلوں میں حیات پاتے ہیں۔ یہ مخلصین ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں۔ المخلصوں ھم مصابیح الھدیٰ مخلص لوگ جب ہدایت کے چراغ ہیں تو ان سے ہدایت کا نور خود بخود پھیلے گا اور اپنے ماحول کو نور ہدایت سے منور کرے گا۔ یہ چراغ کی خاصیت ہے کہ وہ اپنی استعداد کے مطابق ہر ایک تک اپنی روشنی پہنچادیتا ہے۔ اسی طرح مخلص بھی اپنے اخلاص کی بقدر نور ہدایت کو پھیلاتا ہے۔ اخلاص اتنی بڑی دولت ہے کہ اس کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی ہوجاتا ہے۔
حضورؐ نے فرمایا : اخلص دینک یکفیک العمل القلیل ’’ اپنے عمل کو خالص کرلے ، تیرے لئے تھوڑا عمل بھی کافی ہوجائیگا ‘‘کسی عمل کو اللہ کو راضی کرنے کے ارادہ سے کرنے کا نام اخلاص ہے۔ یہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب دنیا کی بے ثباتی اور دنیا کا بے قیمت ہونا اور آخرت کا اصل ہونا سامنے ہو یعنی مستحضر ہو۔ ورنہ بڑے بڑے عمل دنیا ہی کی خاطر ہو کر باطل ہوجاتے ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں مردود قرار دیئے جاتے ہیںَ اس کے لئے ہر مسلمان اپنے آپ کو ایسے ماحول میں رکھنے کا پابند بنائے جہاں بار بار قرآن حدیث کی باتیں سننے کو ملیں۔ اپنے گھروں میں بھی ایسا ماحول بنانے کی کوشش کریں کہ ہر ایک کے سامنے آخرت کے تذکرے ہوتے ہوں جنت اور جہنم کا ذکر، موت اور بعد الموت کے احوال کا مذاکرہ ہوتا ہو۔ کم از کم چوبیس گھنٹہ میں ۱۵! منٹ کے لئے تو ضرور اس کا اہتمام کریں کہ گھر کے سب لوگ جمع ہو کر گھر میں فضائل کی تعلیم کرلیں۔ اس کے علاوہ انفرادی طور پر ہر شخص دینی کتابوں کو مطالعہ میں رکھے خصوصاً اللہ والوں کی سوانح حیات جس میں اہل اللہ کے شب و روز ہمارے سامنے آتے ہوں خصوصاً صحابہ کی سیرت اور رسول اللہؐ کی سیرت ہماری نظروں میں ہوں کہ وہی ہمارے لئے نمونہ قرار دیئے گئے ہیں اپنے ارادوں کو دنیا سے آخرت کی طرف موڑنے میں حضورؐ کی سیرت سب سے زیادہ موثر ہے۔ اس سے یہ پتہ چلے گا کہ کس طرح حضورؐ صحابہ کے رخ کو دنیا سے آخرت کی طرف موڑ دیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ ایک صحابی حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہؐ آج کی تجارت میں مجھے اس قدر نفع ہوا کہ کسی کو اتنا نہیں ملا ہوگا۔ میں سامان خریدتا رہااور بیچتا رہا مجھے تین سو اوقیہ چاندی نفع میں بچی۔ حضورؐ نے اس پر شاباشی نہیں دی بلکہ فرمایا میں تمہیں اس سے بہتر نفع کی چیز نہ بتلاؤں ، عرض کیاضرور ارشاد فرمائیں یا رسول اللہؐ، آپؐ نے فرمایا فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز نفل۔ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہؓ باغ میں پودے لگا رہے تھے ، رسول اللہؐ نے پوچھا ابوھریرہ کیا کررہے ہو، عرض کیا یا رسول اللہ پودے لگا رہا ہوں۔حضورؐ نے فرمایا ، کیا میں تجھے اس سے بہتر پودے نہ بتاؤں جولگائے جائیں ، حضرت ابو ہریرہؓ نے عرض کیا ضرور ارشاد فرمائیں، آپؐ نے ارشاد فرمایا وہ پودے سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے بدلہ میں جنت میں ایک درخت لگتا ہے۔ نیتوں کو دنیا سے آخرت کی طرف منحرف کرنا یہ حضورؐ کی عام عادت شریفہ تھی۔ جب آخرت مستحصر ہوگی تو تمام اعمال کی نیت آخرت کی طرف ہوگی۔ اور آخرت کے لئے کئے جانے والے اعمال کے ساتھ اللہ کی غیبی تائید ہوتی ہے۔ آخرت بھی بنتی ہے اور دنیا کا کچھ نقصان نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذات کے لئے اعمال کرنے کی توفی عطا فرمائے۔ آمین۔

صبر کے بغیر دین متصور نہیں

صبر ان صفاتِ حمیدہ میں سے ہے جن پر اللہ نے اپنی معیت کا وعدہ کیا ہے۔ صبر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یا ایھا الذین اٰمنوا استعینوا لصبر و لصلوٰۃ ، ان اللہ مع الصابرین ۔ اے ایمان والوں اللہ کی مدد حاصل کرو صبر اور نماز کے ذریعہ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اللہ ساتھ ہے یعنی اللہ کی ذات ساتھ ہے ، مع صفات کے۔ اللہ کی ذات دکھائی نہیں دیتی مگر اللہ اپنی لامحدود طاقت و قوت کے ساتھ اور اپنی پوری قدرت کے ساتھ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اتنا عظیم وعدہ معیت اس لئے کیا گیا ہے کہ صبر کے ساتھ ہی آدمی پورا دیندار بنتا ہے۔ صبر کے بغیر نہ اوامر کو پورا کیا جاسکتا ہے نہ ہی نواہی سے بچا جاسکتا ہے اور نہ ہی ابتلاعات میں آدمی دین پر ثابت قدم رہ سکتا ہے۔ ناگوار حالات آدمی کو اگر صابر نہ ہو تو دین سے ہٹا دیتے ہیں اور دنیا میں ناگوار حالات کا آنا ناگذیر ہے۔
خود اللہ ہی اس کی خبر دے رہا ہے۔ ولنبلونکم بشیئٍ من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس واثمرات ج وبشر الصابرین الذین اذا مااصا بتھم مصیبۃ قالوا انا اللہ ،و انا الیہ راجعون ج اولائک علیھم صلوٰۃ من ربھم و رحمۃ ط و اولائک ھم المھتدون ۔ ترجمہ : ہم ضرور آزمائینگے کسی چیز میں سے جیسے خوف، بھوک، جانوں، مالوں یا پھلوں میں کمی سے اور بشارت ہے صبر کرنے والوں کے لئے۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ جب ان پر مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے لئے ہے اور ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہی وہ لوگ ہے جن پر ان کے رب کی طرف سے خصوصی رحمتیں ہیں اور عمومی بھی۔ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ بھی ہیں۔ ان آیات میں جہاں ابتلاعات کی خبر دی گئی ہے ، وہیں صبر کرنے والوں کو خوش خبریاں بھی دی گئی ہیں۔ ایک خوش خبری تو ہے اللہ کی عمومی اور خصوصی رحمتوں کی اور دوسری خوش خبری ہے ہدایت کی۔ یہ ہدایت تو وہ بنیادی ضرورت ہے کہ اسی کے لئے تمام انبیاء کی بعثت ہوئی ہے اور اسی کے لئے رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری ہوئی ہے او اس کے لئے آپ نے خود بھی زندگی بھر اللہ سے مانگا اور اپنے ہر امتی کو اس کے مانگنے میں لگایا ہے ، چنانچہ ہر مسلمان نبی ہو یا صحابی، ولی ہو یا ایک عام مسلمان ہر ایک نماز میں سورہ فاتحہ پڑھتا ہے اور اس میں ہر ایک اہدنا الصراط المستقیم پڑھتا ہے۔ جس کو سیدھے راستہ کی ہدایت مل گئی اس کو اللہ مل گیا کہ اللہ تو سیدھے راستہ پر ہی ملے گا۔ ان ربی علی صراط المستقیم ۔ بے شک میرا رب سیدھے راستہ پر ہے۔ یہ جو مصائب پر صبر کرنے والے ہوتے ہیں، یہی طاعات پر بھی صبر کرتے ہیں۔ طاعات کے لئے بھی صفت صبر لازمی ہے۔ کیونکہ عموماً اللہ کے احکامات نفس کے خلاف ہوتے ہیں جب تک نفس کو صبر کے ذریعہ عادی نہ بنایا جائے نفس پر بڑا مجاہدہ پڑتا ہے۔ مثلاً لوگوں کو معاف کرنا یہ کوئی آسان حکم نہیں ہے۔ انسان کو جب کوئی ستاتا ہے اور بلاوجہ ستاتا ہے ، ظلم کرتا ہے اور یہ ایک امر طبعی ہے کہ اس کو غصہ آئیگا نفس اس سے انتقام کو چاہیگا کم از کم بے بس آدمی بھی بددعا تو کرہی دیتا ہے۔ مگر حکم ہے کہ صبر کرو یہ کوئی آسان کام ہے؟ اور ہر ایک سے تقاضا ہے ، حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ سے بھی کہا جارہا ہے کہ واصبر کما صبر اولو العزم من الرسل ۔ آپ ایسے صبر کیجئے جیسا کہ اولاالعزم یعنی عالی ہمت رسولوں نے کیا۔ اور صبر کرنے والوں کی تعریف بھی کی جارہی ہے ولمن صبر وغفر ان ذالک من عزم الامور ۔ اور جس نے صبر کیا اور معاف کیا تو بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ دشمنوں کی طرف سے ایذاؤں پر صبر کرنے سے تقویٰ کی بھی بشارت سنائی جارہی ہے اور یہ بھی اطمینان دلایا جارہا ہے کہ انکا مکر وفریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ و ان تصبرواو تتقو الا یضرکم کید ھم شیئا ۔ ترجمہ : اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکر تمہیں مضرت نہیں پہنچا سکتا ۔ ایسے ہی اللہ کا ہر حکم صبر کا متقاضی ہے۔ نماز پڑھنا ہے تو صبر کرو۔ پانچوں وقت کی نمازیں ایسی ہیں کہ ہر وقت کا صبر الگ الگ قسم ہے ۔
فجر کا وقت نیند کے غلبہ کا وقت ہے اگر سردی کا موسم ہے تو سردی کو برداشت کرو اگر صبر کا مادہ ہے تو فجر کی نماز ہوسکتی ہے ورنہ نہیں۔ ظہر کا وقت گرمی کے زمانہ میں دھوپ اور گرمی کو برداشت کرنا ہے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد نفس آرام کا تقاضا کرتا ہے اب صبر کرو تو ظہر کی نماز ہوسکتی ہے۔ ورنہ نہیں۔ عصر اور مغرب کا وقت تو سب کے لئے مشاغل کے ہجوم کاوقت ہے۔ دوسرے تقاضوں کو دبا کر صبر کئے بغیر یہ دونوں نمازیں بھی ممکن نہیں۔عشاء کی نماز بھی دن بھر کی تھکان کے بعد نفس کے لئے آرام طلبی کا وقت ہے۔ غرض کہ پانچوں نمازیں جو طاعات میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں صبر کا تقاضا کرتی ہیں۔ اور روزہ تو عین صبر ہے۔ کھانا پانی سب موجود ہے صرف اللہ کے حکم کی وجہ سے بندہ صبر کرتا ہے اور حضور ﷺ نے تو پورے ماہ رمضان ہی کو صبر کا مہینہ قرار دیا ہے۔ فرمایا یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ اب دوسرے موضوع پر آیئے کہ صبر کے بغیر نواہی سے رکنا بھی ممکن نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ برائیوں کی طرف تیزی سے چلتا ہے۔
قرآن پاک میں یوسف علیہ السلام کی بات نقل کی گئی ہے وما ابری نفسی ان النفس لامارۃ بالسوء الامن رحم ربی ۔ کہ میں اپنے نفس سے بری نہیںہوں نفس تو برائی کی طرف ہی لیجاتا ہے۔ یہ ایک عمومی مسئلہ ہے ۔ مثلاً اللہ نے منع کیا ہے غیر محرم پر نظر ڈالنے سے ، فرمایا قل للمومنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فرو جھم و قل لمومنات یغضضن من ابصار ھن و یحفظن فروجھن ۔ ایمان والے مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظرین نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور ایمان والی عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرین۔ نفس کے تقاضے کے باوجود اپنی نظروں کو روکے رکھنا یہ صبر ہی کا کام ہے۔
خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ عریانیت کا ماحول ہے۔ اب مسئلہ بے پردگی کا نہیں ہے۔ بلکہ عریانیت ہے ہر طرف نیم برہنہ عورتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ فلموں کے پوسٹرس ہر طرف دعوت نظارہ دے رہے ہیں بلکہ ہر مال اور ہر چیز کے اشتہار کے لئے نیم برہنہ عورتوں کی تصویروں کو ہی استعمال کیا جارہا ہے۔ T.V. پر نظر ڈالیں تو وہی عریانیت ہے۔ ان حالات میں اگر انسان صابر نہ ہو تو کوئی طاقت بد نظری سے نہیں روک سکتی۔ میوزک کا وہ دور دورہ ہے کہ مسجد یں اور مدرسہ بھی محفوظ نہیں ، موبائل فون کے واسطے سے جیبوں میں music بج رہا ہے۔ صبر ہی اس موسیقی سے بچنے کا بھی راستہ ہے۔ ماحول ایسے گندہ ہے کہ اس کا علاج تو دیر طلب ہے ہاں اپنے نفس کا علاج کیا جاسکتا ہے اس کو صبر کا عادی بنائیں اور یہ صبر کہا ملے گا، صبر نتیجہ ہے ایمان کا اور اللہ اور اس کے رسول کی خبروں پر پکے یقین کا۔ برے اعمال پر جو عذابات اور سزاؤں کی خبریں دی گئیں ہیں ان پر پختہ یقین ہو اور وہ سزائیں اور عذابات مستحضر ہوں اور پھر اپنے نفس سے مخاطب ہو کہ ہے ان سزاؤں کے برداشت کرنے کی ہمت اور طاقت۔ ایسے ہی نیک اعمال پر جو وعدے کئے گئے ہیں ان پر یقین ہو اور ان کا ستحضار ہو کہ جب بھی نفس طاعات میں سستی کرے اور اپنے نفس کو دعوت دے کیا تو ایسی بڑی بڑی نعمتوں کو پسند نہیں کرتا۔ دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کا دوام نفس پر پیش کرے کہ یہ لذتیں تھوڑی دیر کی ہیں مگر اس پر ملنے والا عذاب دائمی ہوگا۔ اس کے علاوہ اپنے آپ کو ایسے لوگوں کی صحبت اور ماحول میں رکھے جنہوں نے اپنے نفوس کو صبر کا عادی بنالیا ہے اگر ایسے لوگ مسیر نہ آئیں تویا ہماری رسائی نہ ہو تو ایسے لوگوں کی سوانح حیات پڑھیں ان کے حالات کا پڑھنا بھی اتنی دیر کے لئے گویا ان ہی کی صحبت میں رہنا ہے۔ اور ان اسلاف میں سب سے بہترین لوگ صحابہ کرام ہیں۔ حیاۃ الصحابہ میں ان کی زندگی کے حالات پڑھیں کہ یہ سب کے سب رسول اللہ ﷺ کے صحبت یافتہ ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں تمام امت کے لئے نمونہ عمل قرار دیاہے۔
آپؐ نے فرمایا اصحابی ک النجوم با یھم اقتدیتم اھتد یتم ۔ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ، تم ان میں سے جس کی بھی اقتداء کروگے ہدایت پاجاؤ گے۔ خود اللہ تعالیٰ نے بھی ان صحابہ کرام سے اور ان کی پیروی کرنے والوں سے اپنی رضامندی کا اعلان کیا ہے۔ فرمایا السابقون الاولون من المھاجرین والا نصار والذین التبعو ھم باحسان رضی اللہ عنھم و رضو عنہ ۔ ترجمہ : سابقین اولین مھاجرین میں سے اور انصار میں سے بھی اور جونیکی میں ان کی پیروی کرنے والے ہیں اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ صحابہ کرام وہ مبارک قوم ہیں جن کو اللہ نے اپنے آخری رسول اورحبیب رب العالمین کی مصاحبت کے لئے چنا ہے۔ ان کے اعمال ہمارے لئے علوم ہیں۔ ان کے اعمال کا مطالعہ ہمارے علم کو بڑھائیگا اور یہ علم ہماری رہبری کرے گا کہ طاعات پر کیسے صبر کیا جاتا ہے۔ اور نواہی سے بچے کے لئے صبر کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اور مصائب و آلام پرکیسے ثبات قدمی نصیب ہوسکتی ہے۔ دنیا تو ہے ہی حادثات کی جگہ۔ یہ حوادث ہمیں ناشکری اور بے صبری پر آمادہ نہ کریں۔ حضرت معاذ بن جبل کے بیٹے کا انتقال ہوا تو حضور ؐ نے انہیں تعزیتی خط لکھا جس میں لکھا کہ ہماری جان اور مال سب اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ان چیزوں سے ہم کو نفع پہنچاتا ہے اور جب چاہتا ہے واپس لے لیتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی نقصان پر غم ہونا یہ فطری بات ہے لیکن اللہ کے تقدیری فیصلے پر راضی رہنا یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ چاہے بڑے سے بڑی مصیبت آجائے اپنے نفس کو یہ سمجھا ئے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ ۔ کوئی مصیبت نہیں آتی مگر اللہ کے اذن سے۔ پھر یہ سمجھا ئے کہ اللہ تو بڑا مہربان بہت رحم کرنے والا ہے اس مصیبت میں بھی ضرور کوئی مصلحت ہوگی جس کو میں نہیں جانتا۔ اس طرح اپنے نفس کو سمجھائے اور اس مصیبت پربھی اجر و ثواب کی بھی پوری امید رکھے۔
حدیث میں ہے کہ مومن کو کانٹا چبھتا ہے تو اس پر اجر دیا جاتا ہے۔ مومن کو بخار آتا ہے تو اس پر بھی گناہ معاف ہوتے ہین۔ کسی گناہ سے رکنے پر نفس تلملا تا ہے اس پر بھی اللہ کی رضا ملتی ہے کسی حکم کو پورا کرنے میں نفس پر جو مشقت پڑتی ہے اس سے بھی آخرت سنورتی ہے۔ صبر چاہے جس قسم کا ہو اس میں نقصان ہے ہی نہیں ، بظاہر تکلیف ہے لیکن حقیقت میں نفع ہی نفع ہے۔ حدیث میں ہے کہ بعض مرتبہ آدمی کے لئے اتنے بلند درجات طے کردیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنے عمل سے ان درجات تک نہیں پہنچ سکتا تو اس کو مصائب میں مبتلا کر کے صبر کی توفیق دی جاتی ہے اور اس طرح اسے ان بلند درجات تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ بس بندہ کا کام ہے ہر حال کو اپنے لئے خیر سمجھے اور ہر حال میں اپنے آپ کو دین پر جمائے رکھے۔ اور اللہ ہی سے صبر و استقلال مانگتا رہے۔ اور عافیت اور سہولت بھی مانگتا رہے۔ اور اپنے کو ہمیشہ کمزور سمجھے اور آزمائش کے قابل نہ سمجھے اور اللہ سے کہتا رہے کہ اے اللہ سہولت کے ساتھ آخری دم تک اپنی مرضیات پر چلالے۔ بچل جانے سے پھسل جانے سے حفاظت فرما۔ اللھم لاتزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب ۔ اللہ سے عاقبت مانگیں صبر نہ مانگیں، صبر مانگنا تو گویا مشکلات مانگنا ہے۔ کیونکہ مشکلات آئیگی تو ہی صبر کی ضرورت پڑے گی۔ چاہے مشکل دین پر چلنے میں ہو یا گناہ سے بچنے میں یا کسی مصیبت میں، اللہ اپنے فضل سے آسانیوں کا معاملہ فرمائے۔ آمین۔
نیند اللہ کی نشانیوں میں سے ہے

قرآن پاک ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ ایک جگہ فرمایاگیا ہے : افلا یتدبرون القرآن ۔ کیا تم قرآن میں تدبر نہیں کرتے۔ اس کا مطلب یہ کہ تم قرآن میںتدبر کیا کرو، یعنی جو باتیں قرآن پاک میں بتائی گئی ہیں ان میں غور و فکر کیا کرو۔ اس سے اللہ کی معرفت پیدا ہوتی ہے۔ اور کلام اللہ کی عظمت پیدا ہوتی ہے۔ یہ غور وفکر اللہ کی معرفت کی کنجی ہے اور معرفت مقصد تخلیق ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وما خلقت الجن والا نس الا لیعبدون ۔ مفسرین فرماتے ہیں ، لیعبدون سے مراد ل لیعرفون ہے۔ یعنی تاکہ تم اس کی معرفت حاصل کرو۔ قرآن پاک کی آیتوں میں سے ایک آیت ہے ومن اٰیتہ منامکم فی الیل والنھار ۔ اور اللہ کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا۔ جب اللہ تعالیٰ نیند کو اپنی نشانیوں میں سے فرمارہا ہے تو اس میں ضرور غور کرنا چاہئے۔ اللہ کا کلام یوں ہی سرسری نہیں ہوتا اللہ کے کلام کا ایک ایک لفظ بلکہ ایک ایک حرف معنی خیز ہوتا ہے۔ یہی تو وہ کلام ہے جس کی ایک آیت کی بھی نظیر پیش کرنے سے تما م اہل زبان اور ادباء عاجز ہیں۔ سوا چودہ سو سال پورے ہوگئے لیکن اللہ کے challange کا کوئی جواب نہیں دے سکا۔ جبکہ اہل باطل مسلسل قرآن پاک پر research میں لگے ہوئے ہیں۔
در اصل بات یہ ہے کہ انسان کے لئے نیند کا کوئی بدل ہی نہیں ہے جب آدمی رات کو سوتا ہے تو پورے جسم کو آرام ملتا ہے، خصوصاً اعصابی نظام nervous system کو ایسا آرام ملتا ہے کہ جسم کے تمام اعصاء نیند سے بیدار ہونے کے بعد دوبارہ تروتازہ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ سونے کی حالت میں نظام دوران خون blood circulation system اور نظام انہضام Digestive system دونوں جاری رہتے ہیں مگر پھر بھی ان میں استعمال ہونے والے اعضاء کو آرام ملتا ہے اور ان کی تھکان دور ہو کر نئی قوت اور تازگی پید ا ہوجاتی ہے۔ جو لوگ وقت پر سونے اور وقت پر جاگنے کااہتمام رکھتے ہیں وہ عمر کے اعتبار سے بوڑھے ہونے کے بعد بھی صحت مند رہتے ہیں اور بیماریوں کا شکار نہیں ہوتے۔ ایک صحت مند آدمی کے لئے ۲۴! گھنٹوں میں چھ گھنٹے سونا ضروری اور کافی ہے۔ اس سے کم یا زیادہ سونا اعتدال کے خلاف ہے۔ اور یہ سونا بھی اصل رات کا ہے۔ رات بھر یا رات کا اکثر حصہ جاگ کر دن میں چھ گھنٹے پورے کرلینا خلاف فطرت ہے۔ آیت میں رات کا ذکر پہلے ہے۔ اور حضور ﷺ کی سنت بھی عشاء بعد جلد سونے کی ہے اور صبح قبل صبح صادق جاگنے کی ہے۔ یہی اصل نیند کا وقت ہے ۔رات میں دیر تک جاگنا اور صبح دیر تک سونا انسانی صحت کے لئے مضر ہے۔ اس سے اعضاء کا نشاط اور پھرتیلا پن بتدریج کم ہوتا جاتا ہے۔ صبح کا سونا برکت رزق سے بھی محرومی کا سبب ہے۔ ہاں! دن میں دوپہر کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر آرام کرنا مفید ہے کیونکہ سنت ہے جو قیلولہ کے نام سے موسوم ہے۔ اور یہ medical science کے عین مطابق ہے کہ جب آدمی کھانا کھاتا ہے تو معدہ کے پُر ہوجانے کی وجہ سے دوران خون کادباؤ معدہ کی طرف بڑھ جاتا ہے اس وقت آرام کرنا دوران خون کو اعتدال پر لاتا ہے۔ جب انسان کھڑایا بیٹھا ہوتا ہے تو چاہے وہ کوئی محنت کا کام کرے یانہ کرے اعضاء کی زمین کی سطح سے دوری کی بقدر اعضاء پر زمین کی قوت کشش ثقل کی وجہ سے کھچاؤ رہتا ہے جس سے تمام اعضاء تھکتے ہیں خصوصاً سر کے اعضاء آنکھیں اور دماغ پر یہ کھچاؤ ضرور محسوس ہوتا ہے۔ جب آدمی لیٹتا ہے تو جسم کے تما م اعضاء سطح زمین سے مساوی اونچائی پر ہونے کی وجہ سے ثقلی قوت کی وجہ سے پڑنے والا کھچاؤ مساوی ہوجاتا ہے اور تمام اعضاء کا بوجھ اتر جاتا ہے۔ اس سے آدمی کوایسے ہی راحت ملتی ہے جیسے کسی بوجھ لادے ہوئے آدمی کو بوجھ اتاردینے سے راحت ملتی ہے۔ اس راحت کی وجہ سے آدمی کو نیند آجاتی ہے۔ اس حالت میں دماغ اور اعصابی نظام اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں یہی وہ حالت ہے جو موت کے مشابہ ہے اسی لئے حدیث میں نیند کو موت کی چھوٹی بہن کہاگیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سوتے وقت حضور ؐ سے جو دعا منقول ہے اس میں سونے کی بجائے موت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ دعاہے اللھم بسمک اموت و احیاء ۔ اے اللہ میں تیرے ہی نام سے مرتا ہوں اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوتا ہوں۔ اسی طرح سو کر اٹھنے کی دعا میں بھی اسی طرح کی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ دعا ہے : الحمد للہ الذین احیانا بعد ما اماتنا و الیہ انشور ۔ ترجمہ : تمام تعریفیں ا س اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ ہم مرچکے تھے اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ غرض یہ کہ سونے سے انسانی اعضاء کو آرام ملتا ہے۔ خصوصاً رئیس الاعضاء ، دماغ ایسی راحت پاتا ہے کہ سو کر اٹھنے کے بعد تازہ دم ہوجاتا ہے۔ اور عقل سلامت رہتی ہے۔ حافظہ بھی سلامت رہتا ہے۔ بعض لوگ کم سوتے ہیں یا انہیں نیند ہی کم آتی ہے اور وہ اس کے بدلہ میں ہاتھ پاؤں اور بدن دبوا کر راحت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن یہ نیند کا بدل نہیں ہوسکتا بلکہ بدن دبوانے کا عادی بن کر نیند نہ آنے کے دائمی مریض بن جاتے ہیں۔ اور اس طرح جسم بھی کمزور ہوتا جاتا ہے۔ مسلسل بدن دبوانے سے اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ یہ اعصاب پورے بدن میں پھیلے رہتے ہیں۔ بدن دبوانے کی رگڑ سے اس میں ضعف پیدا ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ آدمی کو ایسا غم اور فکر لاحق ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے نیند اڑ جاتی ہے اس کا علاج یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد پیشانی پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھی جائے جو حیاۃ الصحابہ میں نقل کی گئی ہے۔ بسم اللہ الذین لا الہ الاھو الرحمن الرحیم ، اللھم الذھب عن الھم و الحزن ۔ اس اللہ کے نام سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، اے اللہ میرے ھم اور غم کو دور کردے۔ ہم اس فکر و غم کو کہتے ہیں جو آدمی کی نیند اڑادے۔ اس دعا کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایسے حالات ہی نہیں پیدا ہوتے جو آدمی کی نینداُڑادیں۔ اسلاف میں بعض اہل اللہ کا ذکر آتا ہے جو بہت کم سوتے تھے صرف دو ڈھائی گھنٹہ ہی پورے دن رات میں سوتے تھے یہ ان کی کرامت ہے یہ ان کے لئے اوقات میں خصوصی برکت ہے۔ ورنہ عام آدمی کو اوسطاً چھ گھنٹے سونا چاہئے۔ بعض لوگ زیادہ سونے کے عادی ہوجاتے ہیں یہ بھی صحت کے لئے مضر ہے۔ فطرت اعتدال کا تقاضہ کرتی ہے۔ جن لوگوںکو نیند کم آتی ہے وہ پینے میں پانی کی مقدار کو بڑھائیں۔ اور ایسی غذاؤں کے استعمال سے پرہیز کریں جن سے دماغ میں خشکی پیدا ہوتی ہو۔ مثلاً چائے کافی کی زیادہ مقدار صحت کے لئے ضرر رساں ہے۔ نیند کو کم کرنے والی ہے۔ گوشت کا استعمال پانی کی مقدار کو بھی بڑھاتا ہے اور یہ پانی کی زیادہ مقدار نیند کو بڑھاتی ہے۔ اطباء کا اس پر اتفاق ہے کہ پانی زیادہ پینا نیند کو بڑھاتا ہے۔
بعض لوگ دیر سے سونے کے عادی ہوجاتے ہیں وہ جلدی سونے کی کوشش بھی کریں تو نیند نہیں آتی آخر اکتا کر وہ دیر ہی سے بستر پر پہنچتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا علاج یہ ہے کہ بستر پر جلد پہنچ کر لیٹ جائیں۔ اپنے وظائف پورے کریں۔ کم از کم چاروں قل، آیت الکرسی، تسبیحات فاطہ اور سونے کی دعا پڑھ کر لیٹ جائیں اگر نیند نہ لگے تو درود شریف پڑھتے رہیں۔ چندروز میں انشاء اللہ نیند آنے لگے گی۔ پانچوں وقت کی نمازوں کا اہتمام ہر قسم کی صحت کا ضامن ہے۔ نمازوں کے لئے اعضاء وضو کا دھلنا فکر وغم دور کرنے کا بہترین سبب ہے۔ سونے میں مسنون طریقہ پر سونا سنن کی ادائیگی کے ثواب کے ساتھ ساتھ بدن کے لئے زیادہ راحت اور صحت کا ذریعہ ہے۔
سونے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دائیں کروٹ لیٹا جائے دایاں ہاتھ گال کے نیچے ہو اور بائیں ہاتھ کو بائیں پیر پر رکھ کر پیروں کو ذرا سکیڑ کر لیٹیں۔ اس حالت میں دل معلق رہتا ہے اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہونے کی وجہ سے نظام دوران خون صحیح چلتا ہے۔ اس کے برعکس اگر بائیں کروٹ یا اوندھے لیٹنا، قلب پر دباؤ بڑھا دیتا ہے جو بعض مرتبہ نیند نہ آنے کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔اور دوران خون کے متاثر ہوجانے سے بُرے خواب بھی نظر آتے ہیں۔ سنتوں کے اہتمام میں دنیا کا بھی نفع ہے اور آخرت کا بھی۔ دین تو زندگی بنانے ہی کے لئے دیا گیا ہے۔ لوگ دین کو بوجھ سمجھ رہے ہیں حالانکہ دین ہر قسم کا بوجھ کم کرنے کے لئے ہیں۔ ہر قسم کی راحت پہنچانے کے لئے ہیں۔ صبح اگر فجر کی نماز چھوڑ کر سورہے ہیں تو حدیث میں ہے کہ ایسے شخص کے کان میں شیطان پیشاب کردیتا ہے۔ جس سے اس کا پورا دن ہی خراب ہوجاتا ہے۔ پورا دن آدمی کا دل ہی اللہ کی اطاعت کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ جسمانی سستی اور کاہلی الگ محسوس ہوتی ہے۔ اٹھ کر چاہے آدمی کتنا ہی نہالے دھولے لیکن اندر سے شیطان کے پیشاب کے اثرات کو کیسے نکا لیگا۔ اس کا خوب یقین کر لیں کہ دین پر چلنے ہی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اور بے دینی میں نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یقین نصیب فرمائے۔ آمین۔

امراض کے تدارک کا آسان نسخہ

جس طرح صحت اللہ کی نعمت ہے، بیماری بھی اللہ کی نعمت ہے۔ بلکہ بیماری صحت سے بڑی نعمت ہے۔ اس لئے کہ بیماری میں بندہ اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔ بیماری میں اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ مومن کی ہر تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔ مگر انسان فطرتاً کمزور واقع ہوا ہے۔ خلق الانسان ضعیفا ۔ انسان کو کمزور پید اکیا گیا ہے۔ اس لئے انسان صحت والی نعمت کو بیماری والی نعمت کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتا ہے۔ اور اللہ بھی قومی مومن کو زیادہ پسند کرتا ہے ۔ بیماری میں آدمی کمزور ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے المومن القوی خیر واحب عند اللہ من مومن الضعیف ۔ قومی مومن اللہ کے نزدیک بہتر اور زیادہ پسندیدہ ہے کمزور مومن سے۔ وجہ ظاہر ہے کہ قوی ہوتو وہ طاعات اور عبادات میں زیادہ مستعد رہتا ہے۔ اور بیماری میں آدمی بہت سے نیک کاموں سے محروم ہوجاتا ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی اور کرم ہے کہ اللہ مومن بندہ کو بیماری کی حالت میں بھی ان عبادات اور نیک کاموں کا اجر بغیر کئے بھی عطا فرماتا ہے جن کا و ہ صحت کے زمانہ میں پابند ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا نظام ہے کہ اس نے دنیا میں ہرچیز کے اسباب پیدا فرمادیئے۔ حالانکہ وہی فاعل حقیقی ہے وہی بیماری بھی دیتا ہے وہی شفا بھی دیتا ہے لیکن بیماری کے بھی اسباب ہیں اور اسی طرح بیماری سے بچنے کے بھی اسباب ہیں۔ بیماریوں سے بچنے کے اسباب میں سے بڑا سبب یہ ہے کہ آدمی کے اندر جسم میں ایسی قوت مزاحمت resistance power ہو جو مختلف بیماریوں کے virus اور Bacteria کا مقابلہ کرسکے۔ فضا میں حالات اور مواسم کے اعتبار سے مختلف قسم کے جراثیم پھیلتے رہتے ہیں۔ اگر جسم میں قوت مزاحمت نہ ہو یا کمزور ہو تو وہ جراثیم جسم پر غالب آکر بیمار کردیتے ہیں۔ اور آدمی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس قوت مزاحمت کے لئے آدمی کو ہر قسم کی حلال اور جائز غذائیں کھانا چاہئے۔ بہت سے لوگ مختلف قسم کی غذاؤں سے پرہیز کرتے ہیں۔ کوئی گوشت نہیں کھاتا تو کوئی مچھلی سے پرہیز کرتا ہے تو کوئی کسی خاص دال یا سبزی کا استعمال نہیں کرتا۔ آدمی کو ہر قسم کی حلال غذا بلا تکلف بلکہ اگر طبعیت پر کسی خاص چیز سے ناگواری ہو تو بھی بہ تکلف استعمال کرنا چاہئے۔ دوسری بات ہر موسم کی سبزیاں اور ہر موسم کے پھل بھی کھانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ایسا نظام ہے کہ موسم کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے پھل پیدا فرماتا ہے جن میں اس موسم کے مضر اثرات کا تدارک ہے۔
دوسرا نسخہ امراض سے تحفظ کا یہ ہے کہ مسلمانوں کا جھوٹا بلا تکلف کھائیں اور پئیں لوگ عام طور پر دوسرے کا چھوڑا ہوا پانی یا کھانا کھانے میں کراہت محسوس کرتے ہیں۔ اور دوسرے کا جھوٹا نہ کھانے اور نہ پینے میں اپنی نفاست سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ مومن کے جھوٹے میں شفا ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ہربات کو حق اور سچ جانے۔ جب حضورؐ مسلمانوں کے جھوٹے میں شفا فرمارہے ہیں تو یقینا اس میں شفا ہے اس کو دوا سمجھ کر استعمال کرنا چاہئے۔ جس طرح ڈاکٹر کی تجویز پر کڑوی سے کڑوی دوا بھی مریض استعمال کرتا ہے تو کیا حضورؐ کا ارشاد ڈاکٹر (العیاذ بااللہ) کے قول سے بھی کم حیثیت رکھتا ہے۔
تیسرا نسخہ جو حضورؐ ہی کا تجویز کیا ہوا ہے ، آپ نے فرمایا کہ اپنے بیماریوں کا علاج صدقہ سے کیا کرو۔ جب کوئی مرض کسی کو لاحق ہو سب سے پہلے صدقہ دینا چاہئے۔ صدقہ کے لئے ضروری نہیں ہے کہ کوئی بہت بڑی رقم ہی دی جائے بلکہ اپنی حیثیت کی بقدر روپیہ دو روپیہ جتنا ہوسکے دینا چاہئے اور دیتے رہنا چاہے۔ صدقہ بلاؤں کو بھی دفع کرتا ہے۔ صدقہ دیناصرف مالدارہی کا کام نہیں ہے ، غریب آدمی بھی اپنی حیثیت کے موافق صدقہ دے سکتا ہے آخر دواؤں میں سیکڑوں روپئے خرچ ہوتے ہی ہیں۔ کیا بگڑجائے اگر چند روپئے صدقہ میں بھی خرچ ہوجائیں۔ صحابہ کرام تو صدقہ کا ایسا اہتمام کرتے تھے کہ بعض مرتبہ صرف صدقہ دینے ہی کی نیت سے مزدوری کرتے جو کچھ ملتا اسے صدقہ کردیتے۔ یہ فقراء ومساکین پر صدقہ کرنا دواؤں پر خرچ کرنے سے بہتر ہے۔ آسان ہے اور سستا بھی ہے۔ بیماریوں سے نجات کا ایک اور نسخہ جو قرآن میں بیان کیا گیا ہے ، شہد ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا فیہ شفاء للناس۔ اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ اسی آیت کی وجہ سے آپؐ بھی اپنے مریضوں کو شہد تجویز فرمایا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ ایک صحابی نے حضورؐ سے آکر عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میرے بھائی کے پیٹ میں درد ہے آپ نے فرمایا اس کو شہد پلاؤ۔ وہ صحابی گئے اور شہد پلایا اور آ کر خبر دی یا رسول اللہ ﷺ میرے بھائی کے پیٹ کا درد اور بڑھ گیا ۔آپؐ نے پھر فرمایا اس کو اور شہد پلاؤ ، وہ صحابی گئے اور شہد پلایا ، مگر درد اور بڑھ گیا ، ان صحابی نے پھر آکر عرض کیا یاسول اللہ ﷺ درد تو بہت بڑ گیا۔ آپؐ نے جوش میں آکر فرمایا، تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ، اللہ کا کلام سچا اور شہد پلاؤ۔ وہ گئے اور پھر شہد پلایا ، اللہ کے فضل سے اسہال ہوا تکلیف دہ مادہ پورا خارج ہوگیا اور سکون ہوگیا۔ ایک نسخہ حدیث میں اور ملتا ہے ، آپؐ نے ارشاد فرمایا، کلونجی (جس کو عربی میں حبۃ السوداء کہتے ہیں) میں ہر بیماری کی شفا ء۔ یہ کلونجی پیاز کے بیج کے مشابہ کالے دانے ہوتے ہیں۔ اس کو عام لوگ منگریلا بھی کہتے ہیں۔ بیماریوں کے لئے مجرب نسخہ ہے۔ اس کو تو ے پر بھون کر پیس کر سفوف بنا کر رکھ لیا جائے اور شہد میں ملا کر ایک چمچہ کلونجی کا پاؤڈر چاٹ لیا جائے تو بہت سے امراض کی دوا ہوجاتی ہے۔ ان تمام سستے نسخون کے باوجود ڈاکٹروں سے دوا لینا یا علاج کرانا کوئی منع نہیں بلکہ سنت ہے اور اس کا حکم دیا گیا ہے کہ اچھے ڈاکٹر سے علاج کراؤ۔ مگر علاج کرانے سے پہلے اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، پہلے ان آسان نسخوں کو استعمال کریں۔ اس کے بعد ڈاکٹر کی طرف اللہ سے مانگ کر جائیں اور یہ خیال کریں کہ شفا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے لیکن شاید اللہ تعالیٰ ڈاکٹر کو ہمارے ذریعہ روزی پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ سوچ کر ڈاکٹر کی طرف جائیں۔ اور پھر ڈاکٹر کی تجویز پر عمل کریں۔ بار بار ڈاکٹر نہ بدلیں بلکہ پہلے ہی کسی قابل اعتماد ڈاکٹر سے رجوع کریں اگر وہ ڈاکٹر کسی دوسرے مخصص یعنی specialist کی طرف بھیجے تو اس کی بات مانے۔ اگر وہ کوئی test وغیرہ کرانے کے لئے کہے تو اس کی بھی اطاعت کرے۔ اب یہ زمانہ ان حکیمون کا نہیں رہا جو صرف نبض دیکھ کر یا پیشاب دیکھ کر مرض پہنچان لیں اور دوا تجویز کردیں بلکہ اب medical science بہت advance ہوچکا ہے۔ اس معاملہ میں جہاں تک ہو سکے دیندار مسلمان ڈاکٹروں کے مشورہ پر عمل کریں۔ اگر فائدہ جلدی نہ ہوتو ڈاکٹر کو بُرا بھلا نہ کہیں بلکہ اللہ کی تقدیر پر راضی رہیں اور اس کا استحضار رکھیں کہ شفا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
قرآن حکیم میں ابراہیم علیہ السلام کا جملہ کوڈ کیا گیا ہے و اذا مرضت فھو یشفین ۔ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ جب سارے علاج معالجہ کے بعد بھی شفا نہ ملے تو مایوس نہ ہو یہ سمجھے کہ اسی میں میرے لئے خیر ہے اللہ بڑا مہربان ہے وہ حکیم بھی ہے اس کا کوئی کام حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ عسی ان تکر ھو شیئا و ھو خیر لکم و عسی ان تحبو شیئا وھو کرہ لکم ۔ہوسکتا ہے کہ ایک چیز کو تم بُرا سمجھتے ہو اور اس میں تمہارے لئے خیر ہو اور ایک چیز کو تم پسند کرتے ہو اور اس میں تمہارے لئے شر ہو۔ انسان کی چاہت اور کراہیت بھی ناقص ہے اور انسان کا علم بھی ناقص ہے۔ اللہ کی ذات کا علم کامل ہے وہ علیم و حکیم ہے۔ اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور مصائب میں اسی کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ دعا مومن کا ایسا ہتھیار ہے کہ جہاں سارے اسباب و وسائل فیل ہوجاتے ہیںیہ دعا وہاں بھی کام کرتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی بھی کام کے بنانے میں اسباب و ذرائع کا محتاج نہیں ہے۔ وہ چاہے تو بغیر سبب کے سب کچھ کردے اور چاہے تو کسی بھی چیز کو سبب بنادے۔ وہی مسبب الاسباب ہے۔ اصل اللہ کا ارادہ ہے۔ اس کی مشیت ہے اس نے اپنے بارے میں بتایا کہ یفعل مایشاء ۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ فعال لمایرید ۔ جس بات کا ارادہ کرتا ہے کرڈالتا ہے۔ اذا اراد اللہ شیئا ان یقول لہ کن فیکون ۔ جب کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو کہتا ہے ہوجاتو وہ ہوجاتی ہے۔ وہ ایسی زبردست قدرت کا مالک ہے ۔ اسباب و علل سب ہمارے امتحان کے لئے ہیں ورنہ اس کو کیا حاجت۔ وہ تو علیٰ کل شیء قدیر ہے۔ اللہ ہمیں اپنی معرفت نصیب فرمائے۔ آمین۔

بچوں کی حرکات اور نظام ربوبیت

یہ خالق کائنات کا نظام تخلیق ہے کہ وہ تمام جانداروں کو چاہے حیوانات ہوں یا نباتات عالم طفولیت میں پیدا کرتا ہے۔ صرف آدم و حوا علیھا السلام اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی اس سے مشتشنیٰ ہیں۔ یہ اظہار قدرت کے لئے ہے کہ بندے اس کو پہنچانیں کہ وہ قادر مطلق ہے کسی بھی قاعدے قانون اور اسباب و وسائل کا پابند نہیں ہے جو چاہے جب چاہے جہاں سے چاہے جیسے چاہے کرسکتا ہے۔ اپنی خالقیت میں بھی وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔ یخلق مایشاء جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ یخلق کیف یشاء جیسے چاہے پیدا کرتا ہے۔ عمومی طریقہ اللہ تعالیٰ کا یہ ہے کہ بچہ انتہائی کمزور حالت میں پیدا ہوتا ہے پھر اس پر اس کا نظام ربوبیت کام کرتا ہے پھر جیسے جیسے وقت گذرتا ہے یہ بچہ بڑھتا جاتا ہے اور اس کی تمام صلاحتیں اور استعداد ترقی کرتی رہتی ہیں حتیٰ کہ کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔ تخلیق کے اس نظام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں انسانوں کے لئے اس طرح بیان فرمایا ہے : واللّٰہ اخرجکم من بطون امھاتکم لا تعلمون شیئا وجعل لکم السمع ولابصار والافئدۃ لعلکم تشکرون ترجمہ : ’’ اور اللہ نے تمہیں نکالا تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے، اور اسی نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم اس کی شکر گذاری کرو ‘‘۔ حیوانات کے بچے جب پیدا ہوتے ہیں تو ان کی طرف سے ان کی تربیت کی جاتی ہے۔ حیوانات میں سب سے کمزور انسان کا بچہ ہوتا ہے۔ سب سے ناسمجھ بھی انسان کا بچہ ہوتا ہے۔ گائے بھینس کے بچے تو پیدا ہونے کے بعد پہلے ہی گھنٹہ میں کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اسی دن وہ چلنا پھرنا بھی شروع کردیتے ہیں۔ بکری کا بچہ دوسرے ہی دن آپ کو چھلانگیں مارتا نظر آئیگا۔
انسان کا بچہ بیٹھنے میں ہی چھ ماہ لگادیتا ہے۔ چھ ماہ میں وہ اس قابل ہوتا ہے کہ بغیر سہار کے بیٹھ سکے پھر بھی اس کے گرنے پڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔ کھڑے ہونے کے لئے ایک سال لگادیتا ہے۔ دوسرے سال میں اس کی چلنے کی کوشش شروع ہوتی ہے۔ دوسال پورے ہوتے ہوتے وہ دوڑنے کے قابل ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے پرورش کا نظام ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے اس کی عمر بھی طویل ہے اور اس کی زندگی کامقصد بھی عظیم ہے۔ اس لئے تقریباً دو سال تک اس کو گھر کی چار دیواری میں مقید رکھا جاتا ہے۔ ان دو سالوں میں وہ خود سے گھر کے باہر جانے کے قابل نہیں ہوتا اس درمیان میں سب سے پہلے اس کی عقل کی تربیت ہوتی ہے۔ اس کی سمجھنے اور سوچنے کی قوت بڑھائی جاتی ہے۔ اگر وہ پہلے ہی دن سے بکری کے بچے کی طرح چھلانگے مارنے لگ جاتا تو اس کی عقل ناقص رہ جاتی۔ وہ ایک سال تک ایک جگہ پڑے پڑے صرف مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ ماں باپ اور گھر کے رشتہ داروں کا تعارف حاصل کرتا ہے ان سے محبت کا فیض اٹھاتا ہے اور خود بھی ان سے محبت کرتا ہے۔ ماں باپ کی محبت کے واسطہ سے ان کی صفات بھی اللہ تعالیٰ بچہ میں منتقل کراتا ہے۔ اس فطری محبت ہی کے ذریعہ بچہ باوجود ناسمجھ اور محتاج ہونے کے ماں باپ بھائی بہن نانی دادی، نانا دادا کے ذریعے اپنی تمام ضرورتیں بے فکری سے اور بغیر tention کے پوری کرلیتا ہے۔ اسی محبت کی وجہ سے اپنی تمام کمزوریوں معذوریوں اور مجبوریوں کے باوجود ہر چیز اور ہر تکلیفدہ اور نقصاندہ چیزوں سے اپنی پوری حفاظت بھی کروالیتا ہے۔ اسی پڑے رہنے کے زمانہ میں بچہ اپنے اطراف میں بکھری ہوئی چیزون کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ کانوں میں پڑنے والی آوازوں کے ذریعہ بھی اس کی عقل پر وان چڑھتی ہے۔ اسی اثناء میں پڑے پڑے وہ اپنے ہاتھ پیر ہلاتا رہتا ہے۔ پھر کچھ دن بعد گردن بھی موڑنے لگتا ہے۔ اس کے ہاتھ پاؤں کی یہ مسلسل حرکت اور آنکھوں کی مسلسل حرکت اس کے اعضاء وجوراح کے لئے ورزش کا کام دیتی ہے۔ اور اس طرح اس کی جسمانی نشوونما بھی ہوتی ہے۔ جب اس کو بھوک لگتی ہے یا کوئی اور ضرورت پیش آتی ہے تو رو کر ایک طرف تو وہ سارے گھر والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالیتا ہے تو دوسری طرف رو کر دل جیسے اندرونی اور اہم اعضا ء کو حرکت میں لا کر ان کو قوت پہنچاتا ہے۔ دوسرے حیوانات کے بچے صرف انسان کی خدمت کے لئے پیدا ہوئے ہیں نہ انہیں عقل کی زیادہ ضرورت ہے نہ انہیں زیادہ دن دنیا میں رہنا ہے اس لئے وہ شروع ہی سے بقدر ضرورت عقل کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ ہی انہیں پیدا کرتا ہے اور اللہ ہی انہیں ہدایت دیتا ہے۔
یہ اللہ کا نظام ربوبیت ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کا تعارف فرعون کے دربار میں اسی جملہ سے کروایا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو خلقت عطا کی اور ہر چیز کو ہدایت دی۔ ربنا الذین اعطیٰ کل شئی خلقہ ثمہ ھدیٰ ۔ مرغی کا چوزہ ، انڈے سے نکلتا ہے اور اس کو پتہ ہوتا ہے کہ کیا چیز کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ہے ۔ وہ اپنی متعین غذا کے ذرات ہی اپنی چونچ سے اٹھاتا ہے۔ وہ اپنے باپ کو تو پہنچانتا ہی نہیں اگر وہ گھریلو طریقہ پر انڈوں پر مرغی بٹھانے کے طریقہ سے پیدا ہوا ہے تو بھی اس کی ماں کا حقیقی ماں ہونا لازمی نہیں ہے۔ انڈا کسی اور مرغی کا ہے اور بیٹھی کوئی اور مرغی ہے ، پھر جو بھی ہے مرغی ۱۵! سے ۲۰! بچوں کی ماں ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر بچہ کی وہ نگرانی کرے کہ کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ہے یہ اللہ کا نظام ربوبیت ہے۔ انسان کا بچہ دو سال پورے گھر میں کرلینے کے بعد اور ایک حد تک سمجھ ھاصل کرنے کے بعد اب اپنے گھر کی دنیا سے باہر آتا ہے۔ اپنے گھر کی سامنے والی گلی میں نکلنا شروع کرتا ہے ۔ اب جو چلنا سیکھ لیا تو چلنے کی بجائے دوڑتا ہے۔ اب وہ چلنے کو شاید اپنے لئے معیوب سمجھتا ہے چند قدم بھی جانا ہے تو چل کر جانے کی بجائے دوڑ کر چلتا ہے۔ یہ بھی نظام ربوبیت ہے۔ اس کے اعضاء کو مضبوط کیا جارہا ہے۔ اس درمیان وہ گرتا پڑتا ہے آگے کی زندگی میں صدام کی طرح اسے جو مختلف حوادث اور موانع سے ٹکرانا ہے اس کی مشق کرائی جارہی ہے۔ ٹکراکر بھی نہ ٹوٹنے کے لئے اسے قوت مزاحمت دی جارہی ہے مگر بعض ماں باپ اس کے دوڑنے پر پابندی لگاتے ہیں۔ اگر وہ گرتا ہے تو ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ گویا اللہ کے نظام ربوبیت میں مزاحم ہونا ہے۔ فطری محبت میں بھی غلو نہ کیا جائے بچہ سے اسے دوڑنے بھاگنے اور کھیلنے کی آزادی دی جائے آگے اسے بہت کام کرنا ہے جب کام شروع کرے گا تو کھیلنے کا وقت نہیں ملے گا اور کمزور رہ جائیگا۔
بعض بچے جب بولنا شروع کرتے ہیں تو اپنے بڑوں سے خوب سوالات کرتے ہیں۔ ہر بات کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔ یہ ذہین بچے ہوتے ہیں جن کے اندر تحقیق کا اور تجسس کا جذبہ ہوتا ہے ماں باپ کے لئے تربیت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے سوالات کے اطمینان بخش اور صحیح جوابات دیئے جائیں ان کے سوالات کو لایعنی سمجھ کر انہیں دبا کر اور غصہ بتا کر چپ نہ کیا جائے یہ بچوں کے اندر صلاحیتوں کے ابھرنے کا وقت ہوتا ہے۔ یہ سوالات اللہ کی طرف سے ان کے ذہنوں میں ڈالے جارہے ہیں۔
اسی طرح بچوں میں ایک فطری رجحان ہوتا ہے مٹی میں کھیلنے سے ماں باپ انہیں روکتے ہیں۔بعض لوگ تو ایسے مٹی سے بچاتے ہیں جیسے زہر ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی ہی سے پیدا کیا ہے۔ اور ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے۔ مٹی بچوں کی ضرورت ہے اس لئے ان کا طبعی میلان مٹی کی طرف ہوتا ہے۔ مٹی میں بچوں کی تربیت کے لئے ضروری chemicals ہوتے ہیں اس لئے انہیں مٹی سے زیادہ روکا نہ جائے ہاں اعتدال ضروری ہے یہ نہیں کہ ہمیشہ مٹی ہی میں رہیں۔ یہ مٹی ہر انسان کی ضرورت ہے۔ بڑوں کی بھی ضرورت ہے ، س لئے اللہ نے نظام بنایا ہے کہ ہر ایک تک چاہے محلوں کے رہنے والے ہوں مٹی ذرات (dust) کی شکل میں خود بخود ہر ایک کے بدن تک پہنچ جاتی ہے اور پہنچتی رہتی ہے۔ انسان اس مٹی کو میل کی شکل میں بدن سے دور کرتا ہے۔ جس طرح ہوا ہر ایک تک خود بخود پہنچ جاتی ہے اس لئے کہ ضرورت کی چیز ہے ایسے ہی مٹی بھی ضرورت کی چیز ہے ، چاہے آپ جتنا بھی صفائی کا انتظام کریں ، مٹی آپ تک پہنچ کر رہے گی۔ بچوں کو اس مٹی کی ضرورت زیاد ہ ہوتی ہے اس لئے وہ زیادہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
مٹی ہی انسان کی اصل ہے۔ انسان اپنی حقیقت کو نہ بھولے شریعت میں اس کا انتظام کیا گیا ہے کہ جب میت کو دفن کیاجاتا ہے تو دفن کرنے والے قبر پر مٹی ڈالتے ہیں۔ اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ تین مرتبہ دونوں ہاتھوں سے لپ بھر بھر کر ڈالا جائے۔ پہلی مرتبہ میں منھا خلقنا کم دوسری بار میں وفیھا نعید کم اور تیسری بار میں ومنھا نخرجکم تارۃ اخریٰ پڑھا جائے۔ یہ پوری آیت اس طرح ہے۔ منھا خلقنا کم وفیھا نعید کم ومنھا نخرجکم تارۃ اخریٰ ترجمہ : ’’ ہم نے تم کو اس یمٹی سے پیدا کیا، اور اسی میں تم لوٹائے جاؤگے اور اسی مٹی سے دوبارہ نکالے جاؤگے ‘‘۔ شریعت کا کوئی عمل بھی بے کار اور بے فائدہ اور یونہی نہیں ہے جب انسان عبث نہیں پیدا کیا گیا تو اس کی زندگی کا کوئی بھی پہلو عبث اور بے کار نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے افحسبتم انما خلقنا کم عبثاً و انکم الینا لاترجعون ترجمہ : ’’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تم کو یونہی بیکار پیدا کردیا اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤگے ‘‘۔ دوسرے حیوانات انسان کی خدمت کے لئے ہیں۔ ان کی چھوٹی سی عمر ہے مرکر مٹی میں مل جانا ہے۔ ان کے لئے آخرت میں کوئی عذاب نہیں۔ نہ ان کے لئے جنت کا مسئلہ ہے نہ جہنم کا۔ بہت سے حیوانات جو حلال ہیں محض انسان کی غذا کے لئے ہے۔ ان میں جان اور ان کا سارا جسمانی نظام اس انسانی غذا کی حفاظت کے لئے ہے۔ یہ گائے ،بکری، مرغی۔چلتا پھرتا غذا کا حفاظتی نظام Mobile Protective System ہے۔ اس لئے جانوروں کے بچے بڑے بھی جلدی ہوجاتے ہیں۔ بالغ بھی جلدی ہوجاتے ہیں۔ افزائش نسل کے طریقے بھی ان میں جلدی جاری ہوجاتے ہیں۔ انسان کو ایک طویل زندگی گذار کر آخرت کی لامحدود زندگی کی تیاری کرنا ہے۔ اس لئے اللہ کی طرف سے انسان کی نشو نما اس طرح سے کی جاتی ہے کہ اس کے جسمانی اعضاء بھی دیر تک کام دیں عقل بھی پروان چڑھے۔
والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اسی دوران بچوں کو دین بھی سکھائیں تاکہ بڑے ہو کر حامل دین بن کر اپنی آخرت کی لامحدود زندگی سنواریں۔ انہیں صرف مرکر ختم نہیں ہوجانا ہے۔ انسانی زندگی کی ابتداء تو ہے لیکن انتہا نہیں ہے ۔Mathamatics کی زبان میں کہا جاسکتا ہے کہ انسانی زندگی ایک شعاع یعنی Ray کی طرح ہے جس کا مبداء تو ہے لیکن اختتامی نقطہ نہیں ہے۔ لیکن حیوانات کی زندگی ایک قطعہ خط کی طرح سے ہے جس کے دونوں سرے ہیں۔ اس کی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی ہے۔ وہ احکامات کے مکلف ہی نہیں ، جس جاندار کو جس مقصد کے لئے پیدا کردیا گیا وہ اسی میں لگا ہے۔ اپنے مقصد سے ہٹنا اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اور انسان کو اختیار دیا گیا ہے۔ اور اس کا انجام بہت خطرناک ہے۔ جواپنے مقصد سے ہٹے گا اس کا انجام جانوروں سے بھی بدتر ہوگا۔ وہ تو مٹی بنا دیئے جائینگے اور یہ انسان ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈالا جائیگا۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

حقیقتِ عاشورہ

اسلامی نقطہ نظر سے ۱۰! محرم کا دن یوم عاشورہ کہلاتا ہے۔ جو بڑی فضیلت کا دن ہے اور کئی خصوصیات کا حامل ہے۔ عاشورہ کا دن ہی قیامت کا دن ہوگا۔ عاشورہ کا دن پچھلی امتوں میں بھی متبرک سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ یہود کے نزدیک عاشورہ کا روزہ رکھنا فرض تھا۔ حضور صلعم نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیا لیکن یہود کی مخالفت کی بنا پر اس کے ساتھ ۹ یا ۱۱! محرم کا بھی روزہ رکھیں تاکہ ایک کی بجائے دو روزے ہوجائیں۔ دوسری بات جو حضور صلعم سے منقول ہے وہ عاشورہ کے دن اپنے دسترخوان کو وسیع رکھنے کی ہے۔ یعنی اچھا کھائیں اور کھلائیں۔ لیکن کسی کھانے کی تخصیص نہیں ہے۔ عاشورہ کے دن بہت سے تاریخی واقعات بھی ہوئے ہیں، مثلاً آدم علیہ السلام کا پتلا اسی دن بنایا گیا۔ یوسف علیہ السلام اسی دن جیل سے نکالے گئے۔ نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد اسی دن جودی پہاڑ پر لگی۔ آدم علیہ السلام کی توبہ اُسی دن قبول ہوئی۔ یونس علیہ السلام کو اسی دن مچھلی نے اگلا۔ یعقوب علیہ السلام کو اسی دن بینائی واپس ملی۔ بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات اسی دن ملی۔ موسیٰ علیہ السلام کو تورات اسی دن ملی۔ عزوہ خیبر اسی دن واقع ہوا۔ سلیمان علیہ السلام کو حکومت اسی دن ملی ۔ ابراہم علیہ السلام کو اسی دن آگ میں ڈالا گیا۔
آج عام ذہنیت یہ بنی ہوئی ہے کہ عاشورہ کے دن کو حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا دن سمجھاجاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت ۱۰! محرم ہی کو واقع ہوئی تھی۔ لیکن یہ شہادت اس دن کی فضیلت کی وجہ نہیں ہے۔ یہ تو ایک تقدیری فیصلہ ہے کہ حضرت امام حسین کو شہادت کے لئے وہی دن ملا۔ دین تو حضور صلعم پر مکمل ہو چکا تھا اور یہ واقعہ حضور صلعم کی بعثت کے نصف صدی بعد کا ہے۔ اس میں اصل ہاتھ اہل تشعیع حضرات کا ہے کہ انہوں نے عاشورہ یعنی حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا دن مشہور کردیا۔ ورنہ تاریخ اسلام تو بڑی بڑی شخصیتوں کے شہادت کے واقعات سے پُر ہے۔ ہم لیکن کسی کی بھی شہادت کا دن نہیں مناتے ورنہ سال کا کوئی بھی دن ایسا نہیں ملے گا جس میں کسی نہ کسی عظیم شخصیت کی شہادت نہ ہوئی ہو۔ یہ شیعہ فرقہ کا مکر ہے کہ وہ اہل بیت کی محبت کا سہارا لیکر مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہ بھی حق ہے کہ اہل بیت کی محبت ایمان کا جزو ہے لیکن اسلام میں اس کی کہاں گنجائش ہے کہ ہم شہیدوں کی شہادت پر ماتم کریں اور غم منائیں یہ شہیدوں کی تعظیم نہیں توہین ہے۔ نبی اور صدیق کے بعد اللہ کے نزدیک شہید ہی کا درجہ سب سے بڑا ہوا ہے۔ شہید ہونا مرنا نہیں ہے وہ تو ایک زندگی ہے جس کا ہم شعور نہیں رکھتے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون ۔ ’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیںانہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم اس کا شعور نہیں رکھتے ‘‘۔ دوسری جگہ تو شہیدوں کو مردہ سمجھنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔فرمایا : ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا ۔ ’’ جو لوگ اللہ کے راستہ میں قتل کئے گئے ہیں انہیں مردہ مت گمان کرو ‘‘۔
حدیث میں ہے کہ شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ اور باقی قطرات سے اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ شہید کو موت کے وقت اتنی بھی تکلیف نہیں ہوتی جتنی کہ چیونٹی کے کانٹنے سے ہوتی ہے۔ شہادت تو ایسا اعزاز ہے جس کو حاصل کرنے کی ہر مسلمان کو تمنا ہونا چاہئے۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کے دل میں شہادت کی تمنا نہیں تھی تو وہ جہالت پر مرا۔
اب غور مرمالیئے کیا شہادت ماتم کرنے کی اور غم منانے کی بات ہے۔ فطری غم ہونا اور بات ہے اور تضع کے ساتھ اظہار غم کرنا فریب ہے۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں جو واقعات شہادت کے ہوئے ہیں انہیں ہم کیوں نہیں مناتے ۔ خود حضرت امام حسین ؓ کے والد حضرت علیؓ بھی تو شہید کئے گئے ہیں ان کی شہادت کیوں نہیں مناتے۔ حضرت عمرؓ بھی توشہید ہوئے ان کی شہادت بھی یکم محرم ۲۴ھ میں ہوئی ۔ مسلمانوں کو شاید یہ تاریخ بھی نہ پتہ ہو۔ حضرت عمر ؓ کا اسلام میں کیا مقام ہے۔ حضور صلعم کے خلیفہ دوم ہیں۔ حضور صلعم نے فرمایا : لوکان بعدی نبی لکان عمر ولکن لا نبی بعدی ’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ؓ ہوتا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ‘‘۔ حضرت عمر ؓ کے کارنامے اسلام میں ایسے ہیں کہ عالم اسلام قیامت تک نہیں بھلا سکتا۔ حضرت عثمان غنیؓ بھی شہید کئے گئے اور ان کی شہادت بھی بڑی دردناک انداز سے ہوئی۔ کئی دن کے محاصرہ سے ان پر کھانا پانی بند کردیا گیاتھا۔ یہ بھی وہ مایہ ناز شخصیت ہے جن کا سارے عالم اسلام پر احسان ہے۔ حضور صلعم کی دو بیٹیاں ان کے نکاح میں رہیں۔ جب دوسری بیٹی کا بھی وصال ہوگیا تو حضور نے فرمایا کہ اگر میری سو بیٹیاں ہوتیں اور ایک ایک کرکے عثمانؓ کے نکاح میں انتقال کرجاتی تو میں سو دے دیتا۔ مگر کبھی آپ نے شہادت عثمان کا دن بھی منایا ہے؟
حضور صلعم کے حقیقی چچا حضرت ہمزاء ؓ کی شہادت غزوہ احد میں یاد کرنے کے قابل ہے ان کا دل چبایا گیا ۔ ان کے ناک اور کان کانٹے گئے ان کا ہار بنا کر ایک خاتون نے پہنا ( جو بعد میں مسلمان ہوگئیں تھیں) کبھی آپ نے ان کی شہادت منانے کا بھی اہتمام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ کبھی نہیں حالانکہ یہ حضور صلعم کے چچا ہیں اور حضور صلعم نے انہیں سید الشہداء یعنی شہیدوں کے سردار کا خطاب دیا ۔ یہ حضور صلعم کے سامنے شہید ہوئے ہیں۔ غزوہ احد میں حضور صلعم خود موجود تھے۔
حضرت حسن اور حسین ؓ کے بارے میں حضور صلعم کا ارشاد ہے سید اشباب اہل الجنۃ یعنی یہ دونوں نواسے جنت کے جوانوں کے سرادار ہونگے۔ان تمام حقائق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا دن منانا محض جہالت ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ حضرت حسین نے تو رخصت کی بجائے عزیمت پر عمل کرنے کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کو تاریخ اسلام میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جاتا رہنگا۔ اگر ہم اس دن کو شہادت کے ساتھ یاد کریں تو اس عزم کے ساتھ کہ ہم ہمیشہ عزیمت پر عمل کرینگے۔ رخصت پر نہیں ۔ ان کی شہادت لشکر یزید کی فتح نہیں شکست تھی۔

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

حضرت امام حسین ؓ نے تو یزید کی شخصیت کو بے نقاب کردیا اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اس کی سیرت پر بادشاہت کا پردہ پڑا ہوتا اور فاتحین اسلام میں اس کا شمار ہوجاتا اور اس کی شقاوت ڈھکی رہتی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔

No comments:

Post a Comment